ایرانی حملہ ناقابل قبول، جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں: قطری وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 24th, June 2025 GMT
ایرانی حملہ ناقابل قبول، جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں: قطری وزیراعظم WhatsAppFacebookTwitter 0 24 June, 2025 سب نیوز
دوحہ: (آئی پی ایس) قطر کے وزیراعظم محمد بن عبدالرحمن جاسم نے دوحہ کے قریب امریکی اڈے پر ایرانی حملہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی حملہ ناقابل قبول ہے، قطری فضائیہ نے کامیابی سے دفاع کیا، جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
لبنانی وزیراعظم کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے محمد بن عبدالرحمن جاسم نے کہا کہ ایران اوراسرائیل نے جنگ بندی معاہدے پر اتفاق کیا، خطے میں امن کے خواہاں ہیں۔
قطری وزیراعظم نے بتایا کہ قطر کے امیر نے امریکا کے صدر سے فون پر پیشرفت پر گفتگو کی، ابھی کچھ منٹ پہلے امیر قطر کو ایرانی صدر کا فون آیا، ایرانی صدر نے قطر میں امریکی اڈے کو نشانہ بنانے پراظہار افسوس کیا، امیر قطر نے جواب دیا کہ ہم ایران سےاس طرح کے اقدامات کی توقع نہیں کرتے۔
قطری وزیراعظم محمد بن عبدالرحمن نے کہا کہ لبنان کے پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی خواہش کی حمایت کرتے ہیں، قطر کی ریاست پر حملہ ناقابل قبول اورسفارتی آداب کی خلاف ورزی ہے، اس معاملے پر خلیج تعاون کونسل کی دوست ریاستوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی حملے سے ہمیں حیرت ہوئی، قطری فضائیہ نے ایک کے سوا تمام ایرانی میزائلوں کو روکا، خطے میں ہونے والی تبدیلیوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں، ہم اسرائیل سے تنازع حل کرنے پر کام کر رہے ہیں، غیر ذمہ دارانہ اقداما ت سے عدم استحکام پیدا ہوتا ہے، امریکی دوستوں نے مشورہ دیا کہ ایران سے بات چیت کی جائے۔
محمد بن عبدالرحمٰن نے کہا کہ ایران کے حملے پر ہمیں حیرت ہوئی تھی، امریکا نے جنگ بندی کے لیے قطر کو ایران سے رابطے کا کہا، ہم نے اس مقصد کے حصول کے لیے مؤثر سفارتی روابط قائم کیے۔
ان کا کہنا ہے کہ ایران اسرائیل تنازع کا سفارتی حل چاہتے ہیں، اُمید ہے سفارتکاری کامیاب اور جنگ بندی برقرار رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ امید کرتے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال جلد از جلد قابو میں آ جائے گی، مصر اور امریکا کے ساتھ مل کرغزہ میں جنگ بندی کے حصول کی کوششیں جاری ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے خطے کو جنگ میں دھکیلنے کی کوشش کی، جی سی سی ریاستیں ایسے حملوں کی مذمت کرتی ہیں۔
قطر کا اقوام متحدہ کو خط، امریکی اڈے پر حملے کی مذمت
قطر نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو ایک خط ارسال کیا ہے جس میں پیر کے روز امریکہ کے زیرِ انتظام العدید ہوائی اڈے کو نشانہ بنانے والے ایرانی حملے کی مذمت کی گئی ہے۔
قطر کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ خط میں اس حملے کو ’انتہائی خطرناک‘ قرار دیا گیا ہے جو قطر کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب کا میزائل حملہ ’علاقائی امن اور سلامتی کے لئے براہ راست خطرہ‘ ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ قطر کی ریاست نے اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ اس کھلی جارحیت کی نوعیت اور پیمانے کے مساوی اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق براہ راست جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
قطر کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس نے ایرانی سفیر کو بھی طلب کر لیا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرجدہ میں قائم پاکستان انٹرنیشنل سکول بینظیر کا اوورسیز پاکستانیز کے لیے بہترین تحفہ ہے ،تصور چوہدری چین کا اسلامی تعاون تنظیم کے ساتھ مل کر باہمی تعلقات کے فروغ کے لئے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کا اعلان بات چیت ہی ایرانی جوہری مسئلے کے حل کا واحد درست راستہ ہے، چینی میڈیا بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے اجلاس میں چینی سفیر کی ایران پر امریکی حملے کی مذمت چینی صدر جاپانی جارحیت اور فاشزم کے خلاف فتح کی 80ویں سالگرہ کی تقریب میں شرکت کریں گے اسلام آباد ہائیکورٹ میں ججز کی تعیناتیاں یہی سے ہونی چاہئیں، جسٹس (ر) شوکت صدیقی وزیراعظم کی پاکستانی معیشت کو مستحکم کرنے میں چین کے تعاون کی تعریفCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: حملہ ناقابل قبول ایرانی حملہ جواب دینے نے کہا کہ کہ ایران کی مذمت کے لیے قطر کی
پڑھیں:
آبنائے ہرمز میں کشیدگی میں اضافہ: قشم جزیرے پر امریکی حملے، ایران کے کویت اور بحرین میں امریکی اہداف پر وار
آبنائے ہرمز کے قریب واقع ایرانی جزیرے قشم پر امریکی فوج کی کارروائی کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ امریکا کا کہنا ہے کہ اس نے ’اپنے دفاع‘ کے تحت حملہ کیا، جبکہ ایران نے جواباً کویت اور بحرین میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
دونوں جانب سے حملوں اور جوابی کارروائیوں کے دعووں کے باوجود واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی اب بھی برقرار ہے۔
امریکی فوج نے تصدیق کی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں واقع ایران کے قشم جزیرے پر ’ اپنے دفاع‘ کے تحت حملے کیے، جبکہ ایران کی جانب سے کویت اور بحرین میں امریکی تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے کویت میں تعینات امریکی افواج کو نشانہ بنانے کے لیے ڈرونز کی ایک نئی لہر بھیجی گئی، تاہم یہ حملہ ناکام بنا دیا گیا۔
ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں کی ذمہ دار سینٹکام کے مطابق امریکی فضائی دفاعی نظام نے متعدد ڈرونز کو مار گرایا اور اس کارروائی میں کسی امریکی اہلکار یا فوجی اثاثے کو نقصان نہیں پہنچا۔
تازہ حملوں کی یہ اطلاعات اس وقت سامنے آئیں جب ایران کے پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے اعلان کیا کہ قشم جزیرے پر رات گئے امریکی حملے کے جواب میں کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
سینٹکام نے بدھ کی صبح جاری بیان میں کہا تھا کہ اس نے قشم جزیرے پر واقع ایک ایرانی زمینی کنٹرول اسٹیشن پر دفاعی نوعیت کی کارروائی کی۔
دوسری جانب امریکی فوج نے پاسدارانِ انقلاب کے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ بحرین میں امریکی پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈکوارٹر اور خطے میں واقع ایک امریکی فضائی اڈے کو نشانہ بنایا گیا۔
ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں سینٹکام نے کہا کہ پاسدارانِ انقلاب کے دعوے حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔
بیان میں کہا گیا، ’امریکی افواج کے خلاف ایران کے تمام حملے ناکام رہے۔ امریکی فوج ہر وقت چوکس ہے اور کسی بھی بلاجواز ایرانی جارحیت کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔‘
ادھر ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے پاسدارانِ انقلاب کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان حالیہ فوجی جھڑپوں کی تفصیلات جاری کی ہیں۔
پاسدارانِ انقلاب کے مطابق یہ سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب امریکی افواج نے آبنائے ہرمز کے قریب ایک ایرانی آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں اس کے انجن روم کو نقصان پہنچا۔
ایرانی فورس کے مطابق اس کے جواب میں ایک امریکی اسرائیلی جہاز پر بحری میزائلوں سے حملہ کیا گیا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اس کے بعد امریکی افواج نے قشم جزیرے کے جنوب میں واقع پاسدارانِ انقلاب کے ایک مواصلاتی ٹاور کو نشانہ بنایا۔
پاسدارانِ انقلاب کا دعویٰ ہے کہ اس کے بعد اس نے میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے ایک امریکی فضائی اڈے، امریکی پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈکوارٹر اور خطے کے ایک ملک میں موجود امریکی ہیلی کاپٹروں کو نشانہ بنایا۔
دوسری جانب امریکی فوج نے اپنے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے قشم جزیرے پر دفاعی نوعیت کی کارروائی کی اور ساتھ ہی متعدد ایرانی بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کو کامیابی سے تباہ کیا۔
سینٹکام کے مطابق ایران نے خطے کے پڑوسی ممالک کی جانب کئی بیلسٹک میزائل داغے، تاہم کوئی بھی اپنے ہدف تک نہ پہنچ سکا۔
امریکی بیان میں کہا گیا کہ کویت کی جانب فائر کیے گئے دو ایرانی میزائل راستے ہی میں گر گئے یا ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے، جبکہ بحرین کی طرف داغے گئے تین میزائلوں کو امریکی اور بحرینی فضائی دفاعی نظام نے فوری طور پر تباہ کر دیا۔
واضح رہے کہ بحرین اور کویت میں حالیہ دنوں فضائی حملے کے خطرے کے سائرن بھی بجائے گئے تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں