ایم ڈبلیو ایم کے وفد کا خانہ فرہنگ اسلامی جمہوریہ ایران ملتان کا دورہ، امریکی و اسرائیلی حملے کی مذمت
اشاعت کی تاریخ: 24th, June 2025 GMT
ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی وائس چیئرمین علامہ سید احمد اقبال رضوی کا کہنا تھا کہ ایران پر اسرائیلی و امریکی جارحیت صیہونیت کے خاتمے کا باعث بنے گی، آج دنیا کے حریت پسند ممالک اور لیڈر ایران کے ساتھ کھڑے ہیں، پاکستانی حکومت اور پوری قوم اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی وائس چیئرمین علامہ سید احمد اقبال رضوی نے وفد کے ہمراہ ملتان میں خانہ فرہنگ اسلامی جمہوری ایران کا دورہ کیا، اس موقع پر ایران پر امریکی و اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی، انچارج خانہ فرہنگ خانم زاہدہ بخاری نے ایم ڈبلیو ایم کے وفد کا شکریہ ادا کیا۔ ایم ڈبلیو ایم کے وفد میں صوبائی آرگنائزر جنوبی پنجاب علامہ قاضی نادر حسین علوی، صوبائی صدر عزاداری ونگ انجینئر مہر سخاوت علی سیال، مرکزی صدر ایمپلائز ونگ سلیم عباس صدیقی، سید ندیم عباس کاظمی، مولانا ساجد رضا اسدی، عون رضا انجم گوپانگ، صفدر حسین خان، سید تقی گردیزی اور دیگر موجود تھے۔ اس موقع پر ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی وائس چیئرمین علامہ سید احمد اقبال رضوی کا کہنا تھا کہ ایران پر اسرائیلی و امریکی جارحیت صیہونیت کے خاتمے کا باعث بنے گی، آج دنیا کے حریت پسند ممالک اور لیڈر ایران کے ساتھ کھڑے ہیں، پاکستانی حکومت اور پوری قوم اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ کھڑے ہیں، اسرائیل اعصابی طور پر جنگ میں شکست کھا چکا ہے، امریکہ و اسرائیل دنیا کے امن کے لیے خطرہ ہیں، انہوں نے یمن، فلسطین، عراق، لیبیا، شام میں خانہ جنگی کی اور اب یہ کھیل ایران میں کھیلنا چاہتے ہیں ، اگر ان وحشیوں کا راستہ نہ روکا گیا تو پاکستان ان کا اگلا ہدف ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔