ائر انڈیا کی پرواز میں ایک ساتھ مسافروں کی طبیعت بگڑ گئی
اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک)بھارتی ائر لائن ائر انڈیا کی پرواز ایک بار پھر اس وقت خبروں کی زینت بن گئی جب جہاز میں سوار مسافر پراسرار طور پر ایک ساتھ بیمار ہونا شروع ہوگئے۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق لندن سے ممبئی آنے والی ائر انڈیا کی پرواز میں 2 کریو ممبر سمیت 7 افراد ایک ہی جیسی بیماری میں مبتلا ہوگئے اور اس صورتحال نے فضائی ماہرین کو بھی پریشان کردیا۔ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق فضائی عملے کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ
پرواز میں سوار 7 افراد نے دوران سفر پیٹ میں درد، چکر اور متلی کی شکایت کی تاہم اس کے باوجود فلائٹ بحفاظت اپنی منزل پر لینڈ کرنے میں کامیاب رہی۔رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ فلائٹ لینڈنگ کے بعد متاثرہ مسافروں کو فوری طبی طور پر طبی امداد فراہم کی گئی۔ائر انڈیا کے ترجمان نے واقعے پر جاری بیان میں کہا کہ اس حوالے سے تحقیقات جاری ہیں تاہم یہ واضح نہیں کہ فلائٹ میں مسافروں کی بیماری کی وجہ کیا ہے۔میڈیا رپورٹس میں کیبن ڈپریشن کو مسافروں کی پراسرار بیماری کی وجہ بتایا جارہا ہے۔بھارتی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ کیبن میں آکسیجن کی سطح کم ہونے پر مسافروں کو چکر کی شکایت محسوس ہوسکتی ہے تاہم دیگر ذرائع نے بتایا کہ کیبن میں آکسیجن کی شرح میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی، فوڈ پوائزننگ کی وجہ سے بھی مسافروں کو چکر اور متلی آسکتی ہے۔واضح رہے کہ کچھ عرصہ قبل بھارتی شہر احمد آباد میں سرکاری ائرلائن ائر انڈیا کا مسافر طیارہ گر کر تباہ ہوگیا تھا جس میں سوار 241 مسافر ہلاک ہوگئے جب کہ ایک مسافر معجزانہ طور پر محفوظ رہا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
اسلام آباد:پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔
وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔
بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔