’مجھے بھی بالی ووڈ کی ضرورت نہیں‘، دلجیت دوسانجھ نے تنقید پر واضح اعلان کردیا
اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT
بھارتی پنجابی فلم ’سردار جی 3‘ کا ٹریلر ریلیز ہونے کے بعد دلجیت دوسانجھ اور ان کی فلم کے بائیکاٹ کی مہم زور پکڑ گئی ہے اور ان کے پاسپورٹ منسوخ کیے جانے کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔
ایسے میں انہوں ںے ایک انٹرویو میں کہا کہ جب انہوں نے یہ فلم سائن کی تب بھارت اور پاکستان کے درمیان حالات ٹھیک تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد بہت سی چیزیں ہوئیں جو ہمارے کنٹرول میں نہیں ہیں۔ جب پہلگام حملہ ہوا تو پروڈیوسرز کو معلوم تھا کہ اب یہ فلم بھارت میں ریلیز نہیں ہو سکتی۔ لیکن انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ یہ فلم بیرونِ ملک ریلیز کریں گے کیونکہ انہوں نے اس پر بہت پیسہ لگایا ہے۔
اب ان کا ایک پرانا ویڈیو کلپ بھی سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے جس میں وہ یہ کہتے نظر آ رہے ہیں ’مجھے بالی ووڈ میں کام کرنے کا کوئی شوق نہیں ہے۔ مجھے ایک بڑا بالی ووڈ اسٹار بننے کی بھی کوئی خواہش نہیں ہے‘۔
View this post on Instagram
A post shared by BritAsia TV (@britasiatv)
دلجیت دوسانجھ کا کہنا تھا کہ ’مجھے بالی ووڈ میں کام نہیں کرنا، میری ایسی کوئی خواہش نہیں ہے کہ میں بالی ووڈ میں کوئی بہت بڑا اداکار بن جاؤں۔ میں میوزک کو پیار کرتا ہوں اور کسی کی مرضی کے بغیر بھی میں میوزک بنا سکتا ہوں۔ کوئی بندہ مجھے روک نہیں سکتا جب تک میرا دل کرے گا میں میوزک بناؤں گا اور بالی ووڈ میں کوئی کام ملے یا نہ ملے مجھے اس کی ذرا پرواہ نہیں ہے‘۔
واضح رہے کہ سردار جی 3 کو بیرون ملک میں 27 جون کو ریلیز کیا جا رہا ہے تاہم بھارت میں اس فلم کی ریلیز نہیں ہوگی۔ یہ ایک کامیڈی فلم ہے جس میں دلجیت دوسانجھ اور ہانیہ عامر کو بھوتوں کا پیچھا کرتے دکھایا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بالی ووڈ دلجیت دوسانجھ سردار جی 3 ہانیہ عامر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بالی ووڈ دلجیت دوسانجھ ہانیہ عامر دلجیت دوسانجھ بالی ووڈ میں نہیں ہے
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔