مشرق وسطیٰ میں بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ بے نقاب، خطے کی سائبر سیکیورٹی کو شدید خطرات لاحق
اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT
چین اور ایران کی مشترکہ تحقیقات نے بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ سے پردہ اٹھا دیا۔ مشرق وسطیٰ میں جاری بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ خطے کی سلامتی کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا رہا ہے۔
خلیجی ممالک میں بڑی تعداد میں بھارتی شہری آباد ہیں۔ متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، قطر، بحرین اور عمان میں 9 ملین سے زائد بھارتی مقیم ہیں۔ متحدہ عرب امارات میں مقیم 4.
اس حوالے سے چین اور ایران کی مشترکہ تحقیقات کے مطابق؛ ’’بیشتر بھارتی پروگرامرز اسٹار لنک کے ذریعے بھارت سے براہ راست رابطے میں سرگرم پائے گئے‘‘۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارتی سافٹ ویئر انجینئرز نے خلیجی ریاستوں میں ایران مخالف سافٹ ویئر کی تیاری میں اہم کردار ادا کیا۔
https://cdn.jwplayer.com/players/6x8hNnAc-jBGrqoj9.html
ذرائع کے مطابق ایران میں استعمال ہونے والے سافٹ ویئر کے ذریعے حساس مقامات کی تفصیلات اسرائیل منتقل ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ مزید یہ کہ ایران میں 8 سے 10 سالہ منصوبہ بندی کے تحت تخریب کاری یونٹس نصب کیے گئے۔
خلیجی ممالک میں مقیم بھارتیوں کے اسرائیل سے گٹھ جوڑ کے باعث پاکستان سمیت خطے کی سائبر سیکیورٹی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ پہلگام فالس فلیگ کی آڑ میں اسرائیل کی معاونت سے بھارت نے پاکستان پر بھی اسی طرز کی جارحیت کی۔
مودی سرکار پاکستان کو عالمی سطح پر غیر مستحکم کرنے کےلیے بین الاقوامی فورمز کو ہتھیار بنا رہی ہے۔ بھارت پاکستان میں منظم طریقے سے دہشتگردی پھیلا رہا ہے۔
پاکستان میں دہشتگردی کےلیے بھارت کی فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کی سرپرستی کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان کے خلاف بھی اسی طرز کی سازش کی جا سکتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ سافٹ ویئر
پڑھیں:
ایران میں تعمیر نو کی رفتار پر اسرائیل حیران ہے، وال اسٹریٹ جرنل
رپورٹ میں ایک اسرائیلی فوجی عہدیدار کے حوالے سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران نے ایک ایسا پل، جسے اسرائیلی فوج نے تین بموں سے نشانہ بنایا تھا، صرف چند دنوں میں دوبارہ تعمیر کر دیا۔ اس عہدیدار کے مطابق اس پیش رفت نے اسرائیلی فوجی کمانڈروں کو حیران کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیل ایران میں تعمیر نو کی رفتار پر حیران ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی ایک رپورٹ میں اسرائیلی اور مغربی حکام کے حوالے سے، نیز سیٹلائٹ تصاویر کے جائزے کی بنیاد پر، رپورٹ کیا ہے کہ ایران نے حالیہ مہینوں میں امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے متاثر ہونے والے اپنے بنیادی ڈھانچے کا ایک بڑا حصہ مختصر عرصے میں دوبارہ تعمیر کر لیا ہے۔ اخبار کے مطابق اس پیش رفت نے بعض اسرائیلی حکام میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق تعمیرِ نو میں پہاڑوں کے اندر قائم میزائل اڈے، پل، بندرگاہیں اور صنعتی پیداواری تنصیبات شامل ہیں، اور اس کام کی رفتار اسرائیلی حکام کے ابتدائی اندازوں سے کہیں زیادہ رہی ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق یہ تیز رفتار بحالی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ایران، امریکہ اور اسرائیل کی وسیع فضائی مہم کے باوجود، جس میں جنگ کے عروج پر 20 ہزار سے زائد حملے کیے گئے اور اب بھی ایران کے ساحلی علاقوں میں جاری ہے، اپنی دفاعی اور صنعتی صلاحیت کو برقرار رکھنے اور بحال کرنے کی قابلِ ذکر استعداد رکھتا ہے۔
اخبار نے سیٹلائٹ تصاویر کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ کنگاور کے قریب مارچ میں ہونے والے فضائی حملوں میں ایک میزائل اڈے کی دو سرنگوں کے داخلی راستے اور وہاں جانے والی سڑک تباہ کر دی گئی تھی، تاہم چند ہی ہفتوں بعد نئی تصاویر میں اس مقام پر نئی پختہ سڑک اور تازہ کھودی گئی سرنگوں کے داخلی راستے دکھائی دیے۔رپورٹ میں ایک اسرائیلی فوجی عہدیدار کے حوالے سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران نے ایک ایسا پل، جسے اسرائیلی فوج نے تین بموں سے نشانہ بنایا تھا، صرف چند دنوں میں دوبارہ تعمیر کر دیا۔ اس عہدیدار کے مطابق اس پیش رفت نے اسرائیلی فوجی کمانڈروں کو حیران کر دیا اور انہیں اپنے حملوں کی مؤثریت پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور کیا۔ رپورٹ کے ایک اور حصے میں کہا گیا ہے کہ جولائی کے اوائل کی سیٹلائٹ تصاویر سے بندر انزلی میں واقع ایک جہاز سازی کے کارخانے کے بعض حصوں کی تعمیرِ نو کا آغاز بھی ظاہر ہوتا ہے۔ اسرائیل اس تنصیب کو آئی آر جی سی سے منسلک قرار دیتا ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق اسرائیل نے مارچ میں اس کمپلیکس، بندرگاہی تنصیبات، کمانڈ سینٹر اور دیگر اہداف کو اس مقصد سے نشانہ بنایا تھا کہ روس اور ایران کے درمیان سازوسامان کی ترسیل کے راستے کو منقطع کیا جا سکے۔ اسرائیل کے فضائی اور میزائل دفاعی نظام کے سابق کمانڈر ران کوخاو نے وال اسٹریٹ جرنل سے گفتگو میں کہا: "انہوں نے اپنے اسلحہ خانے دوبارہ بھر لیے ہیں۔ ایران کے پاس صنعتی صلاحیت اور تعمیرِ نو کی غیر معمولی استعداد موجود ہے۔" وال اسٹریٹ جرنل نے مزید لکھا کہ اگرچہ ایران کو امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے اب بھی ایک مہنگے اور وقت طلب عمل کا سامنا ہے، تاہم بنیادی ڈھانچے کی تیز رفتار بحالی نے ڈونلڈ ٹرمپ اور بنیامین نیتن یاہو کے ان دعوؤں کو چیلنج کیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ ایران کی صلاحیتوں کو فیصلہ کن اور تباہ کن نقصان پہنچایا گیا ہے۔
رپورٹ کے اختتام پر یہ بھی کہا گیا کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کو اپنے اپنے ممالک میں ان اہداف کے حصول میں ناکامی پر سیاسی دباؤ کا سامنا ہے جن میں ایران میں نظام کی تبدیلی، ایرانی جوہری پروگرام کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل طور پر کھلوانا شامل تھا۔