data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

بھارتی بحریہ ایک بار پھر شدید بحرانی کیفیت سے دوچار ہے۔ جدید ترین آبدوزیں خریدنے کا اُس کا خواب شرمندۂ تعبیر ہونے کی منزل سے بہت دور ہے۔ بھارتی بحریہ کے لیے جدید ترین آبدوزیں خریدنے کے عمل میں بیورو کریسی کی پیدا کردہ رکاوٹیں بھی حائل ہیں۔

پاکستان سے حالیہ معرکہ آرائی میں بھارتی فضائیہ کی کمزوریاں کھل کر سامنے آئیں۔ ایسے میں بھارتی بحریہ پر شدید دباؤ مرتب ہوا ہے کیونکہ بھارتی قیادت چاہتی ہے کہ اُس کی بحریہ بلیو واٹر نیوی بنے یعنی وہ کُھلے اور گہرے سمندروں میں کُھل کر کارروائیاں کرنے کے قابل ہوجائے۔ پاکستان کو مجموعی طور پر گرے واٹر نیوی تصور کیا جاتا ہے یعنی ایسی بحریہ جو اپنے قریب ترین پانیوں تک محدود رہتی ہے اور مہم جُوئی کی سکت نہیں رکھتی۔ مہم جوئی کی سکت تو بھارتی بحریہ میں بھی نہیں ہے۔ بھارتی بحریہ کو ایک طرف تو آبدوز کے بیڑے میں کمی کا سامنا ہے اور دوسری طرف اُس کے پاس جدید ترین ٹیکنالوجیز بھی نہیں۔ چین اور پاکستان نے مل کر اُس کا ناک میں دم کردیا ہے۔

بھارتی بحریہ کے آبدوزوں کے بیڑے کو مضبوط بنانے کا تیس سالہ پروگرام مطلوب نتائج پیدا کرنے میں ناکام رہا ہے۔ کئی بڑے سودے رُلے ہوئے ہیں۔ بھارتی قیادت لاگت یا قیمت کے حوالے سے فیصلہ کرنے کی سکت سے محروم دکھائی دے رہی ہے۔ تاخیر کے باعث منصوبوں کی لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بھارتی بحریہ کے لیے جو جدید ترین آبدوزیں، تباہ کن جہاز، نگرانی کا سامان اور دیگر چیزیں حاصل کی جانی ہیں وہ اِس لیے حاصل نہیں ہو پارہیں کہ سُرخ فیتہ آڑے آگیا ہے۔

ملائیشیا کی معروف ویب سائٹ ڈیفینس سیکیورٹی ایشیا نے لکھا ہے کہ چین اور پاکستان مل کر اپنی بحری قوت میں غیر معمولی رفتار سے اضافہ کر رہے ہیں۔ پاکستان اپنی بحریہ کی تجدید کا عمل تیز کرچکا ہے۔ اُس کی دفاعی اور جوابی کارروائی کی صلاحیت میں غیر معمولی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے مگر دوسری طرف بھارتی بحریہ شدید بحرانی کیفیت میں مبتلا ہے۔ حکومت فیصلے نہیں کر پارہی اور اِس کے نتیجے میں یہ تاثر تیزی سے پروان چڑھ رہا ہے کہ پاکستان اور چین مل کر بھارت کو حصار میں لے رہے ہیں۔ یہ تاثر بھارت کی معاشی قوت اور کارکردگی پر بھی اثر انداز ہو رہا ہے۔ سیاسی قیادت پر تنقید کا گراف تیزی سے بلند ہو رہا ہے۔ اپوزیشن مودی سرکار کو نشانے پر لیے ہوئے ہے۔ اُس کا کہنا ہے کہ دفاعی صلاحیتوں کا گراف بلند کرنے کا معاملہ سرد خانے میں ڈال دیا گیا ہے۔ چین اور پاکستان کی بڑھتی ہوئی عسکری قوت کے تناظر میں بھارت کو جو کچھ کرنا ہے وہ نہیں کیا جارہا اور اِس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ اس حوالے سے سیاسی عزم کی شدید کمی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بھارتی بحریہ ہو رہا ہے

پڑھیں:

بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے

لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.

(جاری ہے)

سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں.

شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی .

ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.

متعلقہ مضامین

  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف