دریائے سوات کنارے دفعہ 144 نافذ، تمام ہوٹلز اور تفریحی سرگرمیاں بند
اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT
ویب ڈیسک :صوبائی حکومت نے مون سون بارشوں کے دوران کسی جانی یا مالی نقصان سے بچنے کے لیے دریائے سوات کے اطراف تمام ہوٹلز، ریسٹورنٹس اور تجارتی سرگرمیاں بند کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
حکام کے مطابق صوبہ بھر میں دریاؤں اور ندی نالوں میں تفریحی سرگرمیوں پر پہلے ہی دفعہ 144 نافذ کی جا چکی ہے،ضلعی اور مقامی انتظامیہ نے سیاحوں اور مقامی افراد کو ریور بیڈزمیں جانے سے روکنے کے لیے بھرپورآگاہی مہم بھی شروع کی ہے.
مخصوص نشستوں کی بحالی کا فیصلہ؛ کس پارٹی کو کیا ملا
ذرائع ابلاغ،سوشل میڈیا اور پبلک اعلانات کے ذریعے عوام کو خبردار کیا جا رہا ہے کہ وہ اپنی جانوں کو خطرے میں نہ ڈالیں اور مون سون کے دوران دریاؤں سے دور رہیں۔
انتظامیہ نے ایک بار پھر سیاحوں اور شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ہدایات پرسختی سے عمل کریں اورکسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر کو سنجیدگی سے لیں۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔