روز ویلٹ ہوٹل کی فروخت کیلئے قیمت مقرر سے متعلق خبریں گمراہ کن قرار
اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT
نجکاری کمیشن آف پاکستان نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت پاکستان نے روزویلٹ ہوٹل کی فروخت کیلئے 100 ملین ڈالر قیمت مقرر نہیں کی، میڈیا میں روزویلٹ ہوٹل کی قیمت سے متعلق خبریں گمراہ کن ہیں۔
نجکاری کمیشن نے کہا کہ روزویلٹ ہوٹل کی بنیادی قیمت بولی کے وقت طے کی جائے گی، وزیراعظم کے مشیر محمد علی کے بیان کو غلط طور پر منسوب کیا گیا، محمد علی نے صرف ابتدائی جزوی ادائیگی کا ذکر کیا تھا۔
ترجمان نے کہا کہ روزویلٹ ہوٹل کی نجکاری کی شرائط حکومت کی منظوری سے طے کی جائیں گی، روزویلٹ ہوٹل کی حتمی قیمت اور شرائط آئندہ سی سی او پی اجلاس میں طے ہوں گی
بیان کے مطابق روزویلٹ ہوٹل معاہدے پر رواں مالی سال میں دستخط کا امکان ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: روزویلٹ ہوٹل کی
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔