جنین اور اس کے کیمپ پر اسرائیلی حملے کو 159 دن ہو چکے ہیں۔ اس عرصے میں گھروں کو بلڈوز کرنا، انہیں نذر آتش کرنا اور کئی گھروں کو اسرائیلی فوجی چوکیاں بنا دینا معمول بن چکا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ قابض اسرائیلی فوج کی سفاکانہ جارحیت کے نتیجے میں شمالی مغربی کنارے کے تین بڑے پناہ گزین کیمپوں، جنین، طولکرم اور نور شمس میں فلسطینیوں کے ایک ہزار سے زائد مکانات کو مکمل طور پر زمین بوس کر دیا گیا۔ یہ درندگی رواں برس جنوری سے اب تک جاری ہے۔ فلسطین کی دو اہم کمیٹیوں نے ہفتے کے روز انکشاف کیا کہ قابض اسرائیلی فوج نے جنین، طولکرم اور نور شمس کیمپوں میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلائی ہے۔ قابض ریاست نے سنہ 2025ء کے آغاز میں ایک وحشیانہ فوجی آپریشن کا آغاز کیا، جسے انہوں نے "آہنی دیوار” کا نام دیا۔ اس کا پہلا نشانہ جنین شہر اور اس کا کیمپ بنا، بعد ازاں اس درندگی کا دائرہ طولکرم اور نور شمس تک پھیل گیا۔ آج تک یہ جارحیت جاری ہے، جس نے ہزاروں فلسطینیوں کی زندگی کو تلپٹ کر کے رکھ دیا ہے۔ جنین کیمپ کی میڈیا کمیٹی کے مطابق، صرف اسی کیمپ میں قابض اسرائیل نے چھ سو سے زائد مکانات مکمل طور پر منہدم کر دیے۔ دیگر درجنوں مکانات کو جزوی طور پر نقصان پہنچا، جو اب رہنے کے قابل نہیں رہے۔ بیان میں مزید بتایا گیا کہ جنین اور اس کے کیمپ پر اسرائیلی حملے کو 159 دن ہو چکے ہیں۔ اس عرصے میں گھروں کو بلڈوز کرنا، انہیں نذر آتش کرنا اور کئی گھروں کو اسرائیلی فوجی چوکیاں بنا دینا معمول بن چکا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: طولکرم اور گھروں کو

پڑھیں:

لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش

کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔

جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا  ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔

حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • بحرین میں اہل تشیع سے امتیازی سلوک
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان