سفر میں دو نمازیں جمع کرنا
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نماز کے سلسلے میں قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”نماز درحقیقت ایسا فرض ہے جو پابندئ وقت کے ساتھ اہلِ ایمان پر لازم کیا گیا ہے“ (النساء :103)۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر نماز کو اس کے وقت ہی میں ادا کرنا چاہیے۔ اللہ کے رسولؐ نے اپنے عمل سے ہر نماز کے اوّلِ وقت اور آخرِ وقت کی تعیین فرمادی تھی اور ہمیشہ ہر نماز کو اس کے وقت کے اندر ہی ادا کرنے کا اہتمام فرمایا ہے۔ سفر کے دوران میں جہاں کہیں آپ قیام فرماتے وہاں قصر تو کرتے تھے، لیکن جمع بین الصلاتین نہیں کرتے تھے، بلکہ ہر نماز کو اس کے وقت میں ادا فرماتے تھے، البتہ سفر جاری رہنے کی صورت میں بعض اوقات آپ نے جمع بین الصلاتین کیا ہے۔
اس لیے آپ کی سنّت کی اتباع کا تقاضا ہے کہ دورانِ سفر کہیں قیام ہو اور ہر نماز کو اس کے وقت میں ادا کرنا ممکن ہو تو اس کا اہتمام کرنا چاہیے، لیکن اگر دو نمازوں (ظہر و عصر اور مغرب و عشا) میں سے کسی نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا ناممکن یا زحمت طلب ہو تو جمع بین الصلاتین کیا جاسکتا ہے۔
کیا سفر میں ظہر و عصر اور مغرب و عشا کی نمازیں ایک ساتھ پڑھی جاسکتی ہیں؟ اس سلسلے میں معروف یہ ہے کہ حنفی مسلک میں یہ جائز نہیں ہے۔ حنفی علما جمع صوری کی اجازت دیتے ہیں، یعنی ظہر کی نماز بالکل آخری وقت میں پڑھی جائے اور عصر کی نماز بالکل اوّل وقت میں، اسی طرح مغرب کی نماز بالکل آخری وقت میں پڑھی جائے اور عشا کی نماز بالکل اوّل وقت میں۔ وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمام نمازوں کے اوقات متعین کردیے ہیں۔ صرف دو صورتیں مستثنیٰ ہیں: ایامِ حج کے دوران میں 9 ذی الحجہ کو عرفات میں زوال کے بعد جمع تقدیم، یعنی ظہر کے وقت میں ظہر اور عصر کی نمازیں ایک ساتھ پڑھنا اور غروبِ آفتاب کے بعد مزدلفہ پہنچ کر جمع کرنا، یعنی مغرب اور عشا کی نمازیں عشا کے وقت میں پڑھنا ۔ ان دو مواقع کے سوا کسی نماز کو اس کے وقت کے علاوہ دوسرے وقت میں پڑھنا جائز نہیں ہے۔ یہ حضرات اپنے اس موقف پر بعض احادیث اور آثارِ صحابہ سے استدلال کرتے ہیں، جس کی تفصیل کا یہ موقع نہیں ہے۔ (فتاویٰ شامی ،کتاب الصلاۃ)
دیگر فقہاء (امام مالک، امام شافعی اور امام احمدؒ) کے نزدیک جمع بین الصلاتین (دو نمازوں کو جمع کرنا) کی دونوں صورتیں جائز ہیں: جمعِ تقدیم بھی، یعنی ظہر کے وقت میں ظہر اور عصر اور مغرب کے وقت میں مغرب اور عشا دونوں نمازیں پڑھ لینا اور جمعِ تاخیر بھی، یعنی عصر کے وقت میں ظہر اور عصر اور عشا کے وقت میں مغرب اور عشا کی نمازیں ادا کرنا۔ ان حضرات کا استدلال بعض ان احادیث سے ہے جن میں رسولؐ کے جمع بین الصلاتین کا عمل انجام دینے کا ثبوت ملتا ہے ۔ مثلاً صحیح مسلم میں حضرت معاذ بن جبلؓ سے مروی ایک روایت میں وہ بیان کرتے ہیں:
”ہم نبیؐ کے ساتھ غزوۂ تبوک میں نکلے تو آپ ظہر و عصر اور مغرب و عشا کو ایک ساتھ پڑھتے تھے“۔
جمعِ صوری کو اختیار کرنا بظاہر دشوار معلوم ہوتا ہے۔ شاید اسی لیے موجودہ دور کے بعض حنفی علما نے جمع بین الصلاتین کو مطلق جائز قرار دیا ہے۔ مثال کے طور پر مولانا عبد الشکور فاروقیؒ اور علامہ سید سلیمان ندویؒ کا نام پیش کیا جاسکتا ہے۔ اب حنفی مسلک پر عمل کرنے والے بہت سے لوگوں کا عمومی رجحان مطلق جمع بین الصلاتین کی طرف ہوگیا ہے۔ سفر کی زیادہ سے زیادہ مدّت 14دن ہے۔ چنانچہ ان کا کہیں چند دنوں کے لیے قیام ہو تو وہ بلا تکلّف قصر نماز پڑھنے کے ساتھ دو نمازوں کو جمع کرلیتے ہیں۔
اس سلسلے میں علامہ ابن تیمیہؒ کا ایک فتویٰ نظر سے گزرا، جو قابلِ غور معلوم ہوتا ہے۔ ان سے دریافت کیا گیا کہ سفر میں جمع بین الصلاتین افضل ہے یا قصر؟ اس کا انھوں نے یہ جواب دیا:
”ہر نماز کو اس کے وقت میں ادا کرنا افضل ہے، اگر دو نمازوں کو جمع کرنے کی کوئی ضرورت نہ ہو۔ اس لیے کہ سفر میں رسولؐ زیادہ تر نمازیں ان کے اوقات میں ادا کرتے تھے۔ آپ نے بہت کم مواقع پر جمع بین الصلاتین کیا ہے“ (مجموع الفتاویٰ)۔
انھوں نے مزید فرمایا:
”اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سفر میں قصر کی طرح جمع سنّتِ نبوی نہیں ہے، بلکہ ایسا صرف وقتِ ضرورت کیا جائے گا، چاہے سفر میں ہو یا حضر میں“ (مجموع الفتاویٰ)۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ہر نماز کو اس کے وقت کی نماز بالکل ا عصر اور مغرب عشا کی نماز کے وقت میں کی نمازیں اور عشا اور عصر نہیں ہے
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔