Jasarat News:
2026-06-03@04:36:26 GMT

سفر میں دو نمازیں جمع کرنا

اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

نماز کے سلسلے میں قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”نماز درحقیقت ایسا فرض ہے جو پابندئ وقت کے ساتھ اہلِ ایمان پر لازم کیا گیا ہے“ (النساء :103)۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر نماز کو اس کے وقت ہی میں ادا کرنا چاہیے۔ اللہ کے رسولؐ نے اپنے عمل سے ہر نماز کے اوّلِ وقت اور آخرِ وقت کی تعیین فرمادی تھی اور ہمیشہ ہر نماز کو اس کے وقت کے اندر ہی ادا کرنے کا اہتمام فرمایا ہے۔ سفر کے دوران میں جہاں کہیں آپ قیام فرماتے وہاں قصر تو کرتے تھے، لیکن جمع بین الصلاتین نہیں کرتے تھے، بلکہ ہر نماز کو اس کے وقت میں ادا فرماتے تھے، البتہ سفر جاری رہنے کی صورت میں بعض اوقات آپ نے جمع بین الصلاتین کیا ہے۔
اس لیے آپ کی سنّت کی اتباع کا تقاضا ہے کہ دورانِ سفر کہیں قیام ہو اور ہر نماز کو اس کے وقت میں ادا کرنا ممکن ہو تو اس کا اہتمام کرنا چاہیے، لیکن اگر دو نمازوں (ظہر و عصر اور مغرب و عشا) میں سے کسی نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا ناممکن یا زحمت طلب ہو تو جمع بین الصلاتین کیا جاسکتا ہے۔

کیا سفر میں ظہر و عصر اور مغرب و عشا کی نمازیں ایک ساتھ پڑھی جاسکتی ہیں؟ اس سلسلے میں معروف یہ ہے کہ حنفی مسلک میں یہ جائز نہیں ہے۔ حنفی علما جمع صوری کی اجازت دیتے ہیں، یعنی ظہر کی نماز بالکل آخری وقت میں پڑھی جائے اور عصر کی نماز بالکل اوّل وقت میں، اسی طرح مغرب کی نماز بالکل آخری وقت میں پڑھی جائے اور عشا کی نماز بالکل اوّل وقت میں۔ وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمام نمازوں کے اوقات متعین کردیے ہیں۔ صرف دو صورتیں مستثنیٰ ہیں: ایامِ حج کے دوران میں 9 ذی الحجہ کو عرفات میں زوال کے بعد جمع تقدیم، یعنی ظہر کے وقت میں ظہر اور عصر کی نمازیں ایک ساتھ پڑھنا اور غروبِ آفتاب کے بعد مزدلفہ پہنچ کر جمع کرنا، یعنی مغرب اور عشا کی نمازیں عشا کے وقت میں پڑھنا ۔ ان دو مواقع کے سوا کسی نماز کو اس کے وقت کے علاوہ دوسرے وقت میں پڑھنا جائز نہیں ہے۔ یہ حضرات اپنے اس موقف پر بعض احادیث اور آثارِ صحابہ سے استدلال کرتے ہیں، جس کی تفصیل کا یہ موقع نہیں ہے۔ (فتاویٰ شامی ،کتاب الصلاۃ)
دیگر فقہاء (امام مالک، امام شافعی اور امام احمدؒ) کے نزدیک جمع بین الصلاتین (دو نمازوں کو جمع کرنا) کی دونوں صورتیں جائز ہیں: جمعِ تقدیم بھی، یعنی ظہر کے وقت میں ظہر اور عصر اور مغرب کے وقت میں مغرب اور عشا دونوں نمازیں پڑھ لینا اور جمعِ تاخیر بھی، یعنی عصر کے وقت میں ظہر اور عصر اور عشا کے وقت میں مغرب اور عشا کی نمازیں ادا کرنا۔ ان حضرات کا استدلال بعض ان احادیث سے ہے جن میں رسولؐ کے جمع بین الصلاتین کا عمل انجام دینے کا ثبوت ملتا ہے ۔ مثلاً صحیح مسلم میں حضرت معاذ بن جبلؓ سے مروی ایک روایت میں وہ بیان کرتے ہیں:
”ہم نبیؐ کے ساتھ غزوۂ تبوک میں نکلے تو آپ ظہر و عصر اور مغرب و عشا کو ایک ساتھ پڑھتے تھے“۔

جمعِ صوری کو اختیار کرنا بظاہر دشوار معلوم ہوتا ہے۔ شاید اسی لیے موجودہ دور کے بعض حنفی علما نے جمع بین الصلاتین کو مطلق جائز قرار دیا ہے۔ مثال کے طور پر مولانا عبد الشکور فاروقیؒ اور علامہ سید سلیمان ندویؒ کا نام پیش کیا جاسکتا ہے۔ اب حنفی مسلک پر عمل کرنے والے بہت سے لوگوں کا عمومی رجحان مطلق جمع بین الصلاتین کی طرف ہوگیا ہے۔ سفر کی زیادہ سے زیادہ مدّت 14دن ہے۔ چنانچہ ان کا کہیں چند دنوں کے لیے قیام ہو تو وہ بلا تکلّف قصر نماز پڑھنے کے ساتھ دو نمازوں کو جمع کرلیتے ہیں۔
اس سلسلے میں علامہ ابن تیمیہؒ کا ایک فتویٰ نظر سے گزرا، جو قابلِ غور معلوم ہوتا ہے۔ ان سے دریافت کیا گیا کہ سفر میں جمع بین الصلاتین افضل ہے یا قصر؟ اس کا انھوں نے یہ جواب دیا:
”ہر نماز کو اس کے وقت میں ادا کرنا افضل ہے، اگر دو نمازوں کو جمع کرنے کی کوئی ضرورت نہ ہو۔ اس لیے کہ سفر میں رسولؐ زیادہ تر نمازیں ان کے اوقات میں ادا کرتے تھے۔ آپ نے بہت کم مواقع پر جمع بین الصلاتین کیا ہے“ (مجموع الفتاویٰ)۔
انھوں نے مزید فرمایا:
”اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سفر میں قصر کی طرح جمع سنّتِ نبوی نہیں ہے، بلکہ ایسا صرف وقتِ ضرورت کیا جائے گا، چاہے سفر میں ہو یا حضر میں“ (مجموع الفتاویٰ)۔

محمد رضی الاسلام ندوی گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ہر نماز کو اس کے وقت کی نماز بالکل ا عصر اور مغرب عشا کی نماز کے وقت میں کی نمازیں اور عشا اور عصر نہیں ہے

پڑھیں:

بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے اثرات کے باعث معاشی بحران نے جنم لیا ہے اور موجودہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت صرف پیپلز پارٹی کے پاس ہے، گلگت بلتستان کے عوام 7 جون کو تیر پر مہر لگائیں۔

اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کی جانب سے امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو قابل فخر قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کاوشیں کامیاب ہوں گی۔

مزید پڑھیں: کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، نواز شریف کا گلگت میں خطاب

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہاکہ ان کی جماعت ملک کے پسماندہ اور محروم طبقات کی حقیقی نمائندہ ہے۔ ایسی ترقی اور معاشی پالیسی کا کیا فائدہ جس میں امیر مزید امیر اور غریب مزید مشکلات کا شکار ہو جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک کا واحد ایسا ادارہ ہے جو براہ راست مستحق خاندانوں تک پہنچتا ہے اور اس پروگرام کے خلاف ہونے والی سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔

بدقسمتی اس ملک کی ہے کہ ہمارے سیاست دان ایسے ہیں کہ جب معاشی حالات خراب ہوتے ہیں تو وہ یہ نہیں سوچتے کہ ہم اپنے امیر دوستوں کی سبسڈی کیسے ختم کریں، وہ یہ نہیں سوچتے کہ کاروباری طبقہ کتنا ٹیکس دے رہا ہے، وہ سیدھا اس پر پہنچتے ہیں کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرو، مگر ہم یہ… pic.twitter.com/ioZikOPLZU

— WE News (@WENewsPk) June 2, 2026

انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض حکمران عناصر اس پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی اسے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی اور آئندہ بجٹ میں اس کے فنڈز میں اضافے کے لیے وزیراعظم سے بات کی جائے گی۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی جبکہ میزائل ٹیکنالوجی کے فروغ میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا کردار نمایاں رہا۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں گلگت بلتستان کو شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھا لیکن اس خطے کو موجودہ شناخت صدر آصف علی زرداری نے دی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بلتستان کی سرزمین سے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا اعلان کیا تھا۔

انہوں نے کہاکہ اگر 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو دیے گئے اختیارات گلگت بلتستان کو بھی منتقل کر دیے جائیں تو خطے کے متعدد مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ حق حاکمیت کے بعد عوام کو حق ملکیت بھی ملنا چاہیے اور اسلام آباد کو تسلیم کرنا ہوگا کہ گلگت بلتستان کے وسائل پر سب سے پہلا حق مقامی آبادی کا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا جاتا، نہ گلگت بلتستان اور نہ ہی پاکستان حقیقی ترقی کر سکتا ہے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے سندھ حکومت کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو گھر فراہم کیے گئے اور یہی عوامی خدمت پیپلز پارٹی کی سیاست کا بنیادی محور ہے۔

ان کے مطابق پارٹی ہمیشہ عام آدمی، مزدور اور محروم طبقات کے حقوق کی سیاست کرتی آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کو بینظیر کارڈ کے ذریعے عملی شکل دی، جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو دنیا کے کئی ممالک نے قابل تقلید ماڈل قرار دیا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مسلم دنیا میں ایٹمی صلاحیت رکھنے والا واحد ملک پاکستان ہے اور اس صلاحیت کا سہرا شہید ذوالفقار علی بھٹو کے سر جاتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ آج بھی گڑھی خدا بخش سے پاکستان کے دفاع کی روایت جڑی ہوئی ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں غیر ملکی ممالک کو پاکستان میں اڈے حاصل تھے، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ان اڈوں کو بند کروا دیا۔

انہوں نے سی پیک کے تحت تھرکول منصوبے کو سب سے کامیاب منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو فراہم کی گئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، جبکہ دیگر سیاسی قوتیں لوگوں کو بے روزگار کرنے کی پالیسی اپناتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت غریب نوجوانوں کو روزگار فراہم کرکے معاشی طور پر مضبوط بنانا چاہتی ہے۔

مزید پڑھیں: کسی بھی نئی آئینی ترمیم میں گلگت بلتستان کے عوامی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے، بلاول بھٹو

چیئرمین پیپلز پارٹی نے سندھ میں سیلاب کے بعد بحالی کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے پورا صوبہ پانی میں ڈوب گیا ہو، تاہم حکومت 20 لاکھ متاثرہ گھروں کی تعمیر کر رہی ہے اور اتنے ہی خاندانوں کو مالکانہ حقوق کے ساتھ رہائش فراہم کی جا رہی ہے۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ سڑکوں کی تعمیر سے پہلے متاثرین کو گھر دیے جائیں۔ اس منصوبے کے نتیجے میں قریباً 10 لاکھ افراد کو روزگار ملا۔

انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام سے اپیل کی کہ 7 جون کو تیر کے انتخابی نشان پر مہر لگائیں، پیپلز پارٹی یہاں بھی سندھ طرز کے عوامی فلاحی منصوبے متعارف کرائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بلاول بھٹو چیئرمین پیپلز پارٹی گلگت بلتستان الیکشن وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • سیاستدان امیر دوستوں کو مراعات دینا، غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں: بلاول
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو