والد کے بعد صدارتی انتخاب لڑ سکتا ہوں، ایرک ٹرمپ کا عندیہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, June 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیٹے ایرک ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ وہ یا ان کے خاندان کا کوئی اور فرد مستقبل میں امریکی صدارتی انتخابات میں حصہ لے سکتا ہے۔
اخبار ’فنانشل ٹائمز ‘ کو دیے گئے انٹرویو میں ایرک ٹرمپ نے کہاکہ اگر وہ سیاست میں قدم رکھتے ہیں تو یہ راستہ ان کے لیے آسان ہوگا۔انہوں نے کہاکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا میں اپنے خاندان کے دیگر افراد کو بھی اس راستے پر لے جانا چاہتا ہوں؟ کیا میں چاہتا ہوں کہ میرے بچے بھی وہ سب کچھ جھیلیں جو میں نے پچھلے دس برسوں میں جھیلا؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو مجھے یقین ہے کہ امریکی صدارت کا سیاسی سفر میرے لیے ممکن اور نسبتاً آسان ہوگا۔
ایرک جو ٹرمپ آرگنائزیشن کے نائب ایگزیکٹو صدر بھی ہیں کا کہنا تھا کہ ان کے سوا خاندان کے دیگر افراد بھی مستقبل میں صدارتی دوڑ میں شامل ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ موجودہ سیاسی منظرنامے سے مطمئن نہیں اور انہیں یقین ہے کہ وہ اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔
جب ان سے سوال کیا گیا کہ آیا 2024ء کا صدارتی انتخاب ڈونلڈ ٹرمپ کا آخری انتخاب تھا تو انہوں نے کہا کہ میں نہیں جانتا، وقت ہی بتائے گا، لیکن میرے علاوہ اور بھی لوگ ہیں۔
امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ موجودہ نائب صدر جی ڈی فانس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو 2028ء کے لیے ریپبلکن پارٹی کے اہم امیدوار ہوں گے۔
ایرک ٹرمپ نے ان دعووں کی سختی سے تردید کی کہ ان کا خاندان سیاست کو مالی فائدے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھاکہ اگر کوئی خاندان ہے جس نے سیاست سے فائدہ نہیں اٹھایا تو وہ ہمارا خاندان ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ نے صدارتی انتخاب نہ لڑا ہوتا، تو خاندان کی دولت کہیں زیادہ ہوتی، کیونکہ انہیں 2016 ءکے امریکی انتخابات میں روسی مداخلت کے جھوٹے الزامات کے خلاف دفاع میں تقریباً 500 ملین ڈالر خرچ کرنا پڑے۔ سچ کہوں تو اگر میرے والد نے ابتدا میں ہی صدارتی انتخاب نہ لڑا ہوتا، تو ہم کئی صفر بچا سکتے تھے۔ یہ ایک بہت مہنگا سودا ثابت ہوا — قانونی اخراجات، مواقع کی قیمت، اور ہماری فیملی کی ذاتی قربانیاں۔
ایرک ٹرمپ، جو عمر میں اپنے بھائی ڈونلڈ جونیئر اور بہن ایوانکا سے چھوٹے ہیں، 2017ء میں والد کے صدر بننے کے بعد زیادہ تر وقت کاروباری سرگرمیوں میں مصروف رہے اور سیاسی میدان سے دور رہے۔
ایک سابق رپورٹ کے مطابق، معروف جریدے ’فوربس‘ نے بتایا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے صدارت کے دوران اپنے مختلف کاروباروں سے تقریباً 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: صدارتی انتخاب ڈونلڈ ٹرمپ ایرک ٹرمپ انہوں نے
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔