امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیٹے ایرک ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ وہ یا ان کے خاندان کا کوئی اور فرد مستقبل میں امریکی صدارتی انتخابات میں حصہ لے سکتا ہے۔
اخبار ’فنانشل ٹائمز ‘ کو دیے گئے انٹرویو میں ایرک ٹرمپ نے کہاکہ   اگر وہ سیاست میں قدم رکھتے ہیں تو یہ راستہ ان کے لیے آسان ہوگا۔انہوں نے کہاکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا میں اپنے خاندان کے دیگر افراد کو بھی اس راستے پر لے جانا چاہتا ہوں؟ کیا میں چاہتا ہوں کہ میرے بچے بھی وہ سب کچھ جھیلیں جو میں نے پچھلے دس برسوں میں جھیلا؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو مجھے یقین ہے کہ امریکی صدارت کا سیاسی سفر میرے لیے ممکن اور نسبتاً آسان ہوگا۔
ایرک جو ٹرمپ آرگنائزیشن کے نائب ایگزیکٹو صدر بھی ہیں کا کہنا تھا کہ ان کے سوا خاندان کے دیگر افراد بھی مستقبل میں صدارتی دوڑ میں شامل ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ موجودہ سیاسی منظرنامے سے مطمئن نہیں اور انہیں یقین ہے کہ وہ اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔
جب ان سے سوال کیا گیا کہ آیا 2024ء کا صدارتی انتخاب ڈونلڈ ٹرمپ کا آخری انتخاب تھا تو انہوں نے کہا کہ میں نہیں جانتا، وقت ہی بتائے گا، لیکن میرے علاوہ اور بھی لوگ ہیں۔
امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ موجودہ نائب صدر جی ڈی فانس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو 2028ء کے لیے ریپبلکن پارٹی کے اہم امیدوار ہوں گے۔
ایرک ٹرمپ نے ان دعووں کی سختی سے تردید کی کہ ان کا خاندان سیاست کو مالی فائدے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھاکہ اگر کوئی خاندان ہے جس نے سیاست سے فائدہ نہیں اٹھایا تو وہ ہمارا خاندان ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ نے صدارتی انتخاب نہ لڑا ہوتا، تو خاندان کی دولت کہیں زیادہ ہوتی، کیونکہ انہیں 2016 ءکے امریکی انتخابات میں روسی مداخلت کے جھوٹے الزامات کے خلاف دفاع میں تقریباً 500 ملین ڈالر خرچ کرنا پڑے۔ سچ کہوں تو اگر میرے والد نے ابتدا میں ہی صدارتی انتخاب نہ لڑا ہوتا، تو ہم کئی صفر بچا سکتے تھے۔ یہ ایک بہت مہنگا سودا ثابت ہوا — قانونی اخراجات، مواقع کی قیمت، اور ہماری فیملی کی ذاتی قربانیاں۔
ایرک ٹرمپ، جو عمر میں اپنے بھائی ڈونلڈ جونیئر اور بہن ایوانکا سے چھوٹے ہیں، 2017ء میں والد کے صدر بننے کے بعد زیادہ تر وقت کاروباری سرگرمیوں میں مصروف رہے اور سیاسی میدان سے دور رہے۔
ایک سابق رپورٹ کے مطابق، معروف جریدے ’فوربس‘ نے بتایا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے صدارت کے دوران اپنے مختلف کاروباروں سے تقریباً 2.

4 ارب ڈالر کی آمدن حاصل کی، جب کہ 2017ء سے 2020ء کے درمیان ان کا ذاتی منافع تقریباً 550 ملین ڈالر رہا۔

Post Views: 5

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: صدارتی انتخاب ڈونلڈ ٹرمپ ایرک ٹرمپ انہوں نے

پڑھیں:

پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (Pakistan Institute of Development Economics) نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے لیے ملک میں کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی ہے، جسے موجودہ معاشی حالات اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے تناظر میں ایک اہم پالیسی تجویز قرار دیا جا رہا ہے۔

پائیڈ کی جانب سے جاری کردہ شواہد پر مبنی فریم ورک کے مطابق کم از کم اجرت میں اضافہ صرف ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ ایک وسیع معاشی اور سماجی ضرورت ہے، جو گھریلو سطح پر قوتِ خرید، غربت میں کمی، غیر رسمی روزگار کے رجحانات اور مجموعی معاشی استحکام پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر مالی سال 2026-27 کے لیے کم از کم اجرت 45 ہزار روپے ماہانہ مقرر کی جاتی ہے تو یہ موجودہ 40 ہزار روپے کی سطح کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافہ ہوگا۔ اس اضافے کو محنت کش طبقے کی مالی مشکلات میں کمی اور ان کی معاشی استعداد بہتر بنانے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

پائیڈ کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ کم از کم اجرت کی پالیسی کو محض لیبر ڈپارٹمنٹ تک محدود نہیں رکھا جا سکتا، کیونکہ اس کا تعلق براہ راست عام شہریوں کی روزمرہ زندگی، مہنگائی کے دباؤ اور مقامی مارکیٹ کی طلب سے جڑا ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اجرت میں مناسب اضافہ نہ صرف مزدور طبقے کے معیارِ زندگی کو بہتر بنا سکتا ہے بلکہ پیداواری عمل میں بھی مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔

مزیدپڑھیں:حکومت کا ریئل اسٹیٹ پیکیج تیار، فروخت پر ٹیکس 4.5 فیصد سے 1.5 فیصد تک لانے کی تجویز

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026 کے جولائی سے اپریل تک اوسط مہنگائی کی شرح تقریباً 6.19 فیصد رہی، تاہم اپریل 2026 میں سالانہ بنیاد پر مہنگائی بڑھ کر 10.9 فیصد تک پہنچ گئی، جس نے عام شہریوں کی قوتِ خرید کو مزید متاثر کیا۔

 موجودہ معاشی صورتحال میں اجرتوں میں اضافہ ایک متوازن پالیسی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ کاروباری لاگت اور روزگار کے مواقع پر بھی اس کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لینا ضروری ہوگا۔

پائیڈ کی سفارش کے بعد اب یہ معاملہ حکومتی سطح پر غور کے لیے پیش کیا جائے گا، جہاں حتمی فیصلہ بجٹ پالیسی کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش
  • بجٹ میں سولر پینلز پر عائد ٹیکس میں کتنے فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے؟
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا