ہیٹ ویو کی شدت میں اضافے کی وجہ بننے والا ’ہیٹ ڈوم‘ کیا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
حال ہی میں یورپ کے کئی حصوں میں شدید گرمی کی لہر دیکھی گئی، خاص طور پر اسپین میں درجہ حرارت 40 ڈگری سیلسیس سے بھی اوپر چلا گیا۔ ایسے میں سائنسدانوں نے بتایا کہ اس کی وجہ ’ہیٹ ڈوم‘ ہے۔ ہیٹ ڈوم کیا ہے؟ اور اس کے کیا اثرات ہوتے ہیں آئیے جانتے ہیں۔
یہ فضاء میں ایک ایسا علاقہ ہوتا ہے جہاں ہوا کا دباؤ بہت زیادہ ہوتا ہے اور یہ دباؤ ایک جگہ پر جم جاتا ہے۔ اس سے ہوا نیچے پھنس جاتی ہے، جیسے کہ کسی برتن کے اوپر ڈھکن رکھ دیا ہو۔
اس کے نتیجے میں زمین کی سطح زیادہ گرم ہو جاتی ہے کیونکہ سورج کی روشنی بغیر کسی بادل کے سیدھی زمین پر آتی رہتی ہے، اور ہوا میں ٹھنڈی ہوا کا گزر بھی بند ہو جاتا ہے۔
دوسرے الفاظ میں ہیٹ ڈوم یا گرمی کا گڑھا ایک ایسا موسمیاتی عمل ہے جس میں ہوا میں ایک بڑا اعلیٰ دباؤ کا نظام ایک خاص علاقے پر کئی دنوں یا ہفتوں تک قائم رہتا ہے۔ یہ ایک ’ڈوم‘ کی طرح کام کرتا ہے جو گرمی کو باہر نکلنے نہیں دیتا اور بادل بننے سے روکتا ہے، جس کی وجہ سے درجہ حرارت مسلسل بہت زیادہ رہتا ہے۔
یہ خاص موسمی حالات کی وجہ سے بنتا ہے جب جیٹ اسٹریم کی حرکت میں خلل پڑتا ہے اور ایک اعلیٰ دباؤ کا سسٹم جگہ پر ٹھہر جاتا ہے۔ سمندری درجہ حرارت میں تبدیلیاں اور لا نینا جیسے عالمی کلائمٹ پیٹرن بھی اس میں کردار ادا کرتے ہیں۔
عام طور پر یہ گڑھا جگہ پر ہی رہتا ہے، اور اس کا رخ جیٹ اسٹریم کے پیٹرن سے متعین ہوتا ہے۔ جب یہ ٹوٹتا ہے تو گرمی میں کمی آتی ہے۔
گرمی اور نمی مل کر جسم کی قدرتی ٹھنڈک یعنی پسینہ بہنے کے عمل کو متاثر کرتے ہیں، جس سے حرارت جسم کے اندر بڑھ جاتی ہے۔ اس سے گرمی کی بیماری، ہیٹ اسٹروک، اور دیگر صحت کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں، خاص طور پر بچوں، بزرگوں، اور بیمار افراد کے لیے۔
اس کے اثرات:
دن بھر دھوپ کی تیزی رہتی ہے اور ہوا کم چلتی ہے، جس سے گرمی بڑھتی ہے۔ زمین خشک ہو جاتی ہے اور آگ لگنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اوریہ گرمی کی لہر کئی دن یا ہفتوں تک برقرار رہ سکتی ہے۔
ہیٹ ڈوم کوئی نئی بات نہیں، لیکن ماہرین کہتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے گرمی کی شدت اور اس کا دورانیہ بڑھ رہا ہے۔ زمین کا اوسط درجہ حرارت بڑھنے کی وجہ سے گرمی کی لہریں پہلے سے زیادہ شدید اور دیر پا ہو گئی ہیں۔
ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے گرمی کی لہریں پہلے سے زیادہ جلدی اور زیادہ دیر تک آ سکتی ہیں۔ اس سال بھی یورپ میں گرمی کا سلسلہ معمول سے زیادہ شدت کا ہوگا۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سے گرمی کی کی وجہ سے جاتا ہے جاتی ہے ہے اور
پڑھیں:
مہنگائی کے دباؤ میں مزدوروں کو ریلیف دینے کی سفارش، کم از کم تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے کی تجویز
پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے حکومت کو سفارش کی ہے کہ مالی سال 2026-27 کے لیے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے کی جائے اور اس پر مؤثر و لازمی عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔
ادارے کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی، خوراک اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے اور کمزور گھریلو معاشی حالات کے پیش نظر کم از کم اجرت کی پالیسی کو محض سالانہ اعلان کے بجائے ایک مؤثر سماجی و معاشی پالیسی کے طور پر اپنانا ضروری ہے۔
مالی سال 2026-27 کے بجٹ سے قبل حکومت کو بھجوائے گئے اپنے پالیسی نوٹ میں پائیڈ نے کہا ہے کہ مسلسل مہنگائی، خوراک اور توانائی کے شعبوں میں قیمتوں کے جھٹکوں، غیر رسمی روزگار کے پھیلاؤ اور گھریلو معاشی مشکلات کے ماحول میں کم از کم اجرت کی پالیسی کو ایک قابلِ اعتماد سماجی و معاشی آلے میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، جو ایک طرف مزدوروں کا تحفظ کرے اور دوسری جانب معاشی طور پر قابلِ عمل بھی ہو۔
یہ بھی پڑھیے بجٹ میں سولر پینلز پر عائد ٹیکس میں کتنے فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے؟
ادارے نے سفارش کی کہ کم از کم اجرت کے سالانہ اعلانات کو محض علامتی یا صوابدیدی فیصلوں کے بجائے ایک شفاف اور قواعد و ضوابط پر مبنی نظام کے تحت طے کیا جائے، جس کی بنیاد مستند سرکاری اعداد و شمار اور بین الاقوامی محنت تنظیم (آئی ایل او) کے اصولوں پر ہو۔
پالیسی بریف میں کہا گیا ہے کہ مجوزہ طریقہ کار کسی ایک معاشی اشاریے یا من مانے اضافے پر انحصار کرنے کے بجائے قوتِ خرید کے تحفظ، مزدور اور اس کے خاندان کی بنیادی ضروریات، لیبر مارکیٹ کی استعداد، پیداواری صلاحیت میں جزوی شراکت اور صوبائی سطح پر عملدرآمد کی حقیقتوں کو مدنظر رکھتا ہے۔
پائیڈ کے مطابق اس اصلاحاتی فریم ورک کے چار بنیادی ستون ہیں: شواہد پر مبنی اور شفاف اجرت کا تعین، صوبائی سطح پر مناسب ایڈجسٹمنٹ، مؤثر نگرانی اور عملدرآمد کا نظام، اور اجرتوں کے تعین و نفاذ سے متعلق سالانہ رپورٹنگ۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال وفاقی حکومت نے کم از کم اجرت کا روایتی اعلان بھی نہیں کیا تھا۔ اس وقت وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا تھا کہ کاروباری ادارے پچھلے سال مقرر کی گئی کم از کم اجرت ادا کرنے کے لیے بھی تیار نہیں تھے۔
پائیڈ کا کہنا ہے کہ پاکستان بیورو آف شماریات اور وزارت منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کے سرکاری اعداد و شمار پر مجوزہ فریم ورک کا اطلاق کرنے سے مالی سال 2026-27 کے لیے 45 ہزار روپے ماہانہ کی قومی کم از کم اجرت کا حوالہ جاتی معیار سامنے آتا ہے، جو موجودہ 40 ہزار روپے کی مقررہ اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد زیادہ ہے۔
پائیڈ کے وائس چانسلر ڈاکٹر ندیم جاوید نے کہا کہ کم از کم اجرت کی پالیسی محض سالانہ رسمی مشق نہیں رہ سکتی جو معاشی حقائق اور مزدوروں کی فلاح سے کٹی ہوئی ہو۔ ان کے بقول پاکستان کو ایک ایسا قابلِ اعتماد اجرتی نظام درکار ہے جو مزدوروں کے تحفظ، پیداواری صلاحیت، کاروباری پائیداری اور معاشی استحکام کے درمیان توازن قائم کر سکے۔
انہوں نے کہا کہ برآمدات پر مبنی ترقی اور سماجی استحکام کا خواہاں ملک محنت کش طبقے کی غربت، اجرتوں میں غیر یقینی صورتحال اور لیبر مارکیٹ کے منتشر نظام کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ پائیدار معاشی اصلاحات کا مقصد کارکنوں کو وقار، پیش بینی اور معاشی تحفظ فراہم کرنا بھی ہونا چاہیے۔
مجوزہ ’قومی حوالہ جاتی معیار اور صوبائی ایڈجسٹمنٹ‘ ماڈل کے تحت صوبوں کو یہ آئینی اختیار حاصل رہے گا کہ وہ مقامی معاشی حالات کے مطابق قومی کم از کم معیار کے برابر یا اس سے زیادہ اجرت مقرر کر سکیں۔
یہ بھی پڑھیے بجٹ 27-2026 میں کون سی اشیا سستی ہونے کا امکان ہے؟
پائیڈ کی تجویز کے مطابق پنجاب میں کم از کم اجرت 45 ہزار روپے، جبکہ شہری اخراجات اور رسمی شعبے میں روزگار کے زیادہ ارتکاز کی وجہ سے سندھ اور خیبر پختونخوا میں 46 ہزار روپے مقرر کی جا سکتی ہے۔ بلوچستان کے لیے جغرافیائی مسائل اور منڈیوں تک رسائی کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے 45 ہزار 500 روپے کی تجویز دی گئی ہے۔
مطالعے کے شریک مصنف اور پائیڈ میں معاشیات کے پروفیسر ڈاکٹر ایس ایم نعیم نواز نے کہا کہ مؤثر کم از کم اجرت وہی ہو سکتی ہے جو مزدور حقیقتاً حاصل کر سکیں اور صوبے مؤثر انداز میں نافذ کر سکیں۔
ان کے مطابق صرف افراطِ زر یا غربت کی لکیر کو بنیاد بنانے کے بجائے ایک جامع اور متوازن طریقہ کار اپنانا ضروری ہے، جو کاروباری استطاعت، عملدرآمد کی صلاحیت اور اس حقیقت کو بھی مدنظر رکھے کہ پاکستان میں تقریباً 80 فیصد روزگار اب بھی غیر رسمی شعبے سے وابستہ ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بجٹ