Jasarat News:
2026-07-24@07:42:09 GMT

یورپ میں قیامت خیز گرمی، پارہ 47 ڈگری کو چھو گیا

اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT

یورپ میں قیامت خیز گرمی، پارہ 47 ڈگری کو چھو گیا

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

متعدد یورپی ممالک اس وقت شدید ترین ہیٹ ویو کی زد میں ہیں جس کے باعث صحت کے حوالے سے ہنگامی انتباہ جاری کر دیا گیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسپین کا جنوبی علاقہ اس گرمی سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، جہاں کئی علاقوں میں درجہ حرارت 46 ڈگری سیلسیس تک پہنچ گیا۔

اسپین کے محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ یہ مہینہ ملک کی تاریخ کا سب سے گرم جون ثابت ہو سکتا ہے۔

اسپین کے علاوہ پرتگال، اٹلی اور کروشیا میں بھی شدید گرمی کی وجہ سے ریڈ الرٹ جاری کیا گیا ہے۔

پرتگال کے علاقے مورا میں درجہ حرارت 47 ڈگری ریکارڈ کیا گیا۔

فرانس، آسٹریا، بیلجیئم، ہنگری، سربیا، بوسنیا، سلووینیا اور سوئٹزرلینڈ میں ایمبر وارننگز نافذ کی گئی ہیں۔

بارسلونا میں ایک خاتون صفائی ملازمہ ہفتے کے روز شدید گرمی میں کام کرنے کے بعد انتقال کر گئیں۔ مقامی حکام اس واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

اٹلی میں گرمی کے باعث ہیٹ اسٹروک کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، خاص طور پر بزرگ شہریوں، کینسر کے مریضوں اور بے گھر افراد میں۔

نیپلز کے اسپتال میں ہیٹ اسٹروک کے مریضوں کے لیے خصوصی طبی انتظامات کیے گئے ہیں، جن میں فوری علاج، ٹھنڈے پانی میں غوطے لگانا شامل ہیں۔

بولونیا شہر میں سات مقامات پر ایئر کنڈیشنڈ پناہ گاہیں قائم کی گئی ہیں اور روم میں 70 سال سے زائد عمر کے افراد کے لیے سوئمنگ پولز تک مفت رسائی دی گئی ہے۔

لزبن (پرتگال) میں فارماسسٹ نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ لوگوں کو دن کے گرم ترین اوقات میں باہر نکلنے سے منع کیا گیا ہے۔

اسی طرح سربیا میں ریکارڈ شدہ تاریخ کا سب سے زیادہ درجہ حرارت نوٹ کیا گیا، جبکہ سلووینیا میں جون کا گرم ترین دن ریکارڈ کیا گیا۔

شمالی مقدونیہ میں جمعہ کے روز درجہ حرارت 42 ڈگری سیلسیس تک پہنچ گیا۔

فرانس، جرمنی، اٹلی اور برطانیہ میں بھی درجہ حرارت بڑھنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

لندن میں پیر کو درجہ حرارت 35 ڈگری سیلسیس تک پہنچنے کا امکان ہے۔

یہ شدید گرمی ایک ہائی پریشر سسٹم کی وجہ سے پیدا ہو رہی ہے، جو خشک ہوا کو زمین کی طرف دھکیل کر درجہ حرارت کو بڑھا رہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کیا گیا

پڑھیں:

غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ

غزہ میں انسانی بحران مزید شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اور رواں سال دسمبر تک تقریباً 14 لاکھ افراد کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہونے کا خدشہ ہے۔ یہ تعداد اپریل سے جون 2026 کے دوران 12 لاکھ تھی۔ یہ انکشاف انٹیگریٹڈ فوڈ سکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن (IPC) کی تازہ رپورٹ میں کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق غزہ کی 67 فیصد آبادی شدید غذائی عدم تحفظ  کا شکار ہو سکتی ہے، جبکہ 2 لاکھ 12 ہزار افراد غذائی بحران کے انتہائی ہنگامی مرحلے میں زندگی گزار رہے ہیں۔

آئی پی سی کے مطابق گزشتہ سال اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد امدادی سرگرمیوں میں اضافے سے حالات میں وقتی بہتری آئی تھی اور مئی کے دوران تقریباً 14 لاکھ 90 ہزار افراد تک غذائی امداد پہنچائی گئی۔ تاہم امداد کی مقدار ضرورت سے کہیں کم ہے، روزگار کے مواقع تقریباً ختم ہو چکے ہیں اور 83 فیصد خاندانوں کے پاس آمدنی کا کوئی مستقل ذریعہ موجود نہیں، جس کے باعث آبادی کی اکثریت مکمل طور پر امدادی سامان پر انحصار کرنے پر مجبور ہے۔

یہ بھی پڑھیے ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اپریل 2027 تک 5 سال سے کم عمر 74 ہزار 200 بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں، جن میں 11 ہزار 432 بچوں کی حالت انتہائی تشویشناک ہونے کا خدشہ ہے اور انہیں فوری طبی و غذائی امداد درکار ہوگی۔

رپورٹ کے مطابق اس وقت غزہ میں ہر 5 میں سے صرف ایک بچے کو مناسب خوراک میسر ہے، جبکہ تقریباً نصف خاندانوں کو روزانہ فی فرد 15 لیٹر سے بھی کم پانی دستیاب ہے، جو عالمی انسانی معیار سے کہیں کم ہے۔

اسی طرح 24 ہزار 600 سے زائد حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی مائیں شدید غذائی قلت کا شکار ہیں اور انہیں فوری ہنگامی غذائی امداد کی ضرورت ہے۔

آئی پی سی کے مطابق جاری جنگ کے نتیجے میں غزہ کا بنیادی ڈھانچہ بھی بری طرح تباہ ہو چکا ہے۔ تقریباً 75 فیصد رہائشی مکانات مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو گئے ہیں، 70 فیصد سڑکیں ناقابل استعمال ہو چکی ہیں، 95 فیصد زرعی ڈھانچہ متاثر ہوا ہے، جبکہ 92 فیصد سے زائد کاروباری ادارے تباہ یا بند ہو چکے ہیں۔

رپورٹ میں ورلڈ بینک، یورپی یونین اور اقوام متحدہ کے مشترکہ تخمینے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں غزہ میں 35.2 ارب ڈالر مالیت کا بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے، 22.7 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہو چکا ہے، جبکہ غزہ کی بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے کم از کم 71.4 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔

آئی پی سی نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ تک انسانی امداد کی بلا رکاوٹ اور مسلسل رسائی یقینی بنائی جائے، غذائیت سے متعلق ہنگامی پروگراموں میں توسیع کی جائے اور مستقل جنگ بندی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ انسانی بحران مزید سنگین نہ ہو۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود اکتوبر 2025 سے فضائی حملوں، گولہ باری اور ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ معاہدے کے بعد بھی 900 سے زائد شہری جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

غذائی قلت غزہ فلسطین

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں ہواؤں کی رفتار کم ہوگئی، درجہ حرارت بڑھنے کا امکان
  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • چینی چڑیا گھر میں جانور گرمی کی شدید لہر سے کیسے محفوظ رہتے ہیں؟
  • لاہور میں آج موسم ابرآلود، بارش کا کتنا امکان؟
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی