صنم ماروی کا حج و عمرہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بننے کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 13th, August 2025 GMT
پاکستان میوزک انڈسٹری کی لوک گلوکارہ صنم ماروی نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں حج و عمرہ کرنے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
گلوکارہ صنم ماروی حال ہی میں ایک نجی ٹی وی پروگرام میں شریک ہوئیں جہاں انہوں نے شوبز کی دنیا سے وابستہ ہونے پر کی جانے والی تنقید اور اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعات پر کھل کر بات کی۔
صنم ماروی نے بتایا کہ جب کبھی وہ مذہبی زیارتوں اور حج و عمرہ کرنے جاتی ہیں تو انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور لوگ سوشل میڈیا پر منفی باتیں کرتے ہیں۔
گلوکارہ کا کہنا تھا کہ لوگ تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پورا سال گانے گائے اب حج و عمرے کر رہی ہیں۔ جبکہ کوئی کہتا ہے کہ ابھی عمرہ کر رہی ہیں اور واپس جاکر گانیں گائیں گی۔ صنم ماروی نے کہا کہ تنقید کرنے والے یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ یہ ہمارا پیشہ اور یہی ہمارا ذریعہ معاش ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ اس طرح کی ٹرولنگ پر خاموش رہنا بہتر سمجھتی ہیں کیونکہ وہ نہیں سمجھتے کہ ہم کتنی لگن کیساتھ اپنا کام کرتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: صنم ماروی
پڑھیں:
اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔