بجٹ کی سیاہی بھی خشک نہیں ہوئی قوم پر پیٹرول بم گرادیا ،رفیق منصوری
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ٹنڈوآدم ( نمائندہ جسارت)امیر جماعت اسلامی ضلع سانگھڑ محمد رفیق منصوری ، نائب امرا سید ارشاد ظفر بخاری ، ظہیر الدین جتوئی ، جنرل سیکرٹری ارشد خاصخیلی ، جوائنٹ سیکرٹری راجا وسیم ، علیم اکرام اور عمران غوری نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے اچانک پیٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کرکے عوام کی کمر توڑ دی ہے انہوں نے کہا کہ ابھی بجٹ کی سیاہی بھی خشک نہیں ہوئی تھی کہ قوم پر ایک اور پیٹرول بم گرایا گیا ہے گیس کی قیمتوں میں 50 فیصد اضافے کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ بیشرمی اور بے حسی کی انتہا ہے پیٹرولیم اور گیس کی قیمتوں میں اضافے سے ملک میں مہنگائی کا ایک نیا طوفان آئے گا کاروباری سرگرمیاں ماند اور معیشت شدید مشکلات کا شکار ہو جائے گی ۔انہوں نے کہا کہ حکمران اپنی شاہ خرچیوں کو پورا کرنے اور آئی ایم ایف کا ایجنڈہ پورا کرنے کیلئے عوام کا خون نچوڑ رہے ہیں ۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے شاہی اخراجات میں کمی کرے اور وزرا ، ممبران اسمبلی اسپیکر کی تنخواہوں اور مراعات میں حالیہ اضافے کو ختم کرے، گیس و پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ واپس لے تاکہ مہنگائی کی چکی میں پسی ہوئی عوام سکھ کا سانس لے سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کی قیمتوں میں
پڑھیں:
اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا
اٹلی(نیوز ڈیسک)اطالوی میڈیا رپورٹس کے مطابق، اٹلی میں پولیس نے دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے جو ایک جلی ہوئی منی وین میں مردہ پائے گئے تھے۔
گاڑی جنوبی کلابریا کے علاقے میں ایک وسیع کھیتی کے علاقے میں ایک گاؤں کے قریب ایک پٹرول اسٹیشن سے ملی۔
سی سی ٹی وی امیجز میں دیکھا گیا کہ دو افراد وین کے دروازے باہر سے روک رہے ہیں اور آگ لگانے کے لیے اندر مائع پھینک رہے ہیں۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اس علاقے میں حالیہ مہینوں میں پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو نذر آتش کرنے کے 14 واقعات ہوئے ہیں، جہاں فارم کے کام اور رہائش کی تقسیم پر تارکین وطن کے درمیان تناؤ پایا جاتا ہے۔
فائر فائٹرز کو منگل کو مقامی وقت کے مطابق تقریباً 13:00 بجے (11:00 GMT) جلتی ہوئی وین کے مقام پر بلایا گیا۔
شعلوں کو بجھانے کے بعد انہوں نے اندر سے چار جلی ہوئی لاشوں کی بھیانک دریافت کی۔
دونوں مشتبہ افراد کو بعد میں سی سی ٹی وی فوٹیج کے شواہد کی بنیاد پر گرفتار کر لیا گیا۔
اطالوی میڈیا کا کہنا ہے کہ افغانستان سے تعلق رکھنے والا پانچواں شخص حملے میں بچ گیا ہے۔ ان کے حوالے سے بتایا گیا کہ ہلاک ہونے والوں میں تین افغان اور ایک پاکستانی شامل ہے، جو تمام زراعت کا کام کرتے تھے۔
زندہ بچ جانے والے شخص نے اطالوی میڈیا کو بتایا کہ وہ ایک کھڑکی توڑ کر جلتی ہوئی کار سے بچ نکلا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ دونوں گرفتار افراد کی جانب سے گاڑی میں سوار افراد سے ٹرانسپورٹیشن کی رقم کا مطالبہ کرنے کے بعد تنازعہ پیدا ہوا تھا، جسے انہوں نے دینے سے انکار کر دیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ مزدوروں کو علاقے کے اسٹرابیری کے کھیتوں میں ان کے کام کی ادائیگی نہیں کی گئی، حالانکہ انہیں کھانا اور رہائش فراہم کی گئی تھی۔
ان ہلاکتوں نے اٹلی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ کلابریا کے علاقائی صدر، روبرٹو اوچیوٹو نے کہا کہ حملے کی خبر “انسانیت پر یقین کو متزلزل کرتی ہے”، اور مزید کہا کہ یہ “غیر انسانی” ہے۔
اس دوران CGIL یونین کے حوالے سے اٹلی کی انسا نیوز ایجنسی نے “ہمارے دیہی علاقوں میں مزدوروں، اکثر تارکین وطن کی طرف سے برداشت کی جانے والی روزمرہ کی زندگی کی گھناؤنی حرکتوں کا مقابلہ کرنے” کے لیے کارروائی کا مطالبہ کیا۔