شیفالی کی موت سے اینٹی ایجنگ انجیکشن کا تعلق؟ معروف ڈرماٹولوجسٹ کا بیان سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
بھارتی اداکارہ شیفالی زری والا کی موت سے متعلق بھارت کے معروف ڈرماٹولجسٹ ایرک بورجز کا بیان سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا۔
معروف بھارتی اداکارہ و ماڈل شیفالی زری والا 42 برس کی عمر میں اچانک انتقال کرگئیں، جس پر ان کے مداحوں اور شوبز حلقوں میں گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا جارہا ہے۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق انہیں دل کا دورہ پڑا، جس کے بعد ان کے شوہر پراگ تیاگی نے انہیں فوری طور پر ممبئی کے اندھیری علاقے میں واقع بیلیو ملٹی اسپیشلٹی اسپتال منتقل کیا، تاہم وہ جانبر نہ ہوسکیں۔
بھارتی میڈیا کی تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اداکارہ کی موت کا تعلق اینٹی ایجنگ انجیکشن کے استعمال سے جوڑا جارہا ہے، جو انہوں نے ورت (فاسٹنگ) کے بعد لیا تھا۔
اس حوالے سے معروف ڈرماٹولوجسٹ ایرک بورجز کا ویڈیو بیان سوشل میڈیا پر گردش کر رہے ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ اینٹی ایجنگ انجیکشنز بعض اوقات جسم کے الیکٹرولائٹس کا توازن بگاڑ دیتے ہیں، جس سے بلڈ پریشر میں کمی اور پوٹاشیم کی سطح گرنے جیسے خطرناک مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
https://www.
ڈاکٹر نے اداکارہ کی سگریٹ نوشی کی عادت کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ نکوٹین جلد کے خلیوں کو نقصان پہنچا کر عمر رسیدگی کے آثار کو بڑھا سکتی ہے تاہم موت کی اصل وجہ پوسٹ مارٹم رپورٹ سے ہی واضح ہوگی۔
یاد ہے کہ اس وقت شیفالی کی موت کی وجوہات سے متعلق پوسٹ مارٹم رپورٹ کا شدت سے انتظار کیا جا رہا ہے اور ان کے ساتھی اداکاروں سمیت مداح جاننا چاہتے ہیں کہ کیا واقعی 42 سالہ اداکارہ کی موت اینٹی ایجنگ انجیکشن کی وجہ سے ہوئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اینٹی ایجنگ کی موت
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔