UrduPoint:
2026-07-24@06:24:43 GMT

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں امرناتھ یاترا کا آغاز

اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں امرناتھ یاترا کا آغاز

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 03 جولائی 2025ء) بھارتی زیرِانتظام کشمیر میں آج تین جولائی بروز جمعرات ہندوؤں کی مقدس امرناتھ یاترا کا آغاز ہو گیا۔ ایک ماہ جاری رہنے والی یہ یاترا ایسے وقت شروع ہوئی ہے، جب رواں سال اپریل میں پہلگام کے قریب ایک مسلح حملے نے بھارت اور پاکستان کے درمیان شدید کشیدگی کو جنم دیا تھا۔

گزشتہ برس پانچ لاکھ سے زائد عقیدت مندوں نے ہمالیائی پہاڑوں میں واقع ایک غار میں موجود برف کے قدرتی ستون کی زیارت کی تھی، جسے ہندو دیوتا شیوو کے روپ میں پوجا جاتا ہے۔

اس سال یاترا کا آغاز پہلگام میں اسی علاقے سے ہوا، جہاں 22 اپریل کو مسلح حملہ آوروں نے 26 افراد کو ہلاک کر دیا تھا، جن میں اکثریت ہندو سیاحوں کی تھی۔

بھارت نے حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا تھا، جسے اسلام آباد نے مسترد کیا۔

(جاری ہے)

اس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی کشیدگی نے شدت اختیار کی، جو چار روزہ محدود جنگ میں تبدیل ہو گئی۔

10 مئی تک جنگ بندی سے قبل دونوں جانب سے میزائل، ڈرون اور توپ خانے کے حملوں میں 70 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے تھے۔ یہ 1999ء کے بعد دونوں جوہری ممالک کے درمیان بدترین محاذ آرائی تھی۔

تاہم یاتریوں میں خوف کے آثار نظر نہیں آئے۔ اتر پردیش سے آئے منیشور داس شاستری نے اے ایف پی کو بتایا، ''یہاں کسی قسم کا کوئی خوف نہیں۔ ہماری فوج ہر جگہ تعینات ہے، کوئی ہم پر انگلی نہیں اٹھا سکتا۔

‘‘

بھارت نے یاترا کے لیے سکیورٹی کے غیرمعمولی اقدامات کیے ہیں۔ تقریباً 45,000 سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جبکہ ہائی ٹیک نگرانی کے آلات، چہرہ شناس کیمرے اور الیکٹرانک ریڈیو کارڈز کے ذریعے یاتریوں کی نقل و حرکت کی نگرانی کی جا رہی ہے۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے پولیس چیف وی کے برڈی نے کہا، ''ہم نے کثیر سطحی اور مظبوط سکیورٹی انتظامات کیے ہیں تاکہ یاترا کو محفوظ اور آسان بنایا جا سکے۔

‘‘ پہلگام میں یاتریوں کا بیس کیمپ خاردار تاروں سے گھرا ایک قلعہ بن چکا ہے۔ بکتر بند گاڑیاں، ریت کی بوریاں اور پوشیدہ مورچے ہر سمت موجود ہیں۔

یاتریوں کو رجسٹریشن کے بعد سکیورٹی قافلوں میں روانہ کیا جاتا ہے اور پیدل سفر کا آغاز اسی مقام سے ہوتا ہے، جہاں سڑک ختم ہو جاتی ہے۔ تقریباً 30 کلومیٹر طویل اور 3,900 میٹر بلند اس پہاڑی راستے میں درجنوں مقامات پر مفت لنگر بھی تقسیم کیا جا رہا ہے۔

بھارتی ریاست اتر پردیش سے آئے 29 سالہ اُجوال یادیو نے کہا، ''جو بھی حملہ یہاں ہوا، مجھے کوئی خوف نہیں۔ میں بابا (برف کا ستون) کے درشن کے لیے آیا ہوں۔ سکیورٹی کے ایسے انتظامات ہیں کہ کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا۔‘‘

اگرچہ حکام کا کہنا ہے کہ عوامی اعتماد بحال ہو رہا ہے مگر یاترا کے لیے رجسٹریشن گزشتہ برس کے مقابلے میں 10 فیصد کم ہوئی ہے۔

جموں و کشمیر میں بھارتی مقرر کردہ منتظم منوج سنہا نے کہا ، ''لوگوں کا اعتماد واپس آ رہا ہے‘‘، لیکن انہوں نے اعتراف کیا کہ کچھ لوگ اب بھی ہچکچا رہے ہیں۔

یاترا اگست کے آغاز تک جاری رہے گی، جس دوران ہزاروں یاتری غار تک پہنچنے کی کوشش کریں گے ، یہ ایک ایسا روحانی تجربہ جو ہر سال سیاسی اور سکیورٹی تناؤ کے درمیان منعقد کیا جاتا ہے۔

شکور رحیم، اے ایف پی کے ساتھ

ادارت: کشور مصطفیٰ

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کے درمیان کا آغاز

پڑھیں:

مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش

عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے  آیا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے  فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔ 

انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں  زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔

بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ 

اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے  مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین  تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر  رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا