امرناتھ یاترا مقبوضہ کشمیر میں فوجی محاصرہ، ماحولیاتی تباہی یا کشمیریوں کے لیے کڑی آزمائش
اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT
بھارت کے زیر تسلط مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہر سال ہونے والی امرناتھ یاترا مذہبی سرگرمی کے بجائے اب ایک سیکیورٹی آپریشن میں تبدیل ہو چکی ہے۔ مودی حکومت کے دور میں اس یاترا کو عسکریت زدہ بنانے کے رجحان میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں کشمیری عوام نہ صرف سخت پابندیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا شکار ہیں بلکہ وادی کا نازک ماحولیاتی نظام بھی تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔
کشمیری میڈیا سروس کے مطابق سالانہ امرناتھ یاترا کا آغاز آج جموں کے بھگوتی نگر بیس کیمپ سے سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان ہوا۔ صبح 4 بجے بالٹال روٹ کے یاتریوں کا پہلا قافلہ روانہ ہوا، جس کے بعد 4:30 بجے پہلگام روٹ سے دوسرا قافلہ روانہ کیا گیا۔ یاترا 270 کلومیٹر طویل سری نگر جموں ہائی وے کے ذریعے جاری رہے گی، جسے مکمل طور پر بھارتی فوج، پولیس، اور سی آر پی ایف نے گھیرے میں لے رکھا ہے۔
موٹر وے، پلوں، سرنگوں، ریلوے ٹریکس سمیت پورا راستہ خاردار تاروں اور سنائپرز کی نگرانی میں ہے۔ اسٹریٹجک اہمیت کے حامل تمام مقامات پر بھارتی فوجی بلند مقامات سے قافلوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں، جبکہ زمین پر سخت گشت، تلاشی، اور چیکنگ کا نظام قائم ہے۔
مزید پڑھیں: مودی سرکار کا ’اذان‘ پر نیا وار، مساجد کے لاؤڈ اسپیکر پر پابندی
رام بن ضلع کے قریباً 70 کلومیٹر طویل پہاڑی حصے پر قافلوں کو عارضی اسٹاپ دیے جا رہے ہیں، جن میں چندر کوٹ اور بانہال کا لمبر گراؤنڈ شامل ہے، جہاں یاتریوں کو ناشتہ اور چائے فراہم کی جاتی ہے۔
جموں شہر کو بھی فوجی نگرانی میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ جگہ جگہ چیک پوسٹس، سڑکوں پر مسلسل تلاشی، اور مشتبہ افراد کی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔ پولیس ترجمان کے مطابق، یاترا کے پیش نظر شہر بھر میں مشترکہ چیکنگ پوائنٹس قائم کیے گئے ہیں، جو ہائی وے، نواحی علاقوں، اور بیس کیمپ جانے والے تمام راستوں پر 24 گھنٹے فعال رہیں گے۔
پولیس کے ساتھ ساتھ سی آر پی ایف، آئی ٹی بی پی، سی آئی ایس ایف اور دیگر مرکزی سیکیورٹی ایجنسیاں بھی تعینات ہیں، جو یاتریوں کی مکمل اسکیننگ، نگرانی، اور فزیکل فرسکنگ انجام دے رہی ہیں۔ مقامی کشمیریوں کو اس عمل میں مسلسل ذہنی اذیت، نقل و حرکت کی بندش، اور معاشی نقصان کا سامنا ہے۔
مودی حکومت میں مذہبی سیاست اور یاترا کا عسکری استعمالتجزیہ نگاروں کے مطابق، مودی سرکار نے امرناتھ یاترا کو نہ صرف ہندو قوم پرستی کے ایجنڈے کے طور پر استعمال کیا بلکہ اسے کشمیر میں اپنی فوجی موجودگی کو جائز بنانے کا بھی ایک حربہ بنا لیا ہے۔ 2014 کے بعد سے یاتریوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے لیے بھاری سیکیورٹی انفراسٹرکچر استعمال کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: بھارتی خفیہ ایجنسی را کی بڑھتی ناکامیوں پر مودی حکومت کا بڑا فیصلہ، پراگ جین نئے سربراہ مقرر
جہاں ایک طرف یاتریوں کو ریاستی پروٹوکول اور سہولیات حاصل ہیں، وہیں دوسری طرف کشمیری عوام کو ان کے بنیادی شہری حقوق سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ روزمرہ کے معمولات درہم برہم، تعلیمی ادارے بند، طبی سہولیات محدود، اور معاشی سرگرمیاں مفلوج ہو جاتی ہیں۔
یاترا ماحولیاتی تباہی میں بدل چکی ہے، ماحولیاتی ماہرینکشمیر کے نازک ماحولیاتی نظام پر لاکھوں یاتریوں کی یلغار خطرناک اثرات مرتب کر رہی ہے۔ قدرتی چراگاہیں، برفانی جھیلیں، اور ندی نالے آلودگی اور انسانی دباؤ کا شکار ہو رہے ہیں۔ کیمپنگ، کوڑا کرکٹ، فاضل مواد، اور گاڑیوں کا دھواں ان پہاڑی علاقوں میں ماحول کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق، اس یاترا کو فوری طور پر مختصر کیا جانا، محدود زائرین کو اجازت دینا، اور سخت ماحولیاتی ضوابط لاگو کرنا ناگزیر ہو چکا ہے، وگرنہ وادی میں ماحولیاتی تباہی یقینی ہے۔
مقبوضہ کشمیر عسکری مذہبی تھیٹر میں تبدیلتجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ امرناتھ یاترا، جو ایک مذہبی فریضہ تھا، اب بھارت کے لیے کشمیر میں عسکری اور نظریاتی تسلط کا ذریعہ بن چکی ہے۔ بین الاقوامی برادری کو اس امر کا نوٹس لینا چاہیے کہ کیسے ایک مذہبی سفر کی آڑ میں ایک پوری وادی کو محصور، اور ایک قوم کو خاموش کرایا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: بھارتی مسلمانوں کے خلاف مودی سرکار کی جنگ، عید قرباں سے قبل متعدد پابندیاں عائد
یاترا کا دورانیہ کم اور زائرین کی تعداد محدود کی جائے، کشمیری مطالبہ
کشمیریوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا مطالبہ ہے کہ بھارت امرناتھ یاترا کا دورانیہ کم کرے، زائرین کی تعداد کو کنٹرول کرے، کشمیریوں کے بنیادی حقوق کا احترام کرے اور ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنائے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امرناتھ یاترا بھارت ماحولیاتی آلودگی مقبوضہ جموں و کشمیر ہندو یاتری.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امرناتھ یاترا بھارت ماحولیاتی ا لودگی ہندو یاتری امرناتھ یاترا کے مطابق یاترا کا کے لیے
پڑھیں:
گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں کے باعث آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے نظامِ زندگی مفلوج کر دیا، متعدد شاہراہیں، پل اور رابطہ سڑکیں بہہ جانے سے ہزاروں افراد، جن میں سیاح بھی شامل ہیں، مختلف علاقوں میں پھنس گئے۔
محکمہ موسمیات نے 26 جولائی تک گلگت بلتستان میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے گلیشیائی جھیلیں پھٹنے سے اچانک سیلاب آنے کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پورا ہفتہ موسلا دھار مون سون بارشیں، محکمہ موسمیات کا ملک گیرالرٹ، شہریوں کو احتیاطی تدابیر اپنانے کا انتباہ
گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق قراقرم شاہراہ داسو سے ہنزہ اور نگر تک کئی مقامات پر بند ہے، جبکہ بابوسر روڈ، بلتستان روڈ، نلتر شاہراہ، غذر۔شندور روڈ، استور ویلی روڈ اور دیگر اہم راستے بھی سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے ناقابلِ استعمال ہوگئے ہیں۔
مسلسل سیلابی صورتحال کے باعث امدادی اور بحالی کی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں، جبکہ کئی علاقے پل اور رابطہ سڑکیں تباہ ہونے کے بعد ملک کے دیگر حصوں سے منقطع ہو گئے ہیں۔
روندو سب ڈویژن کے تورمک نالہ میں شدید سیلاب سے کم از کم تین اہم پل، جن میں ملان پل بھی شامل ہے، بہہ گئے۔ خرمانگ، گانچھے اور شگر اضلاع میں سڑکوں، پلوں، زرعی زمینوں، فصلوں اور بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ ہراموش میں معلق پل اور بجلی گھر متاثر ہوئے ہیں۔
استور، تانگیر، تھور اور ضلع دیامر کے دیگر علاقوں میں بجلی، پانی اور مواصلاتی نظام معطل ہو گیا ہے۔ پینے کے پانی کی اسکیمیں، آبپاشی کے نہری نظام اور حفاظتی پشتے بھی تباہ ہو گئے، جبکہ کئی دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔
یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا میں شدید بارشوں کی پیشگوئی، گلیشیئر پھٹنے اور سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری
استور، تھور ویلی، تانگیر اور دیگر علاقوں میں درجنوں خاندان سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بے گھر ہو گئے ہیں۔
ضلع غذر میں متعدد مقامات پر سڑکیں بند، مقامی سطح پر سیلابی صورتحال اور دو گھروں کو جزوی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں، جبکہ احتیاطی تدابیر کے تحت حساس علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
ہنزہ نگر دریا میں پانی کی سطح بلند ہونے سے گلگت کے جوتل علاقے میں آٹھ گھروں کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے، جبکہ یاسین ویلی، شیلی آباد، امیت اور دیگر علاقوں میں دریا کے کٹاؤ سے زرعی اراضی اور درختوں کو نقصان پہنچا ہے۔ غذر۔شندور اور غذر۔گلگت سڑکیں بھی تاحال بند ہیں۔
حکام نے شہریوں اور سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔
گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122 اور دیگر ادارے مشترکہ طور پر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے اور انہیں خیمے، راشن، ادویات اور صاف پانی فراہم کیا جارہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 6 سے 10 اپریل کے دوران بارشیں اور ژالہ باری، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری
وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین نے متاثرہ علاقوں میں امدادی اور بحالی کے کام تیز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو چوبیس گھنٹے الرٹ رہنے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے خوراک، صحت، پینے کے پانی، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے اور تباہ شدہ سڑکوں، پلوں اور بنیادی ڈھانچے کی فوری بحالی کے لیے بھاری مشینری استعمال کرنے کی بھی ہدایت کی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ گلگت بلتستان کی حکومت متاثرہ عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا کر متاثرین کی بحالی اور ہر ممکن امداد فراہم کی جائے گی۔
انہوں نے اسلام آباد میں قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ بھی کیا، جہاں چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے انہیں بتایا کہ گلگت بلتستان میں گلیشیئرز کی جدید سائنسی طریقوں سے مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور ہر گلیشیئر کو منفرد شناختی کوڈ دیا گیا ہے تاکہ ممکنہ خطرات کا بروقت اندازہ لگایا جا سکے۔
وزیراعلیٰ امجد حسین نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اب ایک حقیقت بن چکے ہیں اور گلگت بلتستان ان سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے، جہاں گلیشیائی جھیلیں پھٹنے، اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان مؤثر تعاون پر زور دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بارش تباہی سیلاب گلگت بلتستان