ایران کا آئی اے ای اے کے ساتھ تعاون معطل کرنا ناقابل قبول ہے:امریکا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن: امریکا نے کہا ہے کہ ایران کا آئی اے ای اے کے ساتھ تعاون معطل کرنے کا انتخاب ناقابل قبول ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ٹیمی بروس نے کہا کہ ایران کی جانب سے اقوام متحدہ کے جوہری نگراں ادارے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی(آئی اے ای اے) کے ساتھ تعاون کی معطلی ناقابل قبول اور افسوسناک ہے۔
ترجمان نے کہا کہ ایران کو یورینیم افزودگی کے حوالے سے عالمی ایجنسی سے تعاون کرنا ہوگام امریکا کے حملے سے پہلے ایران یورینیم کی افزودگی کررہا تھا۔
ترجمان امریکی خارجہ نے غزہ کی تباہی کا مبلہ حماس پر ڈال دیا، کہا غزہ کی صورتحال کی ذمہ دار حماس ہے ، حماس نے جنگ بندی معاہدے کو متعدد مرتبہ توڑا ۔۔ غزہ میں حالات معمول پر لانے کیلئے حماس کو ہتھیار ڈالنا اور مغوی رہا کرنے ہوں گے،
امریکی ترجمان وزارت خارجہ ٹیمی بروس نے کہا کہ صدر ٹرمپ غزہ میں 60 روزہ جنگ بندی کے لیے پُرامید ہیں تاہم جنگ بندی معاہدے کی تفصیلات بیان نہیں کیں ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نے کہا
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔