ایران اور اسرائیل کے درمیان سیز فائر کے پیچھے بھی ’وردی‘ ہے،محسن نقوی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ ایران اور اسرائیل کے مابین حالیہ جنگ بندی کے پس پردہ بھی ’وردی‘ کا کردار ہے، انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے بھی خطے میں امن کے قیام اور سیز فائر کے عمل میں کلیدی کردار ادا کیا ہے، علما سے مکمل رابطے اور مشاورت کے ساتھ ملک میں امن و استحکام کو یقینی بنایا جائے گا۔
اسلام آباد میں محرم الحرام کے دوران امن وامان کی صورتحال کے جائزہ اجلاس میں علما کرام سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ محرم الحرام کے دوران امن و امان کا قیام علما کی شراکت کے بغیر ممکن نہیں، علما کرام کا معاشرے میں انتہائی اہم اور مثبت کردار ہے اور حکومت ان کے تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ قیامِ امن کے لیے علما نے ہمیشہ بھرپور کردار ادا کیا ہے اور محرم کے دوران مذہبی ہم آہنگی کا فروغ نہایت ضروری ہے، انہوں نے ممتاز مذہبی شخصیت مولانا عبدالخبیر آزاد کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کا تعاون ہر وقت حکومت کے ساتھ رہتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پہلی ہی بارش میں اسلام آباد کا انڈرپاس بیٹھ گیا، ’کوئی تو محسن نقوی سے حساب مانگے‘
محسن نقوی نے ملک کی حالیہ دفاعی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کی نصرت سے بھارت کے خلاف جنگ میں پاکستان کو فتح حاصل ہوئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نے جنگ کے دوران بھارتی شہری آبادی کو نشانہ نہیں بنایا کیونکہ حکومت نہیں چاہتی تھی کہ بھارت کے کسی سویلین کو نقصان پہنچے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ بھارت کی جانب سے فائر کیے گئے تمام میزائل اپنے اہداف کو حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران اور اسرائیل کے مابین حالیہ سیز فائر کے پس پردہ بھی ’وردی‘ کا کردار ہے۔
محسن نقوی نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی خطے میں امن کے قیام اور سیز فائر کے عمل میں کلیدی کردار ادا کیا ہے، وزیر داخلہ نے علما کرام کی آمد پر ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ آئندہ بھی علما سے مکمل رابطے اور مشاورت کے ساتھ ملک میں امن و استحکام کو یقینی بنایا جائے گا۔
مزید پڑھیں:سعدیہ اقبال ٹی20 کی نمبر ون بولر، پی سی بی چیئرمین محسن نقوی کی جانب سے پذیرائی
اس موقع پر خطیب بادشاہی مسجد لاہور اور چیئرمین رویت ہلال کمیٹی، مولانا عبدالخبیر آزاد نے کہا کہ پاکستان پر جارحیت مسلط کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے عبرتناک شکست سے دوچار کیا، پاکستان کا دشمن نہ صرف جھوٹا بلکہ انتہائی مکار بھی ہے، جس نے ہمیشہ سازشوں کے ذریعے پاکستان کے امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی، مگر اللہ کے فضل و کرم سے قوم نے ہر بار متحد ہو کر دشمن کے ناپاک عزائم کو ناکام بنایا۔
مولانا عبدالخبیر آزاد نے کہا کہ بھارت کے خلاف پوری قوم یک آواز اور متحد تھی، اور یہ اتحاد ہی دشمن کی شکست کا باعث بنا، انہوں نے کہا کہ قوم کے حوصلے بلند ہیں اور افواجِ پاکستان کے شانہ بشانہ پوری قوم ہر قسم کی قربانی کے لیے تیار ہے۔
معرکہ حق میں اتحاد یقین اور مضبوط عزم کے ساتھ کامیابی ملی، معرکہ حق نے پوری قوم کو ایک پیج پر کھڑا کر دیا، یہ ملک ہمارا ہے،وطن سے محبت ہمارے ایمان کا حصہ ہے، محرم میں ہم نے مثالی اتحاد کا مظاہرہ کرنا ہے۔
مزید پڑھیں: ویمنز پی ایس ایل سمیت اہم اعلانات، محسن نقوی لڑکیوں کی کارکردگی پر خوشی سے سرشار
انہوں نے اجلاس میں شریک تمام علمائے کرام کو خوش آمدید کہتے ہوئے ان کے اتحاد و یکجہتی کے جذبے کو سراہا اور اس امید کا اظہار کیا کہ محرم الحرام کے دوران بھی علما کرام اپنا مثبت، معتدل اور اتحاد پیدا کرنے والا کردار ادا کرتے رہیں گے۔
اس موقع پر خطیب بادشاہی مسجد لاہور اور چیئرمین رویت ہلال کمیٹی، مولانا عبدالخبیر آزاد نے کہا کہ پاکستان پر جارحیت مسلط کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے عبرتناک شکست سے دوچار کیا، پاکستان کا دشمن نہ صرف جھوٹا بلکہ انتہائی مکار بھی ہے، جس نے ہمیشہ سازشوں کے ذریعے پاکستان کے امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی، مگر اللہ کے فضل و کرم سے قوم نے ہر بار متحد ہو کر دشمن کے ناپاک عزائم کو ناکام بنایا۔
مولانا عبدالخبیر آزاد نے کہا کہ بھارت کے خلاف پوری قوم یک آواز اور متحد تھی، اور یہ اتحاد ہی دشمن کی شکست کا باعث بنا، انہوں نے کہا کہ قوم کے حوصلے بلند ہیں اور افواجِ پاکستان کے شانہ بشانہ پوری قوم ہر قسم کی قربانی کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے اجلاس میں شریک تمام علمائے کرام کو خوش آمدید کہتے ہوئے ان کے اتحاد و یکجہتی کے جذبے کو سراہا اور اس امید کا اظہار کیا کہ محرم الحرام کے دوران بھی علما کرام اپنا مثبت، معتدل اور اتحاد پیدا کرنے والا کردار ادا کرتے رہیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل ایران بادشاہی مسجد لاہور خطیب رویت ہلال کمیٹی محسن نقوی وزیر داخلہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل ایران بادشاہی مسجد لاہور رویت ہلال کمیٹی محسن نقوی وزیر داخلہ مولانا عبدالخبیر آزاد نے کہا کہ محرم الحرام کے دوران محسن نقوی نے سیز فائر کے پاکستان کے وزیر داخلہ بھارت کے کہ بھارت پوری قوم انہوں نے کے ساتھ ادا کیا اور اس کے لیے
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔