لاہور میں آٹھ گھنٹے کی طوفانی بارش کا نیا ریکارڈ، نکاسی آب کے لیے ایمرجنسی اقدامات
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
لاہور میں تقریباً 8 گھنٹے تک جاری رہنے والی موسلا دھار بارش نے ایک نیا ریکارڈ قائم کر دیا، واسا کے مطابق شہر بھر میں اوسطاً 144 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جو حالیہ برسوں میں ایک تاریخی مون سون اسپیل قرار دیا جا رہا ہے۔
واسا کے مطابق سب سے زیادہ بارش نشتر ٹاؤن میں 182 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی جبکہ پانی والا تالاب میں 175، فرخ آباد میں 155، لکشمی چوک میں 143، قرطبہ چوک میں 151، اور گلشن راوی میں 128 ملی میٹر بارش ہوئی۔
دیگر مقامات میں جیل روڈ پر 124 ملی میٹر، ایئرپورٹ پر 84.
یہ بھی پڑھیں: ملک بھر میں شدید بارشیں: مختلف حادثات میں 4 افراد جاں بحق، متعدد علاقے زیرِ آب، بجلی کا نظام متاثر
شدید بارش کے باعث شہر کے متعدد علاقے زیر آب آ گئے، جن میں نشتر ٹاؤن اور علامہ اقبال ٹاؤن خاص طور پر متاثر ہوئے، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف صورتحال کی لمحہ بہ لمحہ نگرانی کر رہی ہیں اور نکاسی آب کے فوری انتظامات کی ہدایت جاری کی ہیں۔
واسا، ضلعی انتظامیہ، پی ڈی ایم اے اور دیگر متعلقہ ادارے پوری طرح متحرک ہیں۔ واسا کی ٹیمیں اور افسران فیلڈ میں موجود ہیں اور بجلی کی بار بار بندش کے باوجود نکاسی آب کے عمل کو بحال رکھنے کے لیے کوشاں ہیں۔
ایم ڈی واسا غفران احمد کی جانب سے نکاسی آب کے عمل کی لمحہ بہ لمحہ نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ شہریوں کو ممکنہ مشکلات سے بچایا جا سکے۔ واسا کی ٹیمیں مختلف علاقوں میں نکاسی آب کے لیے متحرک ہیں اور بارش کے پانی کی بروقت نکاسی کو یقینی بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔
مزید پڑھیں: کہیں رحمت کہیں زحمت، بارش نے خطرے کی گھنٹی بجا دی
اب تک ہونے والی بارش کے ساتھ ہی جی پی او چوک، نابھہ روڈ، ریلوے اسٹیشن، رسول پارک شمع روڈ، ٹکہ چوک جوہر ٹاؤن، بھاٹی گیٹ، شاہ جمال، تاجپورہ اور وحدت روڈ کلیئر کر دیے گئے ہیں۔
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ صوبائی دارالحکومت لاہور میں گزشتہ 5 سے 6 گھنٹوں سے مسلسل بارش کا سلسلہ جاری ہے، تاہم صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ واسا اور ضلعی انتظامیہ کی تمام ٹیمیں فیلڈ میں موجود ہیں اور مسلسل نکاسی آب کے عمل میں مصروف ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایات پر تمام افسران اور عملہ پوری طرح متحرک ہے تاکہ شہریوں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
مزید پڑھیں: 6 سے 10 جولائی کے دوران ملک کے مختلف حصوں میں شدید بارشوں اور سیلاب کا خطرہ
عظمیٰ بخاری کے مطابق لاہور کے تمام انڈر پاسز کلیئر ہیں اور وہاں سے پانی کی مکمل نکاسی کی جا چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چند نشیبی علاقوں میں اب بھی پانی موجود ہے تاہم وہاں پر بھی واسا کا عملہ متحرک ہے اور نکاسی آب کا عمل تیزی سے جاری ہے۔
عظمیٰ بخاری نے اُمید ظاہر کی کہ تھوڑی دیر میں تمام متاثرہ مقامات سے پانی نکال لیا جائے گا اور صورتحال مکمل طور پر بحال ہو جائے گی، انہوں نےعوام سے اپیل کی کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور کسی بھی ہنگامی صورتِ حال میں متعلقہ اداروں سے فوری رابطہ کریں
وزیراعلیٰ نے شہر میں ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنے کے لیے ٹریفک وارڈنز اور متعلقہ افسران کو فیلڈ میں موجود رہنے کا حکم دیا ہے، تاکہ بارش کے باوجود کسی بھی شاہراہ پر ٹریفک کی روانی متاثر نہ ہو۔ شہری سہولت اور فوری ردعمل کو یقینی بنانے کے لیے واسا اور دیگر ادارے ہمہ وقت سرگرم ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انڈر پاسز ایئرپورٹ بارش پنجاب ریلوے اسٹیشن عظمیٰ بخاری گلبرگ لاہور مریم نواز شریف مون سون نکاسی آب واسا وحدت روڈ وزیر اطلاعات وزیر اعلی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انڈر پاسز ایئرپورٹ ریلوے اسٹیشن گلبرگ لاہور مریم نواز شریف نکاسی آب واسا وحدت روڈ وزیر اطلاعات وزیر اعلی نکاسی آب کے ملی میٹر بارش کے ہیں اور کے لیے
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔