ڈی جی ایف آئی اے رفعت مختار نے منی لانڈرنگ کی تحقیقات کے حوالے سے تاریخی اقدام کرتے ہوئے کارروائیوں کو مزید مؤثر اور شفاف بنانے کے لیے اہم ایس او پیز جاری کردئیے۔

ترجمان ایف آئی اے کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ایس او پیز کا مقصد اختیارات کے ناجائز استعمال کا خاتمہ، شفافیت کا فروغ اور احتساب کے عمل کو یقینی بنانا ہے، ایف آئی آر کے اندراج کو بہتر، ضابطے کے تابع اور قابل نگرانی بنایا گیا ہے۔

ادارے کی ساکھ برقرار رہے اور بے جا قانونی کارروائیوں سے گریز ممکن ہو، منی لانڈرنگ کے کسی بھی مقدمے کا اندراج صرف ٹھوس اور قابلِ قبول شواہد کی بنیاد پر ہوگا۔

ترجمان ایف آئی اے کے مطابق ایس او پیز میں اس  امر کو لازمی قرار دیا گیا ہے کہ ایف آئی آر درج کرنے سے قبل متعلقہ پریڈیکیٹ آفنس (بنیادی جرم) کا حوالہ دینا ضروری ہوگا، اگر کوئی مقدمہ بنیادی جرم کے بغیر ہے تو اس پر منی لانڈرنگ کے تحت کارروائی نہیں کی جا سکے گی۔

بیان میں کہا گیا کہ نئے ایس او پیز میں تحقیقاتی عمل کے لیے واضح ٹائم لائن مقرر کر دیا گیا ہے، جس پر عملدرآمد تمام تفتیشی افسران کے لیے لازم ہوگا، تفتیش میں تاخیر کی صورت میں متعلقہ افسر کے خلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

ایف آئی آر درج کرنے کے اختیارات کو  اعلیٰ سطح کی منظوری سے مشروط کر دیا گیا ہے، تمام کیسز اور انکوائریز کی 24 گھنٹے مانیٹرنگ ایف آئی اے ہیڈکوارٹرز سے کی جائے گی۔

ترجمان ایف آئی اے نے کہاکہ  دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ معلومات کے تبادلے اور مشترکہ کارروائیوں کے لیے ایک مؤثر بین الادارہ جاتی کوآرڈینیشن میکانزم قائم کر دیا گیا ہے، ایف آئی اے کے جاری کردہ نئے ایس او پیز کے تحت منی لانڈرنگ کے مقدمات میں شفافیت اور قانون پر سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنایا گیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: منی لانڈرنگ ایف آئی اے ایس او پیز دیا گیا ہے کے لیے

پڑھیں:

حساس معلومات لیک ہونے کا معاملہ، جے ڈی وینس کے قریبی سکیورٹی اہلکار کے خلاف تحقیقات

واشنگٹن: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی سکیورٹی ٹیم سے وابستہ ایک خفیہ سروس اہلکار کے خلاف تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ اہلکار پر الزام ہے کہ اس نے نائب صدر کے سفری انتظامات سے متعلق حساس معلومات میڈیا تک پہنچائیں۔

امریکی خفیہ سروس کے ترجمان انتھونی گگلیلمی نے ایک بیان میں تصدیق کی کہ نائب صدر کے حفاظتی یونٹ کے ایک رکن کے خلاف انتظامی تحقیقات جاری ہیں، جبکہ ممکنہ طور پر فوجداری تحقیقات بھی کی جا سکتی ہیں۔

ترجمان کے مطابق اہلکار پر آپریشنل اور معلوماتی سکیورٹی سے متعلق ضوابط کی خلاف ورزی کے الزامات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ایسی سرگرمی کو برداشت نہیں کیا جائے گا جو کسی اعلیٰ سرکاری شخصیت کی سلامتی کو خطرے میں ڈال سکتی ہو۔

یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ایک امریکی نشریاتی ادارے نے رپورٹ شائع کی کہ نائب صدر جے ڈی وینس اپنی سکیورٹی ٹیم سے بعض ذاتی نوعیت کے سفری انتظامات کی درخواست کرتے رہے ہیں، جس پر بعض اہلکار ناراضی کا اظہار کر رہے تھے۔

رپورٹ کے مطابق ان درخواستوں میں ایک واقعہ یہ بھی شامل تھا جس میں جے ڈی وینس مبینہ طور پر اپنے بیٹے کو گالف کی تربیت کے لیے ایک محفوظ گالف کورس تک فوجی ہیلی کاپٹر کے ذریعے لے جانا چاہتے تھے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق اس مقصد کے لیے ’میرین ٹو’ نامی ہیلی کاپٹر استعمال کرنے کی تجویز زیر غور تھی۔ میرین ٹو وہ سرکاری ہیلی کاپٹر ہے جو امریکی نائب صدر کے سفر کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

تاہم بعد ازاں خراب موسم اور گرج چمک کے باعث یہ پرواز منسوخ کر دی گئی اور منصوبہ عملی شکل اختیار نہ کر سکا۔

تاحال جے ڈی وینس کے دفتر کی جانب سے اس رپورٹ پر کوئی تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ تحقیقات مکمل ہونے تک خفیہ سروس نے مزید تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق یہ معاملہ نہ صرف سرکاری وسائل کے استعمال بلکہ حساس سکیورٹی معلومات کے افشا سے متعلق بھی اہم سوالات اٹھا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • حساس معلومات لیک ہونے کا معاملہ، جے ڈی وینس کے قریبی سکیورٹی اہلکار کے خلاف تحقیقات
  • فیفا ورلڈکپ: ٹرمپ کی مداخلت پر فیصلہ تبدیل، ناروے کا فیفا کیخلاف بڑا اقدام اٹھانے کا فیصلہ
  • گل پلازہ انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر نہ لانے کا فیصلہ، شفافیت اور تفتیشی عمل پر نئی بحث
  • بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • جیفری ایپسٹین کیس سے جڑے معروف نام ڈینیئل سیاد کی فرانس میں پراسرار موت