data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اقوامِ متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام نے غزہ میں بڑھتے ہوئے غذائی بحران پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ علاقے میں بھوک کی صورتحال خطرناک حدوں کو چھو رہی ہے اور ہر گزرتا دن حالات کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق ورلڈ فوڈ پروگرام کا کہنا ہے کہ غزہ کی ہر تین میں سے ایک فرد اپنی بنیادی غذائی ضروریات پوری کیے بغیر دن گزارنے پر مجبور ہے، جبکہ خوراک کا بحران انسانی تاریخ کے بدترین مرحلے کی طرف بڑھ رہا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق اقوامِ متحدہ کی فلسطینی پناہ گزینوں کی ایجنسی ’اونروا‘ کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ غزہ اب بچوں اور بھوک سے بلکتے انسانوں کا قبرستان بن چکا ہے۔

اونروا کے سربراہ نے کہا ہے کہ فلسطینی عوام کے پاس زندگی بچانے کا کوئی راستہ باقی نہیں رہا، ایک جانب موت ہے تو دوسری طرف بھوک کا عذاب۔ ’’غزہ میں ہمارے اخلاقی اصول اور انسانیت کی اقدار دفن کی جا رہی ہیں،‘‘ انہوں نے کہا۔

ان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کی بے حسی مزید تباہی کا پیش خیمہ بن رہی ہے، مئی سے اب تک تقریباً 800 فلسطینی اس وقت اسرائیلی حملوں کا نشانہ بنے جب وہ امداد کے حصول کی کوشش کر رہے تھے۔

خیال رہے کہ حالیہ اسرائیلی بمباری میں مزید 45 فلسطینی شہید ہوئے، جن میں امداد کے منتظر 11 افراد بھی شامل ہیں، جس سے غزہ کے بحران نے ایک بار پھر عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ دیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

ایران سے ڈیل کے نام پر بھیک کیوں مانگی جا رہی ہے؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کے روبیو سے سخت سوالات

واشنگٹن:

امریکی سینیٹ میں ایران سے متعلق پالیسی پر اس وقت گرما گرم بحث دیکھنے میں آئی جب ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو سخت سوالات کی زد میں لے لیا۔

سینیٹ اجلاس کے دوران کوری بُکر نے حکومت کی ایران پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آخر امریکا کیوں ایران کے ساتھ کسی معاہدے کی طرف دوبارہ بڑھ رہا ہے اور وہ بھی ایسے وقت میں جب ماضی میں اسی ڈیل کو خود امریکا ناقابل قبول قرار دے چکا تھا۔

سینیٹر نے طنزیہ انداز میں کہا کہ کیا واشنگٹن اب اس معاہدے کے لیے دباؤ کا شکار ہو رہا ہے جسے پہلے مسترد کیا جا چکا تھا۔

بُکر نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے متعلق اقدامات اور خطے کی صورتحال پہلے ہی کشیدہ ہے اس کے باوجود سفارتی راستہ کس بنیاد پر اختیار کیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں

ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ

ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

جواب میں وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مؤقف اختیار کیا کہ امریکا ایران سے کسی بھیک کی پوزیشن میں نہیں بلکہ یہ ایک پیچیدہ سفارتی اور تکنیکی عمل ہے۔

ان کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات جذباتی نہیں بلکہ انتہائی تکنیکی نوعیت کے ہیں، جو چند دنوں میں مکمل نہیں ہو سکتے۔

روبیو نے کہا کہ ماہرین کی سطح پر بات چیت ہفتوں یا مہینوں تک جاری رہ سکتی ہے تاکہ ایک قابلِ عمل حل نکالا جا سکے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران اب ان بعض امور پر بات کرنے پر آمادہ ہوا ہے جن سے پہلے وہ انکار کرتا رہا ہے، خصوصاً افزودہ یورینیم کے معاملے پر پیش رفت کی ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہوسکا، شہری رُل گئے
  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • گمشدہ لڑکیاں اور معاشرتی بحران: ایک سنجیدہ عدالتی جائزہ
  • ایران سے ڈیل کے نام پر بھیک کیوں مانگی جا رہی ہے؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کے روبیو سے سخت سوالات
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا