Express News:
2026-07-24@08:29:00 GMT

کراچی میں عمارتیں کیوں گرتی ہیں؟

اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT

کراچی میں عمارتوں کا گرنا معمول بن چکا ہے، اگرکوئی پرانی عمارت اپنی خستہ حالی اور مدت کو پورا کرنے کے بعد گرے تو اس کا متعلقہ سرکاری اداروں پرکوئی الزام عائد نہیں کیا جا سکتا مگر لیاری کے علاقے بغدادی میں زمین بوس ہونے والی عمارت کو محض تیس سال قبل ہی تعمیرکیا گیا تھا۔

تیس سال کے عرصے میں کوئی بھی عمارت پرانی نہیں کہلائی جا سکتی۔ اس عمارت کا گرنا یہ بتاتا ہے کہ اس کی تعمیر انتہائی ناقص میٹریل سے کی گئی تھی، تعمیرات سے متعلق صوبائی حکومتی ادارے نے بھی اس کی تعمیر کے وقت اس کا انسپکشن کرنے کی شاید زحمت ہی نہیں کی۔

 یہ بھی پتا چلا ہے کہ جب 2022میں اس عمارت کو خطرناک قرار دیا گیا تھا، اس وقت سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی جانب سے اس کی تین منزلوں کو گرا کر اس کی بنیادوں کو مضبوط کرنے کی تجویز دی گئی تھی مگر اس تجویز پر کیا عمل ہوتا، اس کی کمزوری کے باوجود اس پر مزید دو منزلیں تعمیر کر دی گئیں۔

ظاہر ہے یہ غیرقانونی کام متعلقہ سرکاری محکموں کے افسران اور اہلکاروں کی ملی بھگت سے ہی انجام پایا ہوگا۔ 2023سے 2025 تک یہ عمارت سرکاری ریکارڈ میں تین منزلہ ہی دکھائی جاتی رہی۔ متعلقہ ادارے کی بدانتظامی، نااہلی کو دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ کراچی میں عمارتوں کے گرنے کا کبھی کوئی علاج نہیں ہو سکے گا، کیوں کہ بیوروکریسی کی نااہلی اور کرپشن نے بلڈرزکو من مانی کرنے کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔

یہ بے ہنگم سلسلہ صرف اس علاقے تک محدود نہیں ہے، پورے شہر کراچی میں ہی تقریباً ایسے ہی حالات ہیں۔ اسی لیے کراچی میں کئی برس پہلے بھی چھ سو کے قریب مخدوش عمارات تھیں اور آج بھی وہی صورت حال ہے۔ کراچی میں ایسی مخدوش عمارتوں میں 1940سے 1950میں بننے والی زیادہ عمارات شامل ہیں مگر ان میں تیس اور چالیس سال پرانی عمارتوں کا شامل ہونا خطرناک رجحان ہے جس کی ذمے داری سراسر متعلقہ سرکاری اداروں کی بیوروکریسی اور ملازمین پر عائد ہوتی ہے۔ 

آزادی سے بہت پہلے تعمیر ہونے والی عمارات اگر مخدوش حالت میں ہیں تو ان کی تعمیر کو یقینا سو سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے، ان کا مخدوش ہونا سمجھ میں آتا ہے مگر وہ عمارتیں جو 30 سے 35 سال قبل تعمیر ہوئی ہیں، ان کی حالت کا خراب ہونا تشویش ناک ہے اور ان کی تعمیر پر سوالات کا اٹھنا بجا بھی ہے کہ ان کی عمریں اتنی کم کیسے ہو سکتی ہیں۔

اگر اچھا میٹریل استعمال کیا جاتا اور انجینئرنگ کے اصولوں پر عمل کیا جاتا تو ان کے اتنی جلدی مخدوش ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا مگر بدقسمتی سے سرکاری تعمیر کا شعبہ بھی کرپشن کی بیماری میں مبتلا ہے جو دیمک کی طرح عمارتوں کو کھوکھلا کر کے انسانی جانوں کے زیاں کا سبب بن رہا ہے۔ 

سابق ایڈمنسٹریٹر بلدیہ کراچی رؤف اختر فاروقی نے کراچی میں عمارتوں کے گرنے اور ان میں لوگوں کی ہلاکت پر کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی بے حسی پر افسوس ظاہر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں ایسے واقعات بہت کم ہوتے تھے کیونکہ مخدوش عمارتوں کے سروے کیے جاتے تھے اور ان میں رہائش پذیر افراد سے عمارات کو خالی کرایا جاتا تھا اگر وہ ٹال مٹول کرتے تھے تو سختی کی جاتی تھی اور عمارت کو تعمیر کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جاتی تھی، ایسی مخدوش عمارتوں کو گرا کر انھیں پھر سے تعمیر کرایا جاتا تھا اور ان میں رہائشیوں کو پھر سے آباد کرایا جاتا تھا۔

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اس نے مذکورہ عمارت کے رہائشیوں کو عمارت خالی کرانے کے پہلے سے نوٹسز جاری کر دیے تھے مگر وہاں کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ انھیں کوئی نوٹس نہیں ملا، اس سے بھی متعلقہ ادارے کے افسران کی نااہلی کا پتا چلتا ہے۔

متعلقہ ادارے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ نوٹسز ملنے کے بعد بھی لوگ عمارتوں کو خالی کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے ہیں، اس کارروائی میں کافی وقت ضایع ہوجاتا ہے اور پھر تب تک حادثہ رونما ہو جاتا ہے۔ سیاسی پارٹیوں نے بھی اس سانحے پر سخت صدمہ ظاہر کیا ہے اور متعلقہ ادارے پر تنقید کی ہے۔

سندھ اسمبلی میں ایم کیو ایم کے رہنما علی خورشیدی نے درست ہی کہا ہے کہ ’’ کہاں تک صبرکریں اور کہاں تک کرپشن کو برداشت کریں، اس وقت پورا شہر ہی مشکل میں پھنسا ہوا ہے۔‘‘ ایک اور سیاسی رہنما آفاق احمد نے بھی سندھ حکومت کی کراچی کے مسائل پر غفلت برتنے پر کڑی تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ’’ جس طرح حکومت اپنی جان چھڑانے کے لیے تحقیقاتی کمیٹیاں بنانے میں تیزی دکھاتی ہے کاش! کہ مخدوش عمارتوں میں مقیم لوگوں کو دوسری جگہ منتقل کرنے میں بھی تیزی دکھائے تو کئی لوگوں کی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔‘‘

کراچی کے عوام کا کہنا ہے کہ یہ وہ بد قسمت شہر ہے جس کے مسائل اور رونما ہونے والے حادثات پر سب ہی مگرمچھ کے آنسو بہاتے ہیں مگر جو لوگ صاحب اقتدار ہوتے ہیں اور ان کے ہاتھوں میں کراچی کا انتظام ہوتا ہے، وہ اپنی ذمے داریاں ادا کرنے سے چشم پوشی کرتے ہیں اور مختلف قسم کے مافیاز کے سہولت کار بن جاتے ہیں تو یہاں کے مسائل کیسے حل ہوں گے اور عمارتوں کا گرنا کیسے رُکے گا؟
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: مخدوش عمارتوں کا کہنا ہے کہ کراچی میں کی تعمیر اور ان ہے اور

پڑھیں:

کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 5 ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار

کراچی:

شہر قائد کے مختلف علاقوں میں پولیس نے مبینہ مقابلوں کے دوران چار ملزمان کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا جبکہ ایک فرار ہونے والے مبینہ ڈاکو کو شہریوں نے پکڑ کر تشدد کے بعد پولیس کے حوالے کر دیا۔

پولیس اور چھیپا حکام کے مطابق اورنگی ٹاؤن تھانے کی حدود میں سیکٹر 8، اللہ والا کالج کے قریب مبینہ پولیس مقابلے میں ایک مبینہ ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا۔

زخمی ملزم کو عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کی شناخت سبیل کے نام سے ہوئی۔ ملزم کے قبضے سے اسلحہ اور دیگر سامان بھی برآمد کیا گیا۔

ادھر بوٹ بیسن تھانے کی حدود میں کلفٹن، عبداللہ شاہ غازی مزار پل کے قریب مبینہ مقابلے کے دوران ایک مبینہ ڈاکو پولیس کی فائرنگ سے زخمی ہو گیا، جس کی شناخت مانی کے نام سے ہوئی۔

اسے جناح اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ اس دوران فرار ہونے کی کوشش کرنے والے دوسرے مبینہ ملزم کو شہریوں نے پکڑ کر تشدد کا نشانہ بنایا بعد ازاں اسے پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ زخمی ملزم کی شناخت سکندر کے نام سے کی گئی۔

دوسری جانب شرافی گوٹھ پولیس نے کورنگی سنگر چورنگی کے قریب راڈو بیکری کے علاقے میں مبینہ مقابلے کے بعد ایک مبینہ ڈاکو اویس کو زخمی حالت میں گرفتار کیا۔ ملزم کو جناح اسپتال منتقل کیا گیا جبکہ اس کے قبضے سے اسلحہ اور دیگر سامان بھی برآمد ہوا۔

اسی طرح قائدآباد تھانے کی حدود میں لانڈھی شیر پاؤ کالونی، مولیٰ مدد قبرستان کے قریب مبینہ پولیس مقابلے میں ایک اور مبینہ ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا۔

چھیپا حکام کے مطابق زخمی ملزم کو جناح اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کی شناخت وارث خان کے نام سے ہوئی۔

متعلقہ مضامین

  • ایرانی ٹماٹر بھی ریلیف نہ لا سکے، کراچی میں قیمتیں آسمان پر
  • کراچی میں ہواؤں کی رفتار کم ہوگئی، درجہ حرارت بڑھنے کا امکان
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • کراچی: ملیر 15 میں رینجرز اور ایس آئی یو کی کارروائی، 3 بھتہ خور ہلاک
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 5 ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار 3 ڈاکو ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک 
  • کراچی میں کھلے مین ہول میں گر کر 7 سالہ بچہ جاں بحق
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار