اسرائیلی آبادکاروں کے ہاتھوں قتل ہونے والے امریکی شہری کے اہلِ خانہ کا واشنگٹن سے تحقیقات کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, July 2025 GMT
امریکا کی ریاست فلوریڈا سے تعلق رکھنے والے 20 سالہ امریکی شہری سیف اللہ مسلط، جو مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کے ہاتھوں بہیمانہ تشدد کے بعد ہلاک ہوگئے، ان کے اہلِ خانہ نے امریکی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس واقعے کی فوری اور آزادانہ تحقیقات کرے اور مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لائے۔
یہ بھی پڑھیں:غزہ کے خوراک مراکز پر کتنی ضرورتمند خواتین و بچوں کو اسرائیل کھانے کی بجائے موت دے چکا
الجزیرہ کے مطابق اہلِ خانہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ اسرائیلی آبادکاروں نے جمعے کے روز سیف اللہ کو 3 گھنٹے تک گھیرے رکھا اور اس دوران طبی عملے کو بھی ان تک پہنچنے سے روکا گیا۔
اہلِ خانہ نے زور دے کر کہا کہ ہم امریکی محکمہ خارجہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس واقعے کی فوری قیادت میں تحقیقات کرے اور ان اسرائیلی آبادکاروں کو انصاف کے کٹہرے میں لائے جنہوں نے سیف کو قتل کیا۔ ہمیں انصاف چاہیے۔
ماضی میں امریکی حکومت اسرائیلی افواج یا آبادکاروں کے ہاتھوں امریکی شہریوں کی ہلاکت پر تحقیقات کرنے سے گریز کرتی رہی ہے، اور ہمیشہ یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اسرائیل خود ان معاملات کی تفتیش کی صلاحیت رکھتا ہے۔
تاہم، ماضی کے تجربات سے یہ بات واضح ہے کہ اسرائیل میں آبادکاروں یا فوجیوں کے خلاف فلسطینیوں پر مظالم کی بنیاد پر شاذ و نادر ہی فوجداری مقدمات قائم کیے جاتے ہیں، چاہے ان مظالم کی دستاویزی شواہد بھی موجود ہوں۔
یہ بھی پڑھیں:اقوام متحدہ نے 130 دنوں کے بعد غزہ میں 75 ہزار لیٹر ایندھن پہنچا دیا
جمعے کی شب امریکی محکمہ خارجہ نے ایک بیان میں کہا دنیا بھر میں امریکی شہریوں کی حفاظت اور سلامتی ہماری اولین ترجیح ہے۔ ہم مغربی کنارے میں ایک امریکی شہری کی ہلاکت سے متعلق اطلاعات سے آگاہ ہیں۔ جب بیرونِ ملک کوئی امریکی شہری ہلاک ہوتا ہے تو ہم قونصلر خدمات کی فراہمی کے لیے تیار رہتے ہیں۔
تاہم محکمہ خارجہ کے ترجمان نے متاثرہ خاندان کی پرائیویسی کا حوالہ دیتے ہوئے مزید تفصیلات دینے سے انکار کر دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آبادکار اسرائیل امریکا تحقیقات کا مطالبہ غزہ فلسطین.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا بادکار اسرائیل امریکا تحقیقات کا مطالبہ فلسطین اسرائیلی آبادکاروں امریکی شہری
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔