ملی یکجہتی کونسل کے زیر اہتمام مجلس قائدین اجلاس اور ’’قومی مشاورت‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ دن کے وقت بھی دہشتگرد دندناتے پھرتے ہیں مگر کوئی پوچھنے والا نہیں، ریاست اپنی ناکامیوں کا بوجھ ہم پر مت ڈالے۔ اسلام ٹائمز۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کا خاتمہ بہت دور کا لفظ ہے، افسوس حکومت نام کی رٹ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں بالکل بھی نہیں۔ ملی یکجہتی کونسل کے زیر اہتمام مجلس قائدین اجلاس اور ’’قومی مشاورت‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ دن کے وقت بھی دہشتگرد دندناتے پھرتے ہیں مگر کوئی پوچھنے والا نہیں، ریاست اپنی ناکامیوں کا بوجھ ہم پر مت ڈالے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بدامنی ریاستی اداروں کی نااہلی ہے یا شعوری طور پر کی جا رہی ہے، اس حوالے سے ہمیں جرأت مندانہ موقف لینے کی ضرورت ہے، مسلح جدوجہد جائز نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان پر جب امریکا نے حملہ کیا اس وقت ایک انتشاری کیفیت تھی، اس وقت ملک میں متحدہ مجلس عمل فعال تھی، اتحاد امہ کے لیے ہم اس وقت جیلوں میں بھی گئے۔ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ پاکستان میں دینی مقاصد کے لیے بھی اسلحے کو اٹھانا غیر شرعی قرار دیا، پاکستان میں مسلح جدوجہد کو ہم حرام قرار دے چکے اور اس وقت سے آئین کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ دہشت گردی کے خلاف سوات سے وزیرستان تک آپریشن ہوئے مگر جو مہاجر ہوئے وہ آج بھی دربدر ہیں، یہ لوگ جو افغانستان گئے تھے وہ کیسے گئے اور واپس کیوں آئے؟

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: مولانا فضل الرحم ن نے کہا کہ

پڑھیں:

بلوچستان میں ایرانی پیٹرول کی نئی قیمت 280 روپے فی لیٹر مقرر

بلوچستان حکومت نے صوبے میں ایرانی پیٹرول(Irani Petrol) کی نئی قیمت 280 روپے فی لیٹر مقرر کر دی ہے، جبکہ مقررہ نرخ سے زائد وصولی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے سخت کارروائی کا اعلان کیا گیا ہے۔

حکومتی اعلامیے کے مطابق صوبے میں ایرانی پیٹرول اب 280 روپے فی لیٹر میں فروخت کیا جائے گا، اور اس سے زیادہ قیمت وصول کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ قیمتوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے مانیٹرنگ سخت کر دی گئی ہے۔

مزید بتایا گیا ہے کہ شہری اگر کسی بھی مقام پر ایرانی پیٹرول کی زائد قیمت وصولی دیکھیں تو وہ اس کا ثبوت ویڈیو کی صورت میں محفوظ کر کے متعلقہ ڈپٹی کمشنر آفس میں شکایت درج کرا سکتے ہیں۔ حکومت کے مطابق عوامی شکایات پر فوری کارروائی کی جائے گی تاکہ ناجائز منافع خوری اور بلیک مارکیٹنگ کا خاتمہ کیا جا سکے۔

مزیدپڑھیں:ایمریٹس کپتان دنیا کے سب سے زیادہ معاوضہ لینے والے پائلٹس میں شامل

دوسری جانب بلوچستان میں مہنگائی اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث شہری پہلے ہی مشکلات کا شکار ہیں۔ ایسے میں نئی قیمت کے تعین کو بعض حلقوں کی جانب سے ایک ریگولیٹری اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔

جماعت اسلامی بلوچستان کے جنرل سیکرٹری مرتضیٰ خان کاکڑ نے اس صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے بھر میں پیٹرول مافیا کے خلاف فوری اور سخت کارروائی ناگزیر ہے، تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے اور قیمتوں میں بے ضابطگی کو روکا جا سکے۔

حکام کے مطابق آئندہ دنوں میں مارکیٹ پر مزید کڑی نظر رکھی جائے گی اور کسی بھی خلاف ورزی پر سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • بلوچستان میں ایرانی پیٹرول کی نئی قیمت 280 روپے فی لیٹر مقرر
  • کراچی کی سڑکوں پر دلچسپ تبصرہ، شرمیلا فاروقی اور وسیم بادامی کے درمیان ہلکا پھلکا مکالمہ
  • وزیر تعلیم پنجاب کا سمر کیمپ کے حوالے سے حکومتی ہدایت پر عملدرآمد نہ کرنے کا نوٹس
  • کاروباری رہنماؤں کا حکومتی معاشی پالیسیوں پر اعتماد، تعاون جاری رکھنے کا عزم
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی