کراچی، سمندر کے قریب سے خاتون اور مرد کی لاشیں برآمد
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
مرنے والے مرد اور عورت کی عمریں تقریباً 25 سے 30 سال کے درمیان ہیں، جبکہ لاشوں پر گولیوں کے نشانات موجود ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد کے علاقے بوٹ بیسن تھانے کی حدود میں سمندر کے قریب سے خاتون اور مرد کی لاشیں ملی ہیں، دونوں کو گولیاں مار کر قتل کیا گیا۔ پولیس کے مطابق مرنے والے مرد اور عورت کی عمریں تقریباً 25 سے 30 سال کے درمیان ہیں، جبکہ لاشوں پر گولیوں کے نشانات موجود ہیں۔ ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کے مطابق مقتول نوجوان کو ساجد مسیح، جبکہ مقتولہ کو ثناء آصف کے نام سے شناخت کیا گیا ہے، دونوں کا تعلق گوجرانولہ کے ایک ہی گاؤں سے تھا۔ ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کے مطابق موقع سے 9 ایم ایم پستول کی گولیوں کے دو خول اور مرد کے پاس سے ایک موبائل فون بھی ملا ہے۔ کرائم سین سے شواہد جمع کر لیے گئے ہیں اور مزید تفتیش جاری ہے۔ دونوں لاشوں کو جناح اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ پولیس حکام کے مطابق واقعہ کی تمام زاویوں سے تفتیش جاری ہے اور جلد ہی حقائق سامنے لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔