ورلڈ چیمپئن شپ آف لیجنڈز 2025: انڈیا کی دستبرداری، پاکستان چیمپئنز فائنل میں پہنچ گئے
اشاعت کی تاریخ: 31st, July 2025 GMT
ورلڈ چیمپئن شپ آف لیجنڈز (WCL) 2025 کے سیمی فائنل میں بڑا موڑ سامنے آ گیا ہے، جہاں انڈیا چیمپئنز کی جانب سے میچ نہ کھیلنے کے فیصلے کے بعد پاکستان چیمپئنز بغیر کھیلے ہی فائنل میں پہنچ گئے ہیں۔
ٹورنامنٹ کے منتظمین نے بدھ کے روز تصدیق کی کہ انڈیا چیمپئنز نے پاکستان چیمپئنز کے خلاف سیمی فائنل کھیلنے سے انکار کر دیا ہے۔ اس فیصلے کی وجہ ’عوامی جذبات‘ کو قرار دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں لیجنڈز لیگ، پاکستان کے خلاف سیمی فائنل کھیلنے سے بھارت کا انکار، بھارتی میڈیا
انڈیا چیمپئنز نے گروپ مرحلے میں ویسٹ انڈیز کو بڑے مارجن سے شکست دے کر سیمی فائنل میں جگہ بنائی تھی، اور وہ پاکستان چیمپئنز کے خلاف ایک ہائی وولٹیج مقابلے کے لیے کوالیفائی کر چکے تھے۔ تاہم، میچ کنفرم ہونے کے بعد ہی غیر یقینی صورتحال نے جنم لیا، جس کا انجام دستبرداری کی صورت میں نکلا۔
ٹورنامنٹ آرگنائزرز نے ایک بیان میں کہا کہ ہم کھیل کی طاقت پر یقین رکھتے ہیں جو دنیا میں مثبت تبدیلی لا سکتی ہے۔ تاہم، عوامی جذبات کا احترام ہمارے لیے اولین ترجیح ہے۔ انڈیا چیمپئنز کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں، اور پاکستان چیمپئنز کی تیاری کو بھی سراہتے ہیں۔
اب پاکستان چیمپئنز فائنل میں جنوبی افریقہ یا آسٹریلیا چیمپئنز کے خلاف ہفتہ کو مدِمقابل ہوں گے۔
یاد رہے کہ گروپ مرحلے میں پاکستان چیمپئنز نے 5 میچز میں 9 پوائنٹس حاصل کرتے ہوئے سرفہرست پوزیشن حاصل کی تھی، جبکہ انڈیا چیمپئنز چوتھی پوزیشن پر رہی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: شاہد آفریدی کا خوف، پاک بھارت لیجنڈز کرکٹ میچ منسوخ، شائقین میں شدید مایوسی
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ انڈیا چیمپئنز نے پاکستان کے خلاف کھیلنے سے انکار کیا ہو — وہ گروپ مرحلے میں بھی اسی فیصلے کے تحت میدان میں نہ اُترے تھے۔
اب تمام نگاہیں ہفتہ کو ہونے والے فائنل پر مرکوز ہیں، جہاں پاکستان چیمپئنز ٹائٹل کے دفاع کے لیے میدان میں اتریں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت پاکستان چیمپیئنز ورلڈ چیمپئن شپ آف لیجنڈز 2025.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارت پاکستان چیمپیئنز ورلڈ چیمپئن شپ آف لیجنڈز 2025 پاکستان چیمپئنز انڈیا چیمپئنز چیمپئنز کے چیمپئنز نے سیمی فائنل فائنل میں کے خلاف
پڑھیں:
نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، نہ صرف اندرون وطن بلکہ مشرقی و مغربی سرحدوں پر بھی پاکستان کے استحکام، سلامتی، خودمختاری اور آزادی کو سبوتاژ کرنے اور امن و امان کو تہہ و بالا کرنے کے لیے سازشی عناصر سرگرم عمل ہیں۔
پڑوسی ملک بھارت کی پراکسی جنگ اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی بعینہ ہمسایہ ملک افغانستان جس کے ساتھ ہمارے دیرینہ، تاریخی، سماجی، مذہبی اور ثقافتی رشتے بڑے گہرے اور مضبوط رہے ہیں آج کل وطن عزیز کے خلاف سازشوں اور دہشت گردی میں بھارت کی سہولت کاری کرکے خطے کے امن کو نقصان پہنچانے میں پیش نظر آ رہا ہے، اگرچہ کراچی سے لے کر خیبر تک دہشت گرد عناصر وقفے وقفے سے اپنی مذموم کارروائی میں مصروف ہیں، تاہم پاکستان کے دو اہم صوبے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے خاص نشانہ بنا رکھا ہے۔
گزشتہ دو تین ہفتوں کے دوران خیبرپختونخوا میں پولیس اہلکاروں کو بہ طور خاص دہشت گردوں نے نشانہ بنا کر شہید کر دیا۔ دہشت گرد کبھی تھانوں پر حملہ کرتے ہیں، کبھی چیک پوسٹوں پر اور کبھی گشت کرتی موبائل گاڑیوں پر گھات لگا کر حملہ آور ہوتے ہیں۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی پولیس، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد باقاعدہ منصوبہ بندی سے نشانہ بنا کر اپنا ہدف حاصل کرتے اور اس کی ذمے داری قبول بھی کرتے ہیں۔
گزشتہ دو ہفتوں کے خون آشام واقعات کے بعد شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین نے سخت احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دے رکھا ہے۔ زیارت شہدا لواحقین کے دھرنا شرکا سے حکومتی مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا اور لاشوں کی نماز جنازہ کے بعد تدفین کر دی گئی، اگرچہ حکومت نے شہدا کے لواحقین کے لیے مالی امداد کے اعلانات کیے ہیں لیکن مالی امداد ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے والے پیاروں کا نعم البدل نہیں ہو سکتی ، ہرگز نہیں۔ ان کی دائمی جدائی کے زخم کبھی بھر نہیں سکتے۔ شہادت کا یہ سلسلہ آخر کہاں جا کر ختم ہوگا؟
پاک فوج نے کے پی اور بلوچستان کے حالیہ لہو رنگ واقعات کے بعد ’’آپریشن شعبان‘‘ کا آغاز کیا جس میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج برق رفتاری سے کارروائیاں کر رہی ہے۔ اس آپریشن میں بلوچستان پولیس اور ایف سی بھی حصہ لے رہی ہے۔ اس آپریشن کا آغاز 5 جولائی کو کیا گیا جو انٹیلی جنس بیسڈ دہشت گردی آپریشن ہے اور تادم تحریر جاری ہے۔ کہا گیا ہے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ’’آپریشن شعبان‘‘ جاری رہے گا جس کا مقصد دہشت گردوں کا جڑ سے صفایا کرنا ہے۔ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی پشت پر پوری یکجہتی اور قوت کے ساتھ کھڑی ہے۔ بعینہ ملکی دفاع، سلامتی اور قیام امن کے لیے جان قربان کرنے والے پولیس اہلکاروں، ایف سی اور پاک فوج کے بہادر سپوتوں کی شہادت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
بلوچستان اور کے پی میں ماضی قریب و بعید میں بھی متعدد فوجی آپریشن کیے گئے جن میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کو نمایاں کامیابیاں ملیں۔ 2009 میں آپریشن راہ نجات کا آغاز کیا گیا جس میں سوات اور مالاکنڈ میں طالبان کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔ جنوبی وزیر ستان میں ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن راہ نجات میں ان کے اہم ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا۔ اسی طرح 2014 میں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد ملکی و غیر ملکی دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنا تھا۔ 2017 میں آپریشن ردالفساد کے ذریعے دہشت گردوں کے خفیہ سلیپر سیلز اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف انٹیلی جنس کارروائیاں کی گئیں۔
بلوچستان اور کے پی کے دو دہائیوں سے بدامنی کی لپیٹ میں ہیں۔ متعدد فوجی آپریشنز کے باوجود دونوں صوبوں بالخصوص بلوچستان میں آج بھی دہشت گرد عناصر بیرونی آقاؤں اور اندرونی سہولت کاروں کے ذریعے امن کو تہہ و بالا کر رہے ہیں۔ ہمیں دہشت گردی کی ان جڑوں کو تلاش کرنا ہوگا جو معاشرتی و سماجی سطح پر راسخ ہو چکی ہیں۔
سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک بھرپور جنگ لڑی ہے، قومی سلامتی صرف عسکری پہلو تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے سماجی اور معاشی پہلو بھی اہم ہیں۔ یہ باریک نکتہ ہے جسے سمجھنے اور گتھی کو سلجھانے کی ضرورت ہے۔ یہاں سیاسی قیادت کا امتحان شروع ہوتا ہے کہ وہ بلوچستان کے عوام کے مسائل کے حل کے لیے اپنا قائدانہ کردار ادا کریں۔ بلاول بھٹو سے لے کر وزیر اعظم شہباز شریف تک اور اپوزیشن سے بلوچستان کی سیاسی قیادت تک سب کو سر جوڑ کر اور مل بیٹھ کر بلوچستان کے سیاسی، سماجی و معاشی مسائل اور محرومیوں کا حل تلاش کرنا ہوگا۔