موٹرسائیکل پیٹرول سے الیکٹرک پر منتقل کرنیوالوں کو گرین کریڈٹ ملے گا
اشاعت کی تاریخ: 31st, July 2025 GMT
ویب ڈیسک : وزیر اعلیٰ گرین کریڈٹ پروگرام کے تحت پیٹرول بائیک کو الیکٹرک بائیک پرمنتقل ہونے والوں کو ایک لاکھ روپے تک گرین کریڈٹ دینے کا عمل شروع ہوگیا ہے اور دسمبر 2024 کے بعد الیکٹرک بائیک خریدنے والے وزیراعلی پنجاب کے گرین کریڈٹ ویب پورٹل پرخود کو رجسٹرڈ کرکے گرین کریڈٹ حاصل کرسکتے ہیں۔
گرین کریڈٹ پروگرام کی انچارج رضوانہ انجم نے بتایا کہ رواں مالی سال کے دوران 2 ہزار پیٹرول بائیکس جبکہ 250 گاڑیوں کو الیکٹرک پرمنتقل کرنے کا ہدف ہے جس سے 8 ہزار ٹن کاربن کم ہوگا، 2030 تک کاربن کے اخراج میں 20 فیصد کمی کا ہدف ہے جس کے لیے 30 فیصد ٹرانسپورٹ کو الیکٹرک پر منتقل کیا جائے گا۔
پنجاب حکومت کاصحت کےمنصوبوں میں پرائیویٹ سیکٹرکوشراکت داربنانےکافیصلہ
رضوانہ انجم نے میڈیا سےبات کرتے ہوئے بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے گرین کریڈٹ پروگرام میں 35 ایسے اقدامات شامل ہیں جن کے ذریعے عام شہری گرین کریڈٹ حاصل کرسکتے ہیں یعنی ایسے اقدامات جس سے کاربن کے اخراج میں کمی لائی جاسکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ عالمی معاہدوں کے تحت پاکستان کو 2030 تک 30 فیصد ٹرانسپورٹ الیکٹرک پر منتقل کرنا ہے اور ان اہداف کے حصول کے لیے پیٹرول موٹرسائیکل چلانے والوں کو یہ آفر دی جا رہی ہے کہ اگر وہ پیٹرول کے بجائے الیکٹرک موٹرسائیکل استعمال کرتے ہیں تو انہیں ایک لاکھ روپے انعام کے طور پر مل سکتے ہیں۔
ساف انڈر 17 چیمپئن شپ 2025 کا شیڈول جاری
رضوانہ انجم نے کہا کہ ایسے شہری جنہوں نے دسمبر 2024 کے بعد الیکٹرک بائیک خریدی ہے وہ سی ایم پنجاب گرین کریڈٹ پروگرام کے ویب پورٹل پر خود کو رجسٹرڈ کریں، وہاں اپنی الیکٹرک بائیک کی تفصیلات یعنی وہ بائیک کب اور کہاں سے خریدی گئی، الیکٹرک بائیک کی کمپنی اور ماڈل، رجسٹریشن نمبر، چیسیز نمبر، رجسٹریشن بک یا بائیک کی تصویر سمیت تمام تفصیلات جمع کروانے کے بعد گرین کریڈٹ پروگرام کا نمائندہ درخواست دہندہ کے ایڈریس پرجا کر تصدیق کرے گا جس کے بعد درخواست گزار کو 50 ہزار روپے ادا کردیے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ مزید 50 ہزار روپے حاصل کرنے کے لیے الیکٹرک بائیک کو گرین کریڈٹ پروگرام کی ایپ کے ساتھ رجسٹرڈ کروانا پڑے گا، 6 ماہ کے دوران 6 ہزار کلومیٹر سفر کرنے پر مزید 50 ہزار روپے دیے جائیں گے۔
ایاز صادق کی ایرانی ہم منصب سے ملاقات، دو طرفہ تعلقات مزید مستحکم بنانے پر اتفاق
ای پی اے حکام کے مطابق یہ تاثر درست نہیں کہ پرانی موٹرسائیکل کا انجن اتروا کر موٹر اور بیٹری لگوانے پر رقم ملے گی بلکہ اس پروگرام کے تحت عام بائیک چلانے والوں کو نئی الیکٹرک بائیک پہلے خود خریدنا ہوگی اور اسے گرین کریڈٹ پروگرام سے رجسٹرڈ کروانا ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: الیکٹرک بائیک الیکٹرک پر بتایا کہ کے بعد
پڑھیں:
ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔
ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔
ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو
امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔