حکومت کا افغان شہریوں کی واپسی سے متعلق بڑااقدام
اشاعت کی تاریخ: 5th, August 2025 GMT
وزارت داخلہ نے پاکستان میں مقیم پروف آف رجسٹریشن (پی او آر) کارڈ رکھنے والے افغان شہریوں کی واپسی کے حوالے سے بڑا اقدام اٹھاتے ہوئےواپسی کے عمل کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ۔
نوٹیفکیشن کے مطابق پی او آر کارڈ ہولڈرز کی رضاکارانہ واپسی یکم ستمبر 2025 سے شروع کی جائے گی۔ اس فیصلے کا مقصد ملک میں سکیورٹی خدشات اوروسائل پر بڑھتے ہوئے دباؤ کو کم کرنا ہے۔ یہ فیصلہ ایک اعلیٰ سطح اجلاس میں کیا گیا۔
عملدرآمد کیسے ہوگا؟
نادرا بارڈر ٹرمینلز پر واپس جانے والوں کی رجسٹریشن ختم کرے گا۔
ایف آئی اے مخصوص بارڈر کراسنگ پوائنٹس پر سہولیات فراہم کرے گی۔
واپس جانے والے افراد کے لیے ٹرانزٹ ایریاز اور مالی معاونت کا بندوبست بھی کیا جائے گا۔
واپسی کی روزانہ پیشرفت کی نگرانی فارن نیشنل سیکیورٹی ڈیش بورڈ کرے گا۔
پس منظر
واضح رہے کہ افغان شہریوں کی واپسی کی مہم 2023 میں شروع کی گئی تھی، جسے اپریل 2025 میں مزید تیز کیا گیا۔ حکومت نے بڑی تعداد میں افغان شہریوں کے رہائشی اجازت نامے منسوخ کیے اور وارننگ دی کہ مقررہ مدت کے بعد رہائش پر کارروائی کی جائے گی۔
اب تک 10 لاکھ سے زائد افغان باشندے پاکستان چھوڑ چکے ہیں، جن میں سے 2 لاکھ افراد نے اپریل 2025 کے بعدواپسی اختیار کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: افغان شہریوں
پڑھیں:
حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)حکومتِ پاکستان نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سرکاری دستاویزات کے مطابق 95.049 ملین روپے مالیت کی یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکرٹریٹ کے استعمال کیلئےحاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود، ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی بلٹ پروف گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سٹاک مارکیٹ میں مندی، انڈیکس ایک لاکھ 70 ہزار پوائنٹس کی حد کھو بیٹھا
دستاویزات کے مطابق یہ گاڑی پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنہیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا جن کی خریداری کا عمل جاری ہے۔
سی پیک سیکرٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث بروقت بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔
دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نجی مارکیٹ سے بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔
ٹرمپ کو بغیر سوچے سمجھے جارحیت کی قیمت چکانا پڑے گی: عباس عراقچی
حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکومت کو تین ٹویوٹا ڈیلرز کی جانب سے قیمتیں موصول ہوئیں، جن میں ٹویوٹا سینٹرل موٹرز نے 95.049 ملین روپے، ٹویوٹا پورٹ قاسم نے 95.25 ملین روپے اور ٹویوٹا سوسائٹی نے 95.45 ملین روپے کی پیشکش کی، حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
دستاویزات کے مطابق سی پیک سیکرٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کے بعد وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث خریداری کا آرڈر جاری نہیں ہو سکا۔
پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی نئی قیمت کا اعلان
وزارت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں سے رقم مختص کی، جن میں سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے ایک کروڑ 88 لاکھ روپے، وفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے شامل ہیں، ان فنڈز میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔