انمول بلوچ سے شادی؟ علی رضا نے افواہوں پر خاموشی توڑ دی
اشاعت کی تاریخ: 7th, August 2025 GMT
کیا پاکستان کی معروف شوبز شخصیات علی رضا اور انمول بلوچ واقعی شادی کے بندھن میں بندھنے جا رہے ہیں؟ اس حوالے سے چلنے والی افواہوں پر اب خود علی رضا نے وضاحت دے دی ہے۔
نجی ٹی وی کے حالیہ مشہور ڈرامے میں مرکزی کردار ادا کرنے والے علی رضا اور انمول بلوچ نے اپنی جوڑی سے ناظرین کے دل جیت لیے۔ اگرچہ ابتدائی طور پر یہ ایک عام رومانوی کہانی سمجھی جا رہی تھی، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ شائقین اس جوڑی کے مداح بن گئے۔
دونوں فنکاروں کی آن اسکرین کیمسٹری کو اس قدر پسند کیا گیا کہ پرستاروں نے نہ صرف اسکرین پر بلکہ حقیقی زندگی میں بھی ان دونوں کو ایک ساتھ دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا۔
ایک تقریب میں دونوں کی مشترکہ شرکت نے ان خبروں کو مزید تقویت دی، اور انمول بلوچ کی ممکنہ شادی کی خبریں منظرِ عام پر آئیں۔ مداحوں کی بڑی تعداد نے چاہا کہ اگر انمول شادی کریں تو وہ علی رضا سے ہو۔
تاہم علی رضا نے حالیہ ایک انٹرویو میں ان تمام چہ مگوئیوں کی وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ ان کا انمول بلوچ سے تعلق صرف دوستی کی حد تک ہے، اور وہ اسے محبت یا شادی میں بدلنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔
فیشن ویب شو میں گفتگو کرتے ہوئے علی رضا نے کہاکہ میں دیکھوں گا کہ آیا مجھے شوبز انڈسٹری کی کسی لڑکی سے شادی کرنی ہے یا نہیں، یہ وقت اور حالات پر منحصر ہوگا۔ لیکن فی الحال میں انمول بلوچ کو صرف ایک اچھا دوست مانتا ہوں اور ہمارا یہی رشتہ برقرار رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews انمول بلوچ شادی شوبز شخصیات علی رضا وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انمول بلوچ شوبز شخصیات علی رضا وی نیوز انمول بلوچ علی رضا نے
پڑھیں:
ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
وفاقی آئینی عدالت نے اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز سے متعلق نظرثانی درخواست پر وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے معاونت طلب کر لی، جبکہ مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی۔ دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ماریہ شہباز کم عمر تھی اور اسے ورغلا کر مذہب تبدیل کروایا گیا، جبکہ عدالت نے اپنے سابق فیصلے میں کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں لاپتا لڑکیوں میں سے 80 فیصد نے پسند کی شادیاں کیں، پولیس کی لاہور ہائیکورٹ کو رپورٹ
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ سابق عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ درخواست گزار کے وکیل نے جواب دیا کہ قانون کے مطابق شادی کے لیے 18 سال عمر کی حد مقرر ہے اور قانون کے خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔
اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کم عمری کی شادی پر سزا کا ذکر تو موجود ہے، تاہم نکاح کو خودکار طور پر منسوخ قرار دینے کی کوئی شق موجود نہیں۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر کم عمری میں شادی ہو جائے تو قانون اس صورت حال کا کیا حل فراہم کرتا ہے۔
عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ ماریہ شہباز نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے لے کر وفاقی آئینی عدالت تک کسی بھی مرحلے پر یہ مؤقف اختیار نہیں کیا کہ اس کے ساتھ زبردستی کی گئی تھی۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ اگر درخواست گزار اس مؤقف پر اصرار کرتا ہے تو عدالت اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے قانونی معاونت حاصل کر لیتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پسند کی شادی کیخلاف گاؤں نذرِ آتش کرنیکا واقعہ، وزیراعلیٰ سندھ کا سخت نوٹس
عدالت نے سماعت کے دوران وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ وفاقی آئینی عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کو والد کے حوالے کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ تنسیخ نکاح کے لیے متعلقہ فریق سول کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ حبسِ بے جا اور حوالگی کی درخواستوں کی سماعت کے دوران نکاح کی تنسیخ کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
چائلڈ میرج قبول اسلام ماریہ شہباز وفاقی آئینی عدالت