بنوں میں خوارج کے خلاف پاک فوج اور پولیس کا کامیاب مشترکہ آپریشن
اشاعت کی تاریخ: 8th, August 2025 GMT
بنوں کے علاقے ہوید میں خوارج کے خلاف پاک فوج اور پولیس نے مشترکہ سرچ اینڈ ٹارگیٹڈ آپریشن کامیابی سے مکمل کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: بنوں: تھانہ بکاخیل پر دہشتگردوں کا بڑا حملہ ناکام بنا دیا گیا
یہ آپریشن خفیہ معلومات اور انٹیلیجنس رپورٹس کی بنیاد پر کیا گیا جس کا مقصد علاقے کو دہشتگردی کے ناسور سے پاک کرنا اور امن و امان کو یقینی بنانا تھا۔
پاک فوج اور پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن کیا اور کئی مشتبہ افراد کو پولیس نے حراست میں لیا۔
آپریشن کے دوران خوارج کے 2 مقامی سہولت کاروں کے گھر بھی مسمار کیے گئے۔
اہل علاقہ نے سیکیورٹی فورسز کے آپریشن کو علاقے میں عوامی تحفظ کے لیے اہم قرار دیا اور اپنی بھرپور حمایت کا یقین دلایا۔
مزید پڑھیے: فیلڈ مارشل عاصم منیر کا پشاور کور ہیڈکوارٹرز کا دورہ، سی ایم ایچ بنوں میں زخمیوں کی عیادت
پاک فوج اور پولیس علاقے میں دیرپا امن کے قیام اور دہشتگردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنوں بنوں آپریشن بنوں فوج پولیس آپریشن خوارج.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنوں فوج پولیس ا پریشن خوارج پاک فوج اور پولیس
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک