WE News:
2026-07-24@14:35:34 GMT

کہانیاں سنانا صحت کی دیکھ بھال میں بہتری لا سکتا ہے،ماہرین

اشاعت کی تاریخ: 8th, August 2025 GMT

کہانیاں سنانا صحت کی دیکھ بھال میں بہتری لا سکتا ہے،ماہرین

ماہرین کا کہنا ہے کہ کہانیاں سنانے اور سننے کا عمل نہ صرف جذبات کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے بلکہ مریضوں کی بہتر دیکھ بھال میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ طبی ماہرین اس طریقۂ علاج کو ’نیریٹو میڈیسن کا نام دیتے ہیں، جو مریض کی زندگی کی کہانی اور بیماری کے پس منظر کو سمجھ کر علاج کا معیار بلند کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔

نیریٹو میڈیسن کا آغاز تقریباً 20 سال قبل کولمبیا یونیورسٹی سے ہوا اور اب امریکا کی کئی جامعات، بشمول اسٹینفورڈ، یونیورسٹی آف شکاگو اور ہارورڈ میں اس کے کورسز دستیاب ہیں۔ ہارورڈ یونیورسٹی اس مقصد کے لیے 9 ماہ کا ماسٹرز پروگرام بھی پیش کرتی ہے، جس میں فلم، نان فکشن، پوڈکاسٹنگ یا گرافک ڈیزائن جیسے تخلیقی ذرائع سے عوامی صحت مہمات تیار کی جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کافی صحت کے لیے کسی طرح فائدہ مند ہوسکتی ہے؟

شکاگو کے قریب واقع ایک اسپتال کے ماہر امراضِ قلب ڈاکٹر ڈیوڈ جی تھولے نے اپنی بیٹی کی بیماری کے دوران یہ محسوس کیا کہ لکھنے اور کہانیاں سنانے سے نہ صرف ذہنی دباؤ کم ہوتا ہے بلکہ مریض اور معالج کے درمیان بہتر رابطہ بھی قائم ہوتا ہے۔ انہوں نے ’تھری منٹ مینٹل میک اوور‘ (3MMM) کے نام سے ایک مختصر تحریری مشق متعارف کرائی، جس میں مریض اور ڈاکٹر تین کام کرتے ہیں۔

 شکرگزاری کا اظہار، دن کا خلاصہ چھ الفاظ میں اور اپنی خواہشات کا اندراج۔ تحقیق کے مطابق یہ مشق فوری طور پر ذہنی دباؤ میں کمی، بہتر گفتگو اور علاج کے مثبت نتائج لاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بل اینڈ ملینڈا گیٹس فاؤنڈیشن کا خواتین کی صحت کے لیے 2.

5 ارب ڈالر امداد کا اعلان

ماہرین کا کہنا ہے کہ کہانیاں سننے سے ہمدردی کا جذبہ بڑھتا ہے، جو انسانی دماغ میں محبت کے ہارمون آکسیٹوسن کی سطح بلند ہونے سے پیدا ہوتا ہے۔ امریکی نیوروسائنس دان پال جے زیک کی تحقیق کے مطابق اگر کوئی کہانی قاری یا سامع کو جذباتی طور پر جکڑ لے تو اس کا اثر ایسے ہوتا ہے جیسے وہ خود اس واقعے میں موجود ہو۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ نیریٹو میڈیسن صحت کی دیکھ بھال کو زیادہ انسانی پہلوؤں سے جوڑتی ہے اور مریض کی کہانی سن کر علاج کو زیادہ مؤثر بنایا جاسکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news انسانی صحت علاج کہانیاں مریض نفسیات نیریٹو میڈیسن

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: علاج کہانیاں نفسیات ہوتا ہے کے لیے

پڑھیں:

سیلف کیئر ڈے: خود کو وقت دینے کی عادت کیوں ضروری ہے؟ ماہرین کی مفید تجاویز

ہر سال 24 جولائی کو دنیا بھر میں سیلف کیئر ڈے منایا جاتا ہے، جس کا مقصد لوگوں کو یہ احساس دلانا ہے کہ اپنی جسمانی، ذہنی اور جذباتی صحت کا خیال رکھنا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا روزمرہ کی دیگر ذمے داریوں کو نبھانا۔ اس تاریخ کا انتخاب بھی ایک خاص پیغام دیتا ہے کہ انسان کو اپنی دیکھ بھال دن کے 24 گھنٹے اور ہفتے کے ساتوں دن معمول کا حصہ بنانی چاہیے۔

ماہرینِ صحت کے مطابق خود سے محبت اور اپنی ضروریات کو نظرانداز نہ کرنا ایک صحت مند اور متوازن زندگی کی بنیاد ہے۔ اگرچہ ہر روز اپنی صحت پر توجہ دینا بہتر ہے، تاہم سیلف کیئر ڈے اس عزم کی تجدید کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم اپنی جسمانی اور ذہنی فلاح کو بھی ترجیح دیں۔

خود کو وقت دیجئے

ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ روزانہ کچھ وقت صرف اپنے لیے مخصوص کریں، چاہے وہ ایک گھنٹہ ہی کیوں نہ ہو۔ اس دوران اپنی پسند کی سرگرمی اختیار کریں، جیسے کوئی کتاب پڑھنا، پسندیدہ ویب سیریز دیکھنا، چہل قدمی کرنا یا خاموش ماحول میں وقت گزارنا۔ اس معمول سے ذہنی سکون میں اضافہ اور روزمرہ کی تھکن میں کمی آ سکتی ہے۔

متوازن اور غذائیت سے بھرپور خوراک

غذائیت سے بھرپور اور متوازن غذا بھی خود کی دیکھ بھال کا اہم حصہ ہے۔ ماہرین کے مطابق سبزیاں، تازہ پھل، دالیں اور اناج پر مشتمل غذا نہ صرف جسم کو ضروری غذائیت فراہم کرتی ہے بلکہ توانائی میں اضافہ اور مجموعی صحت کو بہتر بنانے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہے۔

جسمانی سرگرمیوں کےلیے وقت نکالیے

جسمانی سرگرمی کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ باقاعدہ ورزش یا ہلکی پھلکی جسمانی مشقت نہ صرف جسمانی فٹنس اور قوتِ برداشت میں اضافہ کرتی ہے بلکہ ذہنی دباؤ کم کرکے موڈ کو بھی بہتر بناتی ہے۔ اگر روزانہ ورزش ممکن نہ ہو تو کم از کم اس دن کچھ وقت جسمانی سرگرمی کے لیے ضرور نکالیں۔

مناسب اور پرسکون نیند لیجئے

مناسب اور پرسکون نیند کو بھی اچھی صحت کی بنیادی ضرورت قرار دیا جاتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق معیاری نیند جسم کو بحال کرنے، دماغی کارکردگی بہتر بنانے اور روزمرہ کی تھکن دور کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے، اس لیے نیند کے معمول کو بہتر بنانا بھی سیلف کیئر کا اہم حصہ ہے۔

مراقبہ اور یوگا کی مشقیں

ذہنی سکون برقرار رکھنے کے لیے سانس کی مشقیں، مراقبہ اور یوگا جیسی سرگرمیاں بھی مفید سمجھی جاتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایسی مشقیں ذہنی یکسوئی پیدا کرنے، اضطراب کم کرنے اور انسان کو زیادہ پُرسکون محسوس کرنے میں مدد دیتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ خود کی دیکھ بھال کسی عیش و آرام کا نام نہیں بلکہ صحت مند زندگی کی ایک بنیادی ضرورت ہے، جسے مستقل معمول کا حصہ بنا کر جسمانی اور ذہنی صحت دونوں کو بہتر رکھا جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سیلف کیئر ڈے: خود کو وقت دینے کی عادت کیوں ضروری ہے؟ ماہرین کی مفید تجاویز
  • ’اکیلا میسی کچھ نہیں کر سکتا‘، فٹبال لیجنڈ کا بیان
  • فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کا ناپاک گٹھ جوڑ وطن عزیز کا امن تباہ نہیں کر سکتا: محسن نقوی
  • ماہرینِ صحت کی دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش
  • پشاور: حیات میڈیکل کمپلیکس میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال دوسرے روز بھی جاری، مریض مشکلات سے دوچار
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار