عمران خان کے طبی معائنہ کیلئے علی امین گنڈاپور کا اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع
اشاعت کی تاریخ: 11th, August 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے طبی معائنہ کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق بانی پی ٹی آئی اور علی امین گنڈاپور کی جانب سے درخواست دائر میں پنجاب حکومت، آئی جی جیل خانہ جات، جیل ہسپتال و دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔
دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی عمر 72 سال ہے اور معمول کا طبی معائنہ ضروری ہے، جیل میں قید کے دوران عمران خان کا وزن کم ہوگیا اور مختلف بیماریوں میں مبتلا ہونے کا خدشہ ہے۔
عمران خان جیل میں سٹاف کو گالیاں نکالتے ہیں، وزیر ریلوے حنیف عباسی کا دعویٰ
درخواست میں کہا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کی طبی ہسٹری شوکت خانم ہسپتال کے پاس موجود ہے۔
ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ شوکت خانم ہسپتال کی طبی ٹیم کو ماہانہ طبی معائنہ اور ضروری ٹیسٹ کرنے کی اجازت دی جائے، ڈاکٹر عاصم یوسف، ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر ثمینہ نیازی کو طبی معائنہ اور ٹیسٹوں کیلئے بانی پی ٹی آئی تک رسائی کا حکم دیا جائے۔
درخواست میں مزید استدعا کی گئی کہ ماہانہ طبی معائنہ اور ٹیسٹ رپورٹس کو عدالت میں جمع کرانے اور بانی پی ٹی آئی کی فیملی کو فراہم کرنے کا بھی حکم دیا جائے۔
خیبرپختونخوا کے 13 اضلاع میں 7 روز کے لئے دفعہ 144 نافذ
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی آئی درخواست میں
پڑھیں:
موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے)نے موبائل کمپنیوں کو غیرمعیاری سروس اور کوریج پر خامیاں دور کرنے کے لیے 30دن کی مہلت دے دی اور بتایا کہ مذکورہ کمپنیوں کو گزشتہ چار برس میں 3 ارب 41 کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔
پی ٹی اے کے مطابق ملک بھر میں موبائل سروس کے معیار اور کوریج میں بہتری کے لیے ریگولیٹری کارروائیاں تیز کردی گئی ہیں۔
پی ٹی اے نے سروس میں خامیوں پر موبائل آپریٹرز کو 30 روز میں ضروری اقدامات کرنے اور خرابیوں کی وجوہات کا تعین کرکے اصلاحی پلان جمع کرانے کی ہدایت کردی ہے۔
موبائل کمپنیوں کو خبردار کرتے ہوئے پی ٹی اے نے کہا ہے کہ خامیاں دور نہ کرنے والے آپریٹرز کے خلاف مزید سخت کارروائی کی جائے گی۔
پی ٹی اے کے مطابق گزشتہ چار برس کے دوران موبائل کمپنیوں کو 3 ارب 41کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں اور کوالٹی آف سروس اور کوریج کی خلاف ورزیوں پر 20وارننگ لیٹرز اور 86 شوکاز نوٹسز بھی جاری کیے جاچکے ہیں۔