سرکاری حج اسکیم کے تحت درخواستوں کی وصولی 16 اگست تک جاری رہے گی
اشاعت کی تاریخ: 12th, August 2025 GMT
اسلام آباد:
وفاقی وزارت مذہبی امور کے ترجمان نے کہا ہے کہ سرکاری حج اسکیم کے تحت درخواستوں کی وصولی جاری ہے اور 16 اگست تک جاری رہے گی۔
ترجمان وزارت مذہبی امور نے بتایا کہ آن لائن پورٹل اور نامزد بینکوں کے ذریعے 91 ہزار 300 درخواستیں جمع ہو گئی ہیں اور باقی نشستوں پر حج درخواستوں کی وصولی 16 اگست تک جاری رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ دستیاب سیٹیں مکمل ہوتے ہی حج درخواستوں کی وصولی فوری روک دی جائے گی، سرکاری حج اسکیم میں 40 روزہ لانگ حج اور 25 روزہ شارٹ حج پیکج کی سہولت موجود ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ درخواست کے ہمراہ پیکیج کے مطابق 5 لاکھ یا ساڑھے پانچ لاکھ کی پہلی قسط جمع کرانا لازمی ہے اور حج واجبات کی دوسری قسط یکم نومبر سے وصول کی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی پاسپورٹ کے حامل افراد بھی درخواست جمع کروانے کے اہل ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: درخواستوں کی وصولی
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔