حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ نے شہری حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ ایسے فیصلوں پر نظرثانی کریں، جس سے گوشت کی تجارت پر انحصار کرنے والوں کی روزی روٹی پر برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اور حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے بھارت کے مختلف میونسپل کارپوریشنوں بشمول گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن (جی ایچ ایم سی) کی جانب سے 15 اگست کو بھارت کے یوم آزادی پر مذبح خانوں اور گوشت کی دکانوں کو بند کرنے کے فیصلے کی سخت مذمت کی ہے۔ اسد الدین اویسی نے ایک پوسٹ میں یوم آزادی کے جشن سے گوشت کی کھپت کو جوڑنے کے پیچھے دلیل پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ کی 99 فیصد آبادی اپنی خوراک میں گوشت کو شامل کرتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گوشت پر پابندی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ گوشت کی پابندی لوگوں کے آزادی، رازداری، معاش، ثقافت، غذائیت اور مذہب کے حق کی خلاف ورزی کرتی ہے۔ اسد الدین اویسی نے شہری حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ ایسے فیصلوں پر نظرثانی کریں، جس سے گوشت کی تجارت پر انحصار کرنے والوں کی روزی روٹی پر برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ انہوں نے ملک میں ذاتی آزادیوں اور ثقافتی تنوع کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ اسد الدین اویسی نے ٹوئٹ کیا کہ ایسا لگتا ہے کہ بھارت بھر میں بہت سی میونسپل کارپوریشنوں نے حکم دیا ہے کہ مذبح خانے اور گوشت کی دکانیں 15 اگست کو بند کر دی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ظالمانہ اور غیر آئینی ہے، گوشت کھانے اور یوم آزادی کا جشن منانے میں کیا تعلق ہے، تلنگانہ کے 99 فیصد لوگ گوشت کھانے کے حق میں ہیں۔ واضح رہے کہ ملک بھر میں متعدد بلدیات کی جانب سے اسی طرح کی ہدایات دے رہی ہیں۔

منگل کو مہاراشٹر میں چھترپتی سمبھاج نگر میونسپل کارپوریشن نے تہواروں کے پیش نظر دو دن، 15 اور 20 اگست کو شہری حدود میں مذبح خانوں، دکانوں اور گوشت فروخت کرنے والوں کی دکانوں کو بند کرنے کا اعلان کیا۔ دریں اثنا مہاراشٹر کے نائب وزیراعلٰی اجیت پوار نے بھی شہری اداروں کی جانب سے 15 اگست کو مذبح خانوں اور گوشت فروخت کرنے والی دکانوں کو بند کرنے کا حکم دینے پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی پابندی لگانا غلط ہے۔ اجیت پوار نے کہا کہ اس قسم کی پابندیاں عام طور پر عقیدے سے متعلق حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے لگائی جاتی ہیں جیسے آشادھی ایکادشی، مہاشیو راتری، مہاویر جینتی وغیرہ، مہاراشٹر میں لوگ سبزی خور اور غیر سبزی خور کھانا کھاتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اسد الدین اویسی نے یوم آزادی اور گوشت انہوں نے گوشت کی اگست کو کہا کہ کو بند

پڑھیں:

جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے

جرمنی کی وفاقی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ یکم اگست 2026 یا اس کے بعد توسیع کیے جانے والے افغان پاسپورٹس کو جرمنی میں درست سفری دستاویز کے طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔

وزارت داخلہ کی ترجمان ایلینا سنگر نے افغانستان انٹرنیشنل کو جاری بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ افغان سفارتی مشنز میں پاسپورٹ کے حصول کے طریقہ کار میں ہونے والی تبدیلیوں، بین الاقوامی قانونی تقاضوں اور بین الاقوامی شہری ہوا بازی تنظیم (ICAO) کی سفارشات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جرمنی کے رہائشی قانون (Residence Act) کی دفعہ 3(1) کے تحت ملک میں داخل ہونے یا رہائش اختیار کرنے والے غیر ملکیوں کے لیے لازم ہے کہ ان کے پاس ایک درست اور تسلیم شدہ پاسپورٹ یا اس کے متبادل منظور شدہ سفری دستاویز موجود ہو۔

وزارت داخلہ نے واضح کیا کہ یکم اگست 2026 سے پہلے توسیع کیے گئے افغان پاسپورٹس اس نئی پالیسی سے متاثر نہیں ہوں گے اور بدستور قابل قبول رہیں گے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ جرمنی میں اپنے رہائشی اجازت نامے (ریذیڈنس پرمٹ) کی تجدید کے خواہش مند افغان شہریوں کو بھی ایک درست اور تسلیم شدہ سفری دستاویز پیش کرنا ہوگی۔

تاہم جرمنی کے مقامی امیگریشن حکام ہر درخواست کا انفرادی بنیادوں پر جائزہ لیتے رہیں گے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ متعلقہ افغان شہری کے لیے افغان سفارتی مشن سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن اور مناسب ہے یا نہیں۔

اگر متعلقہ اتھارٹی اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ کسی افغان شہری کے لیے افغان سفارت خانے یا قونصل خانے سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن یا مناسب نہیں، تو ایسے فرد کو ٹریول ڈاکیومنٹ فار فارنرز (غیر ملکیوں کے لیے سفری دستاویز) جاری کی جا سکتی ہے۔

جرمن وزارت داخلہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ 1951 کے جنیوا ریفیوجی کنونشن کے تحت تسلیم شدہ افغان مہاجرین کو افغان سفارتی مشنز سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ایسے افراد جرمنی کے قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے ریفیوجی ٹریول ڈاکیومنٹ حاصل کر سکتے ہیں۔

وزارت کے مطابق اس وقت یہ اندازہ لگانا ممکن نہیں کہ نئی پالیسی سے کتنے افغان شہری متاثر ہوں گے، تاہم نئے افغان پاسپورٹس کے اجرا کے لیے درخواستیں بدستور دی جا سکتی ہیں۔

جرمن وزارت داخلہ نے یہ بھی واضح کیا کہ اس فیصلے کا جرمنی میں طالبان کی جانب سے مقرر کردہ سفارتی عملے کی موجودگی یا افغان شہریوں کی ملک بدری سے متعلق جرمن حکومت کے پروگرام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین مستعفی، اسپیکر پارلیمنٹ قائم مقام ہونگے
  • لاہور سے تعلق رکھنے والی سعدیہ زاہدی عالمی فضائی تنظیم کی پہلی خاتون ڈائریکٹر جنرل مقرر
  • کراچی کے 2 اسٹریٹ کرمنلز مردان میں پولیس مقابلے میں ہلاک
  • ماہرینِ صحت کی دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش
  • بالآخر بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے بھی مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • کراچی، فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا میں پولیس مقابلہ، 2 زخمی ڈاکو گرفتار، چھینی گئی موٹر سائیکل برآمد
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز