ہندو یاتریوں کی گاڑی مندر سے واپسی پر ٹرک سے ٹکرا گئی؛ 7 بچوں سمیت 12 افراد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 13th, August 2025 GMT
بھارتی ریاست راجستھان میں ہونے والے خوفناک ٹریفک حادثے میں ہندو یاتریوں کی گاڑی سڑک کنارے کھڑے ٹرک سے ٹکرا گئی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ہندو یاتریوں کی بس صبح 4 بجے تیز رفتاری کے باعث سڑک کنارے کھڑے ٹرک سے ٹکرا گئی۔
اس خوفناک حادثے میں 7 بچوں اور 3 خواتین سمیت 12 افراد موقع پر ہی ہلاک ہوگئے جب کہ متعدد زخمی ہوگئے۔
ہندو یاتریوں کی گاڑی ریاست اتر پردیش سے راجستھان پہنچی تھی اور واپسی پر حادثہ پیش آگیا۔ ہلاک اور زخمی ہونے والوں کا تعلق یوپی سے ہے۔
خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یا تو گاڑی کی رفتار زیادہ تھی یا ڈرائیور کو نیند آ گئی اور ڈرائیور کی لاپروائی بھی حادثے کی وجہ ہوسکتی ہے۔
واقعے پر مقامی انتظامیہ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کے لیے مالی امداد کا اعلان کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: یاتریوں کی
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔