Express News:
2026-07-24@10:06:13 GMT

اجتماعی سوچ!

اشاعت کی تاریخ: 18th, August 2025 GMT

ملکوں اور قوموں کی زندگی میں بعض ایسے واقعات اور معجزات رونما ہوتے ہیں جو ان کی تاریخ کے انمٹ نقوش بن کر ہمیشہ کے لیے یادگار قرار پاتے ہیں۔

غلامی سے آزادی کی نعمت حاصل کرنا ہر قوم کے لیے وہ ثمر ہوتا ہے جس کے تصور اور احساس سے دل و دماغ پر ایسے خوشگوار اثرات مرتب ہوتے ہیں جو روح کی گہرائی تک اتر جاتے ہیں۔ آزادی کی قدر و قیمت وہی لوگ جانتے ہیں جنھوں نے غلامی کی زنجیروں میں زندگی کے روز و شب گزارے ہوں اور پھر کسی مرد حریت کی قیادت میں انھوں نے اپنی جان، مال اور عزت و آبرو کو قربان کرکے قید غلامی سے آزادی کے حصول تک کا جاں گسل سفر طے کیا ہو اور اپنے بچوں کے روشن و تابناک مستقبل کے خواب دیکھے ہوں۔

برصغیر کی تاریخ میں 1857 کی جنگ آزادی کے بعد انگریزوں کی غلامی کا جو آغاز ہوا اور مسلمانان ہند کے ہندوؤں اور انگریزوں کے جبر و ستم کو قریباً سو برس تک برداشت کرنے کے بعد قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں آزادی کے سفر کی تاریخ ساز جدوجہد کی اور بالآخر 14 اگست 1947 کو پاکستان حاصل کر لیا۔ قوم ہر سال 14 اگست کو جشن آزادی کو بڑی دھوم دھام سے مناتی ہے۔ سرکاری و غیر سرکاری سطح پر ملک بھر میں تقریبات کا انعقاد ہوتا ہے۔

ہمارے آج کے رہنما و قائدین آزادی کی جدوجہد اور اکابرین کی قربانیوں کی یاد تازہ کرکے نئی نسل کو نہ صرف آگاہی دیتے ہیں بلکہ تجدید عہد کرتے ہوئے پاکستان کو قائد اعظم اور مصور پاکستان علامہ اقبال کے خوابوں کی تعبیر بنانے کے بلند و بانگ دعوے کرتے ہیں۔ گزشتہ 78 سالوں سے ہم آزادی کا جشن منا رہے ہیں اور ہر سال یہ سوال موضوع بحث بن جاتا ہے کہ کیا ہم نے آزادی کے حقیقی ثمرات اور مقاصد کو حاصل کر لیا ہے؟ کیا قائد اعظم نے جس نظریے، فلسفے اور سیاسی اصولوں کے تحت جدوجہد کرکے مسلمانوں کے لیے ایک آزاد مسلم ریاست کے معجزاتی قیام کو یقینی بنایا تھا آج کے پاکستان میں قائد کے بنائے ہوئے رہنما اصولوں کے مطابق نظام حکومت چل رہا ہے؟ کیا عوام مطمئن ہیں، انھیں ان کے آئینی حقوق کا تحفظ حاصل ہے۔

 کیا ہمارے ریاستی ادارے آئین کے مطابق اپنے فرائض منصبی ادا کر رہے ہیں؟ کیا ملک میں ایک عادلانہ جمہوری معاشرہ قائم ہے؟ کیا ہماری عدالتیں لوگوں کو واقعی حقیقی انصاف فراہم کر رہی ہیں، کیا پاکستان نے 78 سالوں میں سیاسی، جمہوری اور معاشی استحکام کی منزل حاصل کر لی ہے؟ کیا آج کا پاکستان قائد اعظم اور علامہ اقبال کے خوابوں کی تعبیر قرار دیا جاسکتا ہے؟اگر عوامی سطح پر ایماندارانہ سروے کیا جائے تو ایسے بہت سے سنجیدہ سوالوں کا جواب ہاں میں نہیں بلکہ نفی میں ملے گا جس میں غصہ، مایوسی اور مستقبل سے ناامیدی کی جھلک بھی نظر آئے گی۔ عوام کا ایک بڑا طبقہ جن کے آباؤ اجداد نے اپنی جان و مال، عزت و آبرو لٹا کر قائد اعظم کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے آزادی کے سفر کو کامیابی کی منزل پاکستان سے ہم کنار کیا تھا، آج آزادی کے حقیقی ثمرات اور مقاصد سے محرومی پر شکوہ طراز ہے۔

حالات کے جبر سے مایوس، بددل اور بے یقینی کی کیفیت میں ڈوبے ہوئے عوام حکمرانوں سے سوال کرنے میں پوری طرح حق بجانب ہیں کہ قائد اعظم کے پاکستان میں ان کے رہنما اصولوں کو مسمار کرکے اپنے مفادات کے تاج محل تعمیر کرنے والوں نے عوام کو کیا دیا؟وزیر اعظم میاں شہباز شریف کہتے ہیں کہ مئی 25 کی جنگ میں بھارت کو شکست دینے کے بعد ایک نئے پاکستان نے جنم لیا ہے، بے شک! بجا فرمایا! ہماری بہادر مسلح افواج نے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی پرجوش قیادت میں اپنے سے دس گنا بڑے دشمن بھارت کو چاروں خانے چت کرکے ایسی شان دار، بے مثال اور یادگار فتح حاصل کی کہ جس کا نہ صرف دشمن بھی معترف ہے بلکہ پوری دنیا میں اس لازوال کامیابی کا ڈنکا بج رہا ہے۔

بلاشبہ حربی میدان میں پاک فوج کی ناقابل شکست کارکردگی سے جنگی حوالے سے ایک نئے پاکستان نے جنم لیا ہے۔ دشمن اب ہماری طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔ کیوں کہ دشمن پر پاک فوج نے جو کاری ضرب لگائی ہے اور جس طرح اس کا غرور خاک میں ملایا ہے وہ ساری زندگی یاد رکھے گا۔ لیکن دوسری طرف قائد کے پرانے پاکستان میں آئین، قانون، جمہوریت، ریاست، عدل و انصاف، معیشت، تعلیم، روزگار، غربت، مہنگائی، بدحالی، پسماندگی اور عوامی سطح پر پھیلتی مایوسی سے جو مسائل جنم لے رہے ہیں ان کا تدارک کیسے اور کیوں کر ممکن ہے۔

ان پیچیدہ گمبھیر مسائل کو شکست دے کر نیا پاکستان کب جنم لے گا، آزادی کے ثمرات اور حقیقی مقاصد کب حاصل ہوں گے؟ وزیر اعظم نے یوم آزادی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جہاں آرمی راکٹ فورس کی تشکیل کا اعلان کیا کہ جس سے پاک فوج کی جنگی صلاحیتوں میں بجا طور پر اضافہ ہوگا وہیں انھوں نے تمام سیاسی جماعتوں، اسٹیک ہولڈرز اور سول سوسائٹی کو بھی ’’میثاق استحکام پاکستان‘‘ کا حصہ بننے کی دعوت دی کہ وقت آ چکا ہے کہ ہم سیاسی تقسیم، ذاتی مفادات اور کھوکھلے نعروں سے آگے بڑھ کر پاکستان کے لیے اجتماعی سوچ اپنائیں۔ بلاشبہ وزیر اعظم نے درست بات کی ہے کہ ہم سب کو ملک و قوم کی خاطر اجتماعی سوچ کر پروان چڑھانا چاہیے۔ انفرادی اور ذاتی مفادات کے حصول کی منفی سوچ نے ہمیں من حیث القوم آزادی کے ثمرات سے محروم اور مقاصد سے بہت دور کر دیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: آزادی کی آزادی کے کے لیے

پڑھیں:

فکر اقبالؒ اورامن عالم میں پاکستان کاکردار

(گزشتہ سے پیوستہ)
دوم انصاف ،اقبالؒ کے نزدیک امن صرف اسی وقت قائم ہوسکتاہے جب انصاف ہو۔قرآن کہتا ہے ،بے شک اللہ عدل اوراحسان کاحکم دیتاہے۔ (النحل: 90)
پاکستان کوہرمعاملے میں انصاف،توازن اور اصولی موقف اختیارکرنا چاہیے۔پاکستان کوایک غیرجانبدارثالث کے طورپردونوں فریقین کے مؤقف کوسمجھتے ہوئے ایک منصفانہ حل پیش کرنا چاہیے،نہ کہ کسی ایک طاقت کے زیرِاثرآکر۔
سوم احترامِ خودمختاری :تیسرا اصول انسانیت کو مقدم رکھناہے۔اقبال کاپیغام جغرافیائی حدودسے بلندتھا۔وہ انسان کوبحیثیت انسان دیکھتے تھے۔وہ فرماتے ہیں ’’مذہب نہیں سکھاتاآپس میں بیررکھنا ‘‘۔ خودمختاری کااحترام بہت اہم ہے۔اقبالؒ نے ہمیشہ غلامی اوربیرونی تسلط کے خلاف آواز اٹھائی۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ ایران کی خود مختاری اور امریکاکے عالمی کرداردونوں کومدنظررکھتے ہوئے ایک متوازن حکمت عملی اختیارکرے لیکن تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ امن کے راستے کبھی آسان نہیں ہوتے۔جب بھی دنیامیں امن کی کوئی کوشش ہوتی ہے،توبعض عناصراپنے سیاسی، معاشی یا تزویراتی مفادات کے باعث اعتماد سازی کے عمل کوکمزورکرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ایسے حالات میں اصل امتحان معاہدے پردستخط کرنانہیں بلکہ اس اعتمادکوبرقرار رکھنا ہوتاہے جس پرامن کی بنیادرکھی جاتی ہے۔ موجودہ حالات میں پاکستان کے پاس اپنے اس کردارکو بڑھانے کے لئے کئی عملی راستے موجود ہیں:
پہلا،سفارتی سرگرمیوں میں اضافہ، پاکستان کوچاہیے کہ وہ اسلامی تعاون تنظیم اوراقوامِ متحدہ جیسے فورمزپرفعال کرداراداکرے اور ایران- امریکا تنازع کے مستقل حل کے لئے دوبارہ ٹھوس تجاویزپیش کرے۔
دوسرا،اعتمادسازی کے اقدامات ہیں۔امن کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ عدم اعتماد ہے۔ جب ریاستیں ایک دوسرے پراعتمادکھو دیتی ہیں تو معاہدے کاغذکے ٹکڑے بن جاتے ہیں۔اس لئے پاکستان کو چاہیے کہ وہ اعتماد سازی کے اقدامات کواپنی سفارتی حکمتِ عملی کامرکزی حصہ بنائے۔یہ اعتمادصرف سرکاری سطح پرنہیں بلکہ عوامی سطح پربھی ہونا چاہیے ۔پاکستان دونوں ممالک کے درمیان اعتمادکی فضاقائم کرنے کے لئے غیررسمی ملاقاتوں،تھنک ٹینکس،اورعلمی کانفرنسزکا انعقاد کرسکتاہے۔ علمی و ثقافتی تبادلے، مشترکہ تحقیقی منصوبے ، اور بین الاقوامی کانفرنسزکے انعقاد میں اقبالؒ اکیڈمی اہم کرداراداکرسکتی ہے۔پاکستان کوچاہیے کہ وہ ایک ’’مکالماتی کلچر‘‘کو فروغ دے ،ایسا کلچرجس میں اختلاف کو برداشت کیاجائے،سوال کودبایانہ جائے اور دلیل کوترجیح دی جائے۔یہی وہ فضاہے جس میں امن پنپ سکتاہے۔ سوال کودبایانہ جائے،اوردلیل کوترجیح دی جائے۔یہی وہ فضاہے جس میں امن پنپ سکتاہے۔
تیسرا،اقتصادی تعاون ہے کیونکہ اقتصادی استحکام بھی امن کا ایک اہم جزوہے۔اقبالؒ ایک مضبوط اورخوددارمعیشت کے قائل تھے۔ پاکستان اگرخطے میں اقتصادی روابط کو فروغ دے،تویہ ممالک کوتصادم کی بجائے تعاون کی طرف راغب کرسکتاہے۔ اقبالؒ نے خودی کے ساتھ ساتھ خود کفالت پربھی زوردیا۔ ایک مضبوط معیشت نہ صرف داخلی استحکام لاتی ہے بلکہ خارجی سطح پربھی وقارعطاکرتی ہے۔پاکستان اگرعلاقائی اقتصادی تعاون کوفروغ دے، تجارتی روابط کووسعت دے،اورمشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرے تووہ نہ صرف اپنے لیے بلکہ پورے خطے کے لئے امن کاراستہ ہموارکرسکتاہے۔
چوتھا،مذہبی اورتہذیبی ہم آہنگی کافروغ ہے۔ مذہب کاکرداربھی اس ضمن میں نہایت اہم ہے۔ بدقسمتی سے آج مذہب کواکثرشدت پسندی کے ساتھ جوڑاجاتاہے،حالانکہ اسلام کااصل پیغام امن،رحمت اوراعتدال ہے۔پاکستان ایک اسلامی ریاست ہونے کے ناطے ایک ایسامتوازن بیانیہ پیش کرسکتاہے جو مذہب کوشدت پسندی کے بجائے امن اوررواداری کے ساتھ جوڑتاہو،جواقبالؒ کی تعلیمات کابھی نچوڑ ہے۔ اقبال ؒکی فکرمیں مذہب ایک زندہ قوت ہے جو انسان کوبیدارکرتی ہے، اسے ذمہ داری کااحساس دلاتی ہے،
اوراسے خیرکے راستے پرگامزن کرتی ہے جیسا کہ اقبالؒ نے فرمایا:
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
ریاستوں کاکردارافرادکے کردارسے بنتا ہے۔ لہٰذاپاکستان کے پالیسی سازوں، سفارتکاروں، اور دانشوروں کواقبال کی فکرکوعملی جامہ پہناناہوگا۔امن کے قیام کے لئے صرف ریاستی سطح پر اقدامات کافی نہیں ہوتے بلکہ فکری وتہذیبی سطح پربھی کام کرنا ضروری ہوتا ہے۔پاکستان اس حوالے سے ایک منفردمقام رکھتا ہے۔ اس کی تہذیب،اس کی زبان ،اس کاادبی ورثہ سب امن،محبت اوررواداری کاپیغام دیتے ہیں۔اقبالؒ کی شاعری خودایک سفارتی قوت ہے۔ان کے اشعاردلوں کونرم کرتے ہیں،ذہنوں کوروشن کرتے ہیں اورانسان کواس کی اصل پہچان دلاتے ہیں۔ آج کی دنیا میں ’’ہارڈ پاور‘‘یعنی فوجی طاقت کی بجائے ’’سافٹ پاور‘‘یعنی سفارت،ثقافت،اور نظریہ زیادہ اہمیت اختیار کر چکا ہے ۔ اگر پاکستان اقبالؒ کے فلسفہ کواپنی خارجہ پالیسی کاحصہ بنالے اوراس ادبی وفکری ورثے کواپنی سافٹ پاورکے طورپراستعمال کرے تووہ دنیامیں نہ صرف ایک مثبت تاثر قائم کرسکتاہے بلکہ ایک امن کے سفیر کے طورپرابھرسکتاہے۔
امریکااورایران کے درمیان مصالحت کے لئے پاکستان درج ذیل اقدامات کرسکتاہے:
غیرجانبدارثالثی کی پیشکش،دونوں ممالک کے درمیان خفیہ مذاکرات کی میزبانی،مشترکہ اقتصادی منصوبوں کی تجویز،علاقائی امن کانفرنس کا انعقاد۔
اس حوالے سے پاکستان کے تمام اقدامات اقبال کے تصورِانسانیت کی وحدت کے عین مطابق ہیں۔
دنیااس وقت ایک نازک دورسے گزررہی ہے۔ایک غلط فیصلہ،ایک غلط فہمی یاایک غیرذمہ دارانہ اقدام بڑے بحران کوجنم دے سکتا ہے۔ایسے وقت میں پاکستان کواقبال کے اس پیغام کواپنارہنمابناناچاہیے:
یقیں محکم، عمل پیہم، محبت فاتحِ عالم
جہادِ زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں
یقین،مسلسل عمل اورانسانیت سے محبت ہی وہ طاقتیں ہیں جودنیا کوتباہی سے بچاسکتی ہیں۔آج کی دنیا میں طاقت کی نوعیت بدل چکی ہے اب صرف عسکری قوت کافی نہیں بلکہ فکری، ثقافتی او سفارتی قوت بھی اہم ہوچکی ہے۔ پاکستان اگران تمام جہات میں توازن پیدا کرے تووہ ایک مؤثرعالمی کردارادا کرسکتاہے۔
اقبال ؒکی فکرمحض کتابوں تک محدودنہیں بلکہ ایک عملی رہنمائی فراہم کرتی ہے۔فکرِ اقبالؒ ہمارے لیے محض ایک ادبی ورثہ نہیں بلکہ ایک عملی رہنمائی ہے ۔ اگرہم اس فکرکواپنی پالیسیوں ،اپنے اداروں، اوراپنی اجتماعی زندگی میں شامل کرلیں توہم نہ صرف اپنے مسائل حل کرسکتے ہیں بلکہ دنیا کے لئے بھی ایک مثال بن سکتے ہیں۔اگر پاکستان ان اصولوں کواپنائے تونہ صرف وہ اپنے اندراستحکام لاسکتاہے بلکہ عالمی امن میں بھی ایک کلیدی کرداراداکرسکتاہے۔
دعاہے کہ اللہ تعالی پاکستان کوامن،عدل اور خیرکاعلمبرداربنائے،اللہ ہمیں اقبال ؒکے افکارکوسمجھنے اوران پرعمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اوردنیاکے تمام ممالک کوتنازعات کی بجائے مکالمے،جنگ کی بجائے امن اورنفرت کی بجائے انسانیت کاراستہ اختیار کرنے کی توفیق عطافرمائے۔اس پرعمل کرنے ، اور اسے دنیاتک پہنچانے کی توفیق عطافرمائے۔ اللہ پاکستان کوامن،عدل اورانسانیت کاعلمبردار بنائے۔
اقبال اکیڈمی لاہورمیں 14جولائی2026 کوسیمینارسے خطاب

متعلقہ مضامین

  • 10 لاکھ تک بِلا سود قرضہ کیسے حاصل کریں؟ درخواست دینے کا طریقہ انتہائی آسان
  • فکر اقبالؒ اورامن عالم میں پاکستان کاکردار
  • لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کی فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم