کراچی: پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن(پیما ) کے تحت صمود گلوبل فلوٹیلا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لئے منعقدہ سیمینار سے میڈیکل وسول سوسائٹی کے اہم شخصیات نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غزہ کے مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم پوری دنیا کے لیے لمحہ فکریہ ہیں،نہتے فلسطینیوں پر کی جانے والی بمباری کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔

مقررین کا کہنا تھا کہ مسلم حکمران اور عالمی برادری کی خاموشی قابلِ مذمت ہے۔غزہ میں 89 فیصد صحت کی سہولیات ناپید ہوگئی ہیں، شہید ہونے والوں میں 70فیصد تعداد معصوم بچوں کی ہے،قراردادوں سے مسئلہ حل نہیں ہوگا،ظالم کے خلاف عملی قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔پاکستانی قوم اور ڈاکٹرز برادری غزہ کے عوام کے ساتھ ہیں۔

پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن(پیما ) کے تحت صمود گلوبل فلوٹیلا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی، کے لیے میڈیکل کے شعبے سے وابستہ افراد و سول سوسائٹی کو یکجا کرنے اور جبری بھوک اورغزہ میں بنیادی طبی سہولیات کی عدم فراہمی جیسے سنگین مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے پِیما ہاؤس، شارعِ قائدین میں منعقدہ سیمینار کی صدارت فیڈریشن آف اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشنز(فیما) کے صدر پروفیسر اقبال خان نے کی۔ جبکہ سیمینار میں نظامت کے فرائض معروف ماہرِ امراضِ خون ڈاکٹر ثاقب انصاری نے انجام دیئے۔

سیمینار سے پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر عاطف حفیظ صدیقی، پروفیسر ڈاکٹر اقبال آفریدی، پروفیسر عظیم الدین،ڈاکٹر اسماعیل میمن ،ڈاکٹر وراث علی، پروفیسر اکرم سلطان، ڈاکٹر توصیف احمد،ڈاکٹر شاہد اختر، ڈاکٹر سہیل اختر،محمد حنیف خان اور دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر زندگی کے مختلف شعبوں سے وابستہ افراد بھی موجود تھے۔

مقررین نے کہا کہ غزہ کے عوام گزشتہ 18 سال سے محاصرے کا شکار ہیں۔ حالیہ اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں ہزاروں افراد شہید ہوچکے ہیں مگر المیہ یہ ہے کہ پوری دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ آج غزہ میں ہسپتالوں، ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کو چن چن کر نشانہ بنایا جارہا ہے۔80 فیصد آبادی کو خوراک، ادویات اور پینے کے صاف پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور اقوام متحدہ کے مطابق یہ دنیا کے بدترین انسانی بحرانوں میں سے ایک ہے اور اب دنیا سے تعلق رکھنے والے مختلف انسانی حقوق کی تنظیموں اور کارکنوں، طبی ماہرین اور سماجی رہنماؤں کا ایک بین الاقوامی قافلہ ہے، جو سمندر کے راستے غزہ کے محاصرے کو توڑنے اور وہاں انسانی امداد پہنچانے کے لیے روانہ ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس گلوبل صمود فلوٹیلا میں جہازوں پر طبی سامان، خوراک اور ادویات موجود ہیں۔ اس مہم کا مقصد دنیا کو یہ پیغام دینا ہے کہ غزہ کے عوام تنہا نہیں ہیں۔ گلوبل صمود فلوٹیلا اس بات کی علامت ہے کہ اب دنیا تیزی سے اسرائیل اور اسکی وحشیانہ فطرت سے واقف ہورہی ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر سطح پر اس ظلم کے خلاف آواز بلند کی جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: اسلامک میڈیکل ایسوسی غزہ کے کے لیے

پڑھیں:

چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس

چیف جسٹس آف پاکستان نے ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔

چیف جسٹس آف پاکستان نے پاکستان کی عدلیہ کی جانب سے شہدا کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔

ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار مستونگ میں دورانِ ڈیوٹی دہشت گرد حملے میں شہید ہوئے تھے۔

چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے کہا کہ پاکستان کی عدلیہ اس ناقابلِ تلافی سانحے پر سوگوار خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے شہداء کے درجات کی بلندی اور اہلِ خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔

مزید پڑھیں

مستونگ: قومی شاہراہ پر فائرنگ، سیشن جج گن مین سمیت شہید، ایڈیشنل سیشن جج سمیت 2 افراد شدید زخمی

چیف جسٹس آف پاکستان نے زخمی ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری اور جوڈیشل مجسٹریٹ کی جلد صحت یابی کی دعا کی جبکہ شہداء سے اظہارِ عقیدت اور بلوچستان کی ضلعی عدلیہ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے 25 جولائی کو شیڈول جوڈیشل ویلبیئنگ کانفرنس مؤخر کر دی گئی۔

چیف جسٹس نے کہا پاکستان کی عدلیہ بلاخوف و خطر انصاف کی فراہمی کے عزم پر قائم ہے، تشدد اور دہشت گردی کے واقعات قانون کی حکمرانی کے لیے ہمارے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی عدلیہ ہر حال میں انصاف کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔

متعلقہ مضامین

  • دنیا کی مہنگی ترین طلاق، جنوبی کوریا کی اہم ترین کاروباری شخصیت کو 944 ارب وون سابق اہلیہ کو ادا کرنے کا حکم
  • قدیم انجینیئرنگ سے دنیا حیران، 2 ہزار سال پرانا چینی تالا جسے کھولنے کے لیے محض چابی نہیں بڑا دماغ بھی چاہیے
  • میں نے اپنی قبر تیار کروا رکھی ہے، لیجنڈ گلوکار عطا اللہ عیسیٰ خیلوی کا انکشاف
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
  • پشاور: حیات میڈیکل کمپلیکس میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال دوسرے روز بھی جاری، مریض مشکلات سے دوچار
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری