data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد:۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینئر ترین جج جسٹس سید منصورعلی شاہ نے قراردیا ہے کہ اگر بطور سزاکسی کوجبری طور پر ریٹائرڈ کریں گے تو10 سال سروس ہونے کی صورت میں اسے پنشن ملے گی۔ کہاں لکھا ہے کہ سزاہوجائے اور 20سال سروس نہ ہوتواُس کوپنشن نہیں ملے گی، اگر اتناہی مسئلہ ہے توپنجاب حکومت اپنے رولز میں ترمیم کرلے، موجودہ رولز کافائدہ تولوگو ںکودیں۔

بینچ نے پنجاب حکومت کی جانب سے دائر درخواستیں خارج کردیں۔ جسٹس سید منصورعلی شاہ کی سربراہی میں جسٹس عقیل احمد عباسی پر مشتمل 2رکنی بینچ نے سوموار کے روز جبری ریٹائرمنٹ کے بعد پنشن نہ دینے کے معاملہ پر سیکرٹری خزانہ پنجاب، ایڈیشنل چیف سیکرٹری ایڈمن ایس اینڈ جی اے ڈی ڈپارٹمنٹ لاہور اوردیگر کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سید انجم عباس، عمران حسین قریشی اور محمد یاسر کے خلاف دائر درخواستوںپرسماعت کی۔

درخواست گزاروں کی جانب سے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب خالد مسعود غنی پیش ہوئے جبکہ مدعاعلیہان ذاتی حیثیت میں بینچ کے سامنے پیش ہوئے۔ ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل پنجاب کاکہنا تھا کہ پنشن کے لئے مدعاعلیہان کی مطلوبہ سروس پوری نہیں تھی، مدعاعلیہان کو ڈسپلنری کارروائی کے بعد جبری طور پر ریٹائرڈ کیا گیا، مدعاعلیہان پر پنجاب سروس رولز 1963لاگو ہوتے ہیں، پنشن کے لئے کم ازکم سروس 20سال ہونی چاہیے ،جبکہ مدعاعلیہان میں سے ایک کی سروس14سال، ایک کی13سال اورایک کی 16سال ہے۔

جسٹس سید منصورعلی شاہ کاکہنا تھا کہ اگر بطور سزاکسی کوجبری طور پر ریٹائرڈ کریں گے تو10سال سروس ہونے کی صورت میں اسے پنشن ملے گی۔ جسٹس سید منصورعلی شاہ کاکہنا تھا کہ کہاں لکھا ہے کہ سزاہوجائے اور 20سال سروس نہ ہوتواُس کوپنشن نہیں ملے گی، اگر اتناہی مسئلہ ہے توپنجاب حکومت اپنے رولز میں ترمیم کرلے، موجودہ رولز کافائدہ تولوگو ںکودیں۔

جسٹس سید منصورعلی شاہ کاکہنا تھا کہ ایکٹ رولز کوروک نہیں رہا، اگرتبدیل کرنے ہیں تورولز تبدیل کرلیں، رولز میں ترمیم کرنی ہے توکرلیں۔ بینچ نے پنجاب حکومت کی جانب سے دائر درخواستیں خارج کردیں۔

Aleem uddin.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جسٹس سید منصورعلی شاہ پنجاب حکومت کی جانب سے ملے گی

پڑھیں:

طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کے لیے ایک اہم اقدام کرتے ہوئے آئندہ مالی سال میں 50ہزار الیکٹرک بائیکس اور 5 ہزار الیکٹرک ٹیکسیاں بلاسود فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق الیکٹرک بائیکس اور ای ٹیکسیوں کی بلاسود فراہمی کی تجویز کو آئندہ بجٹ میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔

اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو سستی اور ماحول دوست سفری سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب بلال اکبر خان کے مطابق ای ٹیکسی اسکیم کے تحت مستحق افراد کو آسان اقساط اور بلاسود فنانسنگ کی سہولت فراہم کی جائے گی جبکہ رجسٹریشن سمیت مختلف مراعات بھی دی جائیں گی۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور انہیں معاشی سرگرمیوں میں شامل کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔

بلال اکبر خان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔حکومت کی جانب سے اس اسکیم کی مزید تفصیلات اور اہلیت کے معیار آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں جاری کیے جانے کا امکان ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ