ڈاکٹر عافیہ کی 86 سال کی سزا کا مقصد سیاسی فوائد حاصل کرنا تھا،عافیہ موومنٹ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) عافیہ موومنٹ کے ترجمان محمد ایوب نے کہا ہے کہ قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو امریکی عدالت نے86 سال کی سزا کسی جرم کے عوض نہیں بلکہ سیاسی فوائد حاصل کرنے کے لیے سنائی تھی۔ انہوں نے کہا کہ 2003ء میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کو دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ جاری رکھنے کے لیے جواز درکار تھے۔ ڈاکٹر عافیہ بھی امریکا کی اسی شرمناک سیاست کی متاثرہ ہے، جسے اب مزید قید ناحق میں رکھنا انسانیت کی توہین ہے۔ وہ ڈاکٹر عافیہ کو23 ستمبر 2010ء کو امریکی جج رچرڈ برمن کی جانب سے 86 سال کی ظالمانہ سزا سنائے جانے کے 15 سال مکمل ہونے پر عافیہ موومنٹ، کراچی و صوبہ سندھ کے زیراہتمام ’’فری عافیہ بائیک ریلی‘‘ کے شرکاء سے خطاب کررہے تھے۔ ریلی کی قیادت عافیہ موومنٹ صوبہ سندھ کے صدر ایس کے مروت کررہے تھے۔ پُرامن ریلی کا آغاز نمائش چورنگی سے اور اختتام سندھ ہائی کورٹ پر ہوا۔ ریلی کے شرکاسے خطاب کرتے ہوئے ایس کے مروت نے کہا کہ آج ریلی کے انعقاد کا مقصد حکومت کو ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے فریضہ کی ادائیگی کی طرف توجہ دلانا ہے۔ انہوں نے کہا ریلی کے شرکاء کا جوش و خروش پاکستانی عوام کے جذبات کی عکاسی کررہا ہے۔ پاکستان کے عوام کا حکومت سے مطالبہ ہے کہ وہ عدلیہ کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے ڈاکٹر عافیہ کو وطن واپس لائے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی جیل میں ڈاکٹر عافیہ کے ساتھ جو غیر انسانی بدسلوکیاں ہورہی ہیں‘ حکومت اس کا نوٹس کیوں نہیں لے رہی ہے؟ عافیہ موومنٹ کراچی کے صدر شیخ محمد شکیل نے کہا کہ پاکستانی شہریوں کا دفاع سرحدوں کے دفاع سے کسی طرح بھی کم نہیں ہے۔ حکومت اور ریاستی ادارے ڈاکٹر عافیہ کی وطن واپسی میں حائل رکاوٹیں دور کریں، اس طرح شہریوں کا اپنی حکومت اور اداروں پراعتماد قائم ہو گا۔ ڈاکٹر عافیہ کی 86 سالہ سزا اور امریکی جیل میں تشدد باعث شرم ہے۔ ’’فری عافیہ بائیک ریلی‘‘ میں مسلم اسٹوڈنٹ آرگنائزیشن کراچی کے جنرل سیکرٹری فیضان ہزاروی، جمعیت علمائے اسلام کراچی کے رہنما شیرو بنگش، پاسبان ڈیمو کریٹک پارٹی لیاری کراچی کے رہنما اکرم آگریا، فضل ربی، امجد بلوچ، پاکستان پیپلز پارٹی کے میاں ریاض، عافیہ موومنٹ کراچی کے رضاکار پروفیسر تنویر ملک، الحاج حسین ہارون، امام حسین ہمدم، سعد ہمایوں، امان گل اور ڈاکٹر عافیہ کے سپورٹرز بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ڈاکٹر عافیہ کی نے کہا کہ کراچی کے
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :