امریکا کی نئی ویزا پالیسی بھارت کی آئی ٹی انڈسٹری کے لیے بڑا دھچکا
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
واشنگٹن/نئی دہلی: امریکا کی ایچ ون بی ویزا پالیسی میں بڑی تبدیلی کے بعد بھارت کی آئی ٹی انڈسٹری کو شدید نقصان کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے حال ہی میں امیگریشن محدود کرنے کے لیے ایچ ون بی ورکر ویزا کی سالانہ فیس ایک لاکھ ڈالر مقرر کی تھی، اور اب اس سے متعلق نیا ایگزیکٹو آرڈر نافذ ہو گیا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق نئی پالیسی ان افراد پر لاگو نہیں ہوگی جو پہلے سے ایچ ون بی ویزا رکھتے ہیں یا ری نیو کروا رہے ہیں، تاہم نئی درخواستیں دینے والوں پر بھاری فیس کا اطلاق ہوگا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے بھارت کی آئی ٹی انڈسٹری سب سے زیادہ متاثر ہوگی جبکہ چین اور پاکستان کے ٹیک پروفیشنلز بھی اس کی زد میں آئیں گے۔
امریکی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2024 میں جاری ایچ ون بی ویزوں میں بھارت کا حصہ 71 فیصد رہا، چین 11.
ڈیلس میں مقیم امیگریشن اٹارنی نعیم سکھیا نے کہا کہ نئی پالیسی کے بعد پاکستان کے آئی ٹی، انجینئرنگ اور تعلیم کے شعبوں میں اسپانسرشپ مزید مہنگی ہو جائے گی۔ البتہ نرسنگ اور ہیلتھ کیئر کے شعبے کو نیشنل انٹرسٹ کے تحت استثنیٰ دیے جانے کا امکان ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء
پشاور (بیورو رپورٹ) وزیراعلیٰ خیبر پی کے محمد سہیل آفریدی نے ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا باضابطہ اجراء کر دیا۔ جو 5 سٹریٹجک ستونوں، 9کلیدی اہداف، 32 تھیمیٹک ڈومینز، 915 سٹریٹجک اقدامات پر مشتمل ہے۔اس پالیسی کے تحت حکومتی خدمات مرحلہ وار آن لائن اور Citizen-Centric بنائے جائیں گی۔ پیپر لیس گورننس کے ذریعے شفافیت، جوابدہی اور سرکاری کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ ایک لاکھ سے زائد نوجوانوں کو AI اور ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت دی جائے گی۔ گرین آئی سی ٹی، کاربن فٹ پرنٹ میں کمی اور کاربن کریڈٹ رجسٹری پر کام کیا جائے گا۔ ڈیجیٹل اصلاحات سے عوام کو سرکاری دفاتر کے غیر ضروری چکر نہیں لگانے پڑیں گے۔