Jasarat News:
2026-06-03@04:15:27 GMT

ٹرمپ کی اردوان سے ملاقات ،تعریفوں کے پل باندھ دیے

اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

نیویارک (ما نیٹرنگ ڈیسک )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاو¿س میں ترک صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات میں ان کی تعریفوں کے پ±ل باندھ دیے۔ترک صدر رجب طیب اردوان کے وائٹ ہاو¿س پہنچنے پر صدر ٹرمپ نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔بعد ازاں ون آن ون ملاقات سے قبل ترک صدر کے ہمراہ میڈیا سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے انہیں بہترین آدمی قرار دیا اور کہاکہ صدر اردوان قابل احترام شخصیت کا درجہ رکھتے ہیں اور اپنی ایک مضبوط رائے رکھتے ہیں، مجھے عام طور پر ایسے لوگ پسند نہیں ہوتے لیکن انہیں میں پسند کرتا ہوں،اردوان نے ترکیہ کی ایک طاقتور فوج بنائی ہے اور امریکی ساختہ آلات کا وسیع استعمال کرتے ہیں۔ٹرمپ نے مزید کہا کہ صدر اردوان نے اپنے ملک میں بہترین کام کیا ہے اور ہمارے تعلقات بہترین رہے ہیں چاہے ان کا تعلق جنگ سے ہو یا تجارت سے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ روسی صدر پیوٹن اور یوکرینی صدر زیلنسکی دونوں صدر اردوان کی عزت کرتے ہیں، سب ہی ان کی عزت کرتے ہیں، میں بھی ان کی عزت کرتا ہوں اور اگر یہ چاہیں تو اس معاملے پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ٹرمپ نے کہا کہ صدر اردوان نیوٹرل رہنا پسند کرتے ہیں اور میں بھی نیوٹرل رہنا پسند کرتا ہوں،یوکرین جنگ کے معاملے پر جو بہترین کام یہ کرسکتے ہیں وہ یہ ہے کہ روس سے تیل اور گیس خریدنا چھوڑ دیں تو ترکیہ سے پابندیاں فوراً ہٹا سکتے ہیں۔ٹرمپ نے کہا کہ شام کو اس کے سابق حکمران سے چھٹکارا دلوانے کے ذمے دار صدر اردوان ہیں، یہ اس کی ذمے داری نہیں لیتے جبکہ یہ ان کی بڑی کامیابی ہے،صدر اردوان کو اس کا کریڈٹ لینا چاہیے، میں نے ان سے کہا بھی کہ یہ آپ کی کامیابی ہے، اس کا کریڈٹ لیں، آپ ہزار سال سے شام حاصل کرنا چاہتے تھے اور آپ اس میں کامیاب رہے۔قبل ازیںیمن کے نگراں صدر رشاد العلیمی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ ثابت کرے کہ بین الاقوامی قانون صرف ایک ”افسانہ“ نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ غزہ اوریمن کی صورتحال آج عالمی ضمیر کے لیے ایک اخلاقی کسوٹی بن چکی ہے، فلسطینی مسئلہ عرب عوام کا مرکزی مسئلہ ہے اور ایک ایسا زخم ہے جو مسلسل رس رہا ہے۔علاوہ ازیں چلی کے صدر گیبریل بورک نے اقوام متحدہ میں غزہ کے انسانی بحران پر بات کرتے ہوئے کہا کہ میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو ان کے خاندان کے ساتھ میزائل سے ٹکڑے ٹکڑے ہوتے دیکھنا نہیں چاہتا۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی تشکیل کو 80 سال مکمل ہوں گے، 1945ءکے بعد سے دنیا بہت زیادہ بدل چکی ہے پھر بھی کچھ چیزیں جوں کی توں ہیں۔انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے سلسلے میں کبھی کبھی بین الاقوامی برادری پر دہرے معیار کا الزام لگایا جاتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنے مخالفین کی مذمت کرتے ہیں لیکن جب کوئی مبینہ دوست اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کرتا ہے تو ہم آنکھیں پھیر لیتے ہیں یا ابہام کا اظہار کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود غزہ میں شہید کیے جانے والا فلسطینی نوجوان اور افغانستان میں اسکول سے نکالی جانے والی خواتین “سب سے بڑھ کر انسان ہیں،تمام اقوام کو اپنی آواز کو ان کے حق میں بلند کرنا چاہیے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ’نیتن یاہو اور فلسطینی عوام کی نسل کشی کے ذمے داروں کو بین الاقوامی فوجداری عدالت کے کٹہرے میں دیکھنا چاہتا ہوں۔علاوہ ازیں فلسطینی صدر محمود عباس نے کہا ہے کہ اسرائیلی درندگی پر عالمی خاموشی انصاف کے منہ پر طمانچہ ہے، غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے یہ جارحیت نہیں نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرم ہے۔اقوام متحدہ سے وڈیو لنک خطاب کرتے ہوئے انہوں نے عالمی برادری سے غزہ جنگ بندی کے لیے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا۔ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی قبضہ عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے، غزہ میں نسل کشی ہو رہی ہے، دنیا صرف دیکھ رہی ہے، اقوام متحدہ اپنی قراردادوں پر عملدرآمد میں مکمل ناکام رہا۔محمود عباس نے کہا کہ اسرائیل کو جوابدہ بنانا ہوگا ورنہ امن ممکن نہیں۔فلسطینی صدر کا کہنا تھا کہ وقت آ گیا ہے کہ دنیا فلسطین کو آزاد ریاست تسلیم کرے، عالمی برادری کے دہرے معیار نے ہمیں مایوس کیا، ہم پر جنگ مسلط ہے ، اسرائیلی حکومت مغربی کنارے میں اپنے ناپاک منصوبے کو آگے بڑھا رہی ہے ،غزہ فلسطین کا اٹوٹ انگ ہے، اسرائیل کی پشت پناہی میں یہودی آبادکار دن دیہاڑے فلسطینیوں کا قتل کر رہے ہیں،مزاحمت کرنا ہمارا حق ہے۔

مانیٹرنگ ڈیسک.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ صدر اردوان نے کہا کہ انہوں نے کرتے ہیں

پڑھیں:

ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت