ایشیا کپ کے فائنل میں بھارت سے شکست کیوں ہوئی؟ کپتان نے وجہ بتادی
اشاعت کی تاریخ: 29th, September 2025 GMT
قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا نے ایشیا کپ کے فائنل میں ناقص کارکردگی کا اعتراف کرلیا۔
دبئی میں کھیلے گئے ایشیا کپ ٹی ٹوئنٹی کے تاریخی فائنل میں بھارت نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد پاکستان کو 5 وکٹوں سے شکست دے کر نویں بار ٹائٹل اپنے نام کرلیا۔
یہ پہلا موقع تھا کہ 41 سالہ تاریخ میں پاک بھارت ٹیمیں ایشیا کپ کے فائنل میں مدمقابل تھیں۔
بھارت نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا، جس کے بعد پاکستانی ٹیم 19.
ہدف کے تعاقب میں بھارتی بیٹرز نے دباؤ کے باوجود آخری اوور میں 5 وکٹوں کے نقصان پر پاکستان سے فتح چھین کر ایشیا کپ کا ٹائٹل اپنے نام کرلیا۔
میچ کے بعد پریس کانفرنس میں قومی ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا نے کہا کہ ٹیم نے مجموعی طور پر اچھی کرکٹ کھیلی لیکن اختتامی اوورز میں ہم اپنی صلاحیت کے مطابق پرفارم نہ کرسکے۔
سلمان علی آغا نے کہا کہ ایشیا کپ میں پوری ٹیم نے ملکر جدوجہد کی جس پر فخر ہے اور مجموعی طور پر تمام کھلاڑیوں نے اچھا کھیل پیش کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :