ویمنز کرکٹ ورلڈ کپ 2025 کا سری لنکا میں آغاز، افتتاحی میچ میں بھارت اور میزبان ٹیم مدمقابل
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
آئی سی سی ویمنز کرکٹ ورلڈ کپ 2025 کے 13واں ایڈیشن کا آج سے باقاعدہ آغاز ہوگیا جس کا افتتاحی میچ بھارت اور سری لنکا کے درمیان سری لنکا کے بارساپارا کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلا گیا۔
یہ ون ڈے ایونٹ 34 دنوں تک جاری رہے گا جس میں 31 میچز شامل ہیں۔ ٹورنامنٹ کا فائنل 2 نومبر کو کھیلا جائے گا۔
اس ورلڈ کپ کی پہلی بار بھارت اور سری لنکا مشترکہ طور پر کی میزبانی کر رہے ہیں جس کے مقابلے 5 مختلف مقامات پر منعقد ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیے: ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 کے شیڈول کا اعلان، پاکستان کا پہلا میچ بھارت سے ہوگا
حالیہ ٹورنامنٹ کو خواتین کرکٹ کے لیے ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اس میں 13.
لیگ اسٹیج میں 8 ٹیمیں آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، انگلینڈ، جنوبی افریقہ، سری لنکا، پاکستان، بنگلہ دیش اور بھارت حصہ لے رہی ہیں۔
سیمی فائنل مقابلے 29 اور 30 اکتوبر کو ہوں گے جبکہ فائنل کا انعقاد ڈاکٹر ڈی وائی پٹیل اسٹیڈیم، نوی ممبئی میں ہوگا۔ البتہ اگر پاکستان فائنل کے لیے کوالیفائی کرتا ہے تو فیصلہ کن معرکہ کولمبو میں کھیلا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے: تیاری پوری ہے، بھرپور کارکردگی دکھائیں گے، ورلڈ کپ کے لیے سری لنکا روانگی سے قبل ویمنز کرکٹ ٹیم کا عزم
اس ایونٹ میں آئی سی سی، بی سی سی آئی اور پی سی بی کے درمیان معاہدے کے تحت پاکستان کے تمام میچز کولمبو میں کھیلے جائیں گے جن میں بھارت کے خلاف ہائی پروفائل میچ بھی شامل ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انڈیا سری لنکا کرکٹ ویمنز کرکٹ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انڈیا سری لنکا کرکٹ ویمنز کرکٹ ویمنز کرکٹ سری لنکا ورلڈ کپ کے لیے
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :