UrduPoint:
2026-07-24@15:23:39 GMT

غزہ: ’ٹرمپ امن معاہدہ‘ کا یو این چیف کی طرف سے خیرمقدم

اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT

غزہ: ’ٹرمپ امن معاہدہ‘ کا یو این چیف کی طرف سے خیرمقدم

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 30 ستمبر 2025ء) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ امن معاہدے کی تجویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے تمام فریقین سے اس پر عملدرآمد کی اپیل کی ہے۔

سیکرٹری جنرل کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ پائیدار امن معاہدے کے لیے عرب اور مسلمان ممالک کے اہم کردار کو سراہتے ہیں۔

7 اکتوبر کے حملوں کے بعد غزہ میں تباہ کن جنگ سے لوگوں کو پہنچنے والی بے پایاں تکالیف میں کمی لانا ترجیح ہونی چاہیے۔ Tweet URL

انہوں نے غزہ میں فوری اور مستقل جنگ بندی، انسانی امداد کی بلارکاوٹ فراہمی اور تمام یرغمالیوں کی فوری و غیرمشروط رہائی کے مطالبے کو دہراتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ ان اقدامات سے فلسطینی مسئلے کے دو ریاستی حل کو حقیقت بنانے کے لیے سازگار حالات جنم لیں گے۔

(جاری ہے)

بڑے پیمانے پر نقل مکانی

امریکہ کی جانب سے غزہ کے لیے پیش کردہ 20 نکاتی منصوبے نے جنگ بندی کی امیدوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے اداروں کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کی تکالیف میں کمی لانے کے لیے علاقے میں فوری امن قائم ہونا ضروری ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) کے ترجمان ریکارڈو پیریز نے جنیوا میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ شہر میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر لوگ نقل مکانی کر رہے ہیں جبکہ موسم سرما کی آمد پر ان کی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔

ان حالات میں فوری جنگ بندی اور بڑی مقدار میں انسانی امداد کی فراہمی ضروری ہو گئی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ جنگ سے تباہ حال علاقے میں گرتے ہوئے درجہ حرارت کے نتیجے میں مختلف طرح کے مسائل جنم لیں گے جن میں بچوں اور خاندانوں کی صحت کو لاحق خطرات میں اضافہ ہو جائے گا۔

المواصی میں بدترین حالات

ترجمان نے بتایا کہ شمال سے جنوب کی جانب نقل مکانی کرنے والے لوگوں کی بیشتر تعداد ساحلی علاقے المواصی میں مقیم ہے جہاں عارضی خیمہ بستیوں میں انہیں بدترین حالات کا سامنا ہے۔

غزہ شہر سے کم از کم چار لاکھ افراد نے نقل مکانی کی ہے۔ پورے غزہ کا صرف 18 فیصد علاقہ ایسا ہے جہاں سے نقل مکانی کے احکامات نہیں دیے گئے یا اسے عسکری زون میں شامل نہیں کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ یونیسف نے 11 ہزار خیمے اور ترپالیں تیار رکھی ہیں جنہیں اجازت ملتے ہی کسی بھی وقت غزہ میں بھیجا جا سکتا ہے۔ تاہم فی الوقت امداد پہنچانے کے لیے حالات سازگار نہیں ہیں۔

امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (اوچا) کے ترجمان جینز لائرکے نے کہا ہے کہ غزہ میں امداد تقسیم کرنے میں بہت سی مشکلات درپیش ہیں۔ گزشتہ دنوں علاقے میں لائی گئی امدادی خوراک کی بدولت بڑے پیمانے پر کھانا تیار کرنے کے مراکز کو ضروری سازوسامان کی فراہمی ممکن ہو سکی ہے۔ گزشتہ اتوار کو غزہ بھر میں ایسے 137 مراکز کے ذریعے تقریباً 660,000 کھانے تیار اور تقسیم کیے گئے تھے۔

امدادی خوراک کی لوٹ مار

جینز لائرکے نے کہا ہے کہ امدادی ٹیموں کو امداد جمع اور تقسیم کرنے کی اجازت دینے کی صورت میں ہی زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے مستفید ہو سکتے ہیں۔ تاہم کبھی امدادی ٹیموں کو امدادی کارروائی کی اجازت مل جاتی ہے اور کبھی نہیں ملتی۔ بعض اوقات اسرائیل کی جانب سے سہولت کی عدم فراہمی اس کا سبب ہوتا ہے اور کبھی دیگر مسائل رکاوٹ بنتے ہیں۔

ترجمان نے بتایا کہ حالیہ دنوں غزہ میں پہنچنے والی امدادی خوراک کا بڑا حصہ بھوک سے ستائے لوگوں یا مسلح گروہوں نے ٹرکوں سے اتار لیا۔

انہوں نے موجودہ صورتحال کو انتہائی ابتر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ موثر، مربوط اور مکمل امدادی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کے لیے جنگ بندی ضروری ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے اقوام متحدہ کے کی جانب سے نقل مکانی کہا ہے کہ کے لیے

پڑھیں:

فیفا ورلڈکپ: ٹرمپ کی مداخلت پر فیصلہ تبدیل، ناروے کا فیفا کیخلاف بڑا اقدام اٹھانے کا فیصلہ

فیفا کی جانب سے امریکی فارورڈ فولارین بالوگن کی ایک میچ کی خودکار معطلی کا اقدام واپس لیے جانے کے فیصلے پر تنازع مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ناروے فٹبال فیڈریشن نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس معاملے پر فیفا کی ایتھکس کمیٹی میں باضابطہ شکایت دائر کرنے پر غور کر رہی ہے۔

بالوگن کو بوسنیا ہرزیگووینا کے خلاف میچ میں اسٹریٹ ریڈ کارڈ دکھایا گیا تھا جس کے باعث انہیں بیلجیئم کے خلاف پری کوارٹر فائنل سے باہر ہونا تھا۔

تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مداخلت کے بعد فیفا نے ان کی ایک میچ کی پابندی 12 ماہ کے لیے معطل کر دی جس کے نتیجے میں وہ بیلجیئم کے خلاف میدان میں اترے مگر امریکا کو 1-4 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

ناروے فٹبال فیڈریشن کی صدر لیزے کلاوینیس کے مطابق اس معاملے کو فیفا کی جانب سے ٹرمپ کو دیے گئے ’پیس پرائز‘ سے متعلق پہلے سے دائر شکایت کے ساتھ شامل کرنے پر غور کیا جائے گا۔

دوسری جانب بیلجیئم فٹبال فیڈریشن اور یورپی فٹبال تنظیم یوئیفا نے بھی فیفا کے فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے جبکہ فیفا نے بیلجیئم کی وضاحت طلب کرنے کی درخواست کو ناقابل سماعت قرار دے دیا۔

متعلقہ مضامین

  • آسٹریلیا نے جوہری آبدوزوں کے منصوبے کے لیے مزید 3.2 ارب ڈالر مختص کردیے، آکس معاہدے پر عملدرآمد تیز کرنے کا اعلان
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈ سے تباہی، 28 افراد جاں بحق، 47 گھر متاثر
  • فیفا ورلڈکپ: ٹرمپ کی مداخلت پر فیصلہ تبدیل، ناروے کا فیفا کیخلاف بڑا اقدام اٹھانے کا فیصلہ
  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا