UrduPoint:
2026-07-24@01:49:19 GMT

نیتن یاہو نسل کشی کے باوجود صاف بچ نکلا

اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT

نیتن یاہو نسل کشی کے باوجود صاف بچ نکلا

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 ستمبر2025ء) ٹرمپ کا مجوزہ امن منصوبہ اسلامی مالک کا سرینڈر قرار دے دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق تحریک تحفظِ آئین پاکستان کے رہنما مصطفٰی نواز کھوکھر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ مجوزہ امن منصوبے سے متعلق ردعمل دیتے ہوئے اسے اسلامی ممالک کا سرینڈر قرار دے دیا، انہوں نے کہا کہانیتن یاہو نسل کشی کے باوجود صاف بچ نکلا۔

جبکہ امریکی صدر کے غزہ کیلئے مجوزہ منصوبے پر مصنف اور سابق سفارتکار عبدالباسط نے کہا کہ یہ مسلم دنیا کی مکمل پسپائی ہے، انہوں نے دارالحکومت مشرقی بیت المقدس پر مشتمل فلسطینی ریاست کے قیام کا ذکر تک نہیں کیا۔انہوں نے کہاکہ فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر ابراہم معاہدوں میں شامل ہونا پاکستان کے لیے ایک سنگین غلطی ہوگی۔

(جاری ہے)

جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کی حمایت پر سابق وفاقی وزیر اسد عمر نے وزیراعظم شہباز شریف سے 7 سوالات پوچھ لیے۔

اس حوالے سے اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ شہباز شریف نے اپنے بیان کے ذریعے ٹرمپ کے امن منصوبے کی حمایت کرتے ہوئے فلسطین کے حوالے سے کئی دہائیوں سے جاری پاکستان کی پالیسی کو پلٹ دیا، انہوں نے یہ کام بغیر کسی قومی بحث اور قوم کے مینڈیٹ کے کیا ہے، اس ھوالے سے 7 سوالات ہیں جن کے جواب دینے کی ضرورت ہے، جن میں (1) پلان میں کہا گیا ہے کہ غزہ کو دہشت گردی سے پاک علاقہ بناجا جائے گا، اسرائیل کے بارے میں ایسا ہی کیوں نہیں کہا گیا؟ جو دنیا کا سب سے زیادہ بنیاد پرست ملک ہے اور عالمی امن کے لیے خطرہ ہے؟ (2) اسرائیلی یرغمالیوں کو فوری طور پر رہا کر دیا جائے گا لیکن اسرائیل غیرمتعینہ مدت میں مرحلہ وار فوجی انخلاء کرے گا، ہر امن معاہدے کو توڑنے کی اسرائیلی تاریخ کے ساتھ اس پر بھروسہ کیوں کیا جا رہا ہے اور فوری طور پر انخلاء کیوں نہیں ہو رہا؟۔

اسد عمر نے پوچھا کہ (3) آپ 20 لاکھ سے زیادہ کی آبادی کے لیے روزانہ صرف 600 ٹرک امدادی سامان کیسے فراہم کر سکتے ہیں، جن میں سے بہت سے لوگ فاقہ کشی کے دہانے پر ہیں؟ یہاں تک کہ جنوری 25ء کے معاہدے میں طے شدہ اس سطح کی بھی اسرائیل نے اجازت نہیں دی، (4) امریکہ کی زیر نگرانی ٹیکنو کریٹ حکومت، باقی دنیا کے لیے جمہوریت کے لیکچر اور غزہ کے لیے مؤثر طور پر نوآبادیاتی ٹیکنو کریسی کیوں؟۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ (5) غزہ میں حماس کا کوئی کردار نہیں ہوگا لیکن نیتن یاہو جس نے گزشتہ سال 5 خودمختار ممالک پر حملہ کیا اور 20 ہزار بچوں سمیت 66 ہزار سے زائد غزہ والوں کو قتل کیا، اسے مداخلت جاری رکھنے کی اجازت ہے؟(6) کہا جارہا ہے جب ری ڈویلپمنٹ کو آگے بڑھایا جاتا ہے تو فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے حالات ممکن ہیں یعنی دوسرے لفظوں میں کوئی دو ریاستی حل کئی دہائیوں تک اور شاید کبھی نہیں، آپ اس غداری کی حمایت کیسے کرسکتے ہیں؟ (7) غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کو روکنے اور خالی کرنے کے بارے میں معاہدے میں کوئی لفظ کیوں نہیں ہے؟۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے انہوں نے نے کہا کے لیے

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل