روز ویلٹ ہوٹل کیلئے مالی معاونت کی سمری مؤخر کردی گئی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
اسلام آباد:
کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی(ای سی سی)نےروزویلٹ ہوٹل نیویارک کے لیے مالی معاونت کی سمری مؤخر کردی ہے تاہم ہوٹل کی فوری ضروریات پوری کرنے کے لیے وزارت دفاع کو تخمینوں کا ازسرنو جائزہ لے کر معاملہ دوبارہ کمیٹی میں پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا اجلاس جمعرات کووفاقی وزیر خزانہ و ریونیو سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اسلام آباد میں منعقد ہوا، اجلاس میں وزارت دفاع کی جانب سے روزویلٹ ہوٹل، نیویارک کے لیے مالی معاونت سے متعلق سمری پر غور کیا گیا، یہ معاونت تکنیکی ضمنی گرانٹ (ٹی ایس جی) کی شکل میں طلب کی گئی تھی جو ہوٹل کے نیویارک سٹی کے ساتھ لیز معاہدہ ختم ہونے کے بعد درپیش مالی مشکلات کے تناظر میں تھی۔
کمیٹی نے ہوٹل کی فوری ضروریات پوری کرنے کی حمایت کرتے ہوئے وزارت دفاع کو ہدایت کی کہ تخمینوں کا ازسرنو جائزہ لے کر معاملہ دوبارہ ای سی سی میں پیش کیا جائے۔
اجلاس میں وزارت دفاع کی ایک اور سمری پر غور کیا گیا جس کا تعلق ڈیفنس کمپلیکس اسلام آباد کی تعمیر کے لیے حاصل کی گئی زمین کے مالکان کو نقد معاوضے کی فراہمی سے تھا، ای سی سی نے اس مقصد کے لیے 4 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری دی جو وزارت خزانہ فراہم کرے گی اور باقی رقم کی فراہمی کی ذمہ داری کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کو سونپ دی گئی ہے۔
وزارت داخلہ و انسداد منشیات کی درخواست پر ای سی سی نے امن و امان کی صورت حال برقرار رکھنے کے لیے 20 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی بھی منظوری دی، یہ فنڈز وزارت خزانہ کی مشاورت سے وزارت داخلہ کو ضرورت کے مطابق مرحلہ وار فراہم کیے جائیں گے۔
علاوہ ازیں خیبرپختونخوا (شمال) فرنٹیئر کور ہیڈکوارٹرز پشاور کی قانون نافذ کرنے سے متعلق ضروریات کے لیے وزارت داخلہ کو 17 کروڑ 48 لاکھ روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ بھی منظور کی گئی۔
اجلاس میں وزارت تجارت کی جانب سے پیش کردہ ایک مسودہ ایس آر او کی بھی منظوری دی گئی جس کا مقصد افغانستان، ایران اور روس کے ساتھ بزنس ٹو بزنس(بی ٹوبی) بارٹر ٹریڈ میکانزم میں ترمیم کرنا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: تکنیکی ضمنی گرانٹ وزارت دفاع کے لیے کی گئی
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔