ایم ڈبلیو ایم سندھ کے تنظیمی سیٹ اپ میں تبدیلی، علامہ مقصود ڈومکی اور علامہ حیات نجفی کو اہم ذمہ داریاں تفویض
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
شمالی سندھ کے لیے مولانا مقصود ڈومکی صاحب کو آرگنائزر مقرر کیا گیا ہے، جبکہ جنوبی سندھ کی ذمہ داری مولانا حیات عباس نجفی صاحب کے سپرد کی گئی ہے۔ دونوں شخصیات اپنی تجربہ کار قیادت اور متحرک کردار کے ذریعے تنظیمی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کریں گی۔ اسلام ٹائمز۔ چیئرمین مجلس وحدت مسلمین پاکستان، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے تنظیمی فعالیت اور امور کو مزید مؤثر بنانے کے لیے سندھ کی سطح پر اہم تنظیمی فیصلے کیے ہیں۔ اس سلسلے میں شمالی سندھ اور جنوبی سندھ کے لیے علیحدہ ورکنگ کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں۔ شمالی سندھ کے لیے مولانا مقصود ڈومکی کو آرگنائزر مقرر کیا گیا ہے، جبکہ جنوبی سندھ کی ذمہ داری مولانا حیات عباس نجفی کے سپرد کی گئی ہے۔ دونوں شخصیات اپنی تجربہ کار قیادت اور متحرک کردار کے ذریعے تنظیمی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کریں گی۔ تنظیمی فعالیت کی شفاف اور مربوط نگرانی کے لیے تین رکنی نظارت کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے، جس میں علامہ سید احمد اقبال رضوی، علامہ حسن ظفر نقوی اور علامہ باقر زیدی شامل ہیں۔ یہ کمیٹی تنظیمی امور پر نظر رکھے گی اور رہنمائی فراہم کرے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔