ہم میں سے کون نہیں جانتا کہ پیراسیٹامول (Acetaminophen) ہر گھر کی سب سے عام دوا ہے۔ بخار ہو، درد ہو یا تھکن ہو، ہمارا پہلا انتخاب یہی دوا ہے۔ مگر حالیہ دنوں میں ایک نہایت اہم تشویشناک خبر سامنے آئی ہے۔

امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (FDA) نے اپنے باضابطہ نوٹس میں خبردار کیا ہے کہ حمل کے دوران پیراسیٹامول کے مسلسل استعمال سے بچے کی دماغی نشوونما پر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، اور یہ خدشہ موجود ہے کہ اس کے نتیجے میں Autism اور ADHD جیسے مسائل کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

یہ کوئی معمولی افواہ نہیں۔ اس پر امریکی صدر ٹرمپ نے پبلک ہیلتھ اور میڈیکل ہیلتھ کے سرکردہ قائدین کے ہمراہ پریس کانفرنس میں امریکی حکومت میں پھیلی بےچینی و تشویش کا اظہار کیا ہے اور ایف ڈی اے نے اپنی ہدایات میں ڈاکٹروں اور عوام دونوں کو محتاط رہنے کا کہا ہے۔ 

یہ خدشہ کئی سال سے مختلف تحقیقی مطالعات (NEJM, JAMA, Lancet Psychiatry) میں اٹھایا جاتا رہا ہے کہ پیراسیٹامول اور بچے کی دماغی صحت کے درمیان ایک تعلق پایا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ تعلق ابھی حتمی طور پر ثابت نہیں ہوا، لیکن تعلق اور کچھ شواہد اتنے واضح ہیں کہ دنیا کی سب سے بڑی ریگولیٹری ایجنسی ایف ڈی اے نے احتیاط کا اعلان کر دیا ہے۔

آٹزم صرف ایک بچے کی مشکل ہی نہیں ہوتا بلکہ پورے گھر کی زندگی کو بدل دیتا ہے۔ والدین کے لیے سب سے بڑی اذیت یہ ہے کہ ان کا بچہ ان کی آنکھوں میں دیکھ کر بھی اکثر جواب نہیں دیتا، عام باتوں کو نہیں سمجھتا، اور چھوٹی سی تبدیلی پر شدید بے چینی میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اسکول میں دوسرے بچے آپس میں دوستی کر لیتے ہیں، مل کر کھیل لیتے ہیں، مگر آٹزم والا بچہ اکثر اکیلا رہ جاتا ہے۔ والدین دن رات یہ سوچ کر کوفت میں رہتے ہیں کہ ان کا بچہ کب اور کیسے دنیا کے ساتھ چل پائے گا، وہ کہاں تک خود کفیل ہو سکے گا، اور ان کے بعد اس کا کیا بنے گا۔ یہ وہ کرب ہے جو ہر دن، ہر لمحے ان کے دل کو کاٹتا ہے، اور جسے سمجھنے کے لیے محض کتابی علم کافی نہیں بلکہ دل کی گہرائیوں سے احساس ضروری ہے۔

پاکستان کے لیے یہ خبر خاص طور پر اہم ہے۔ ہمارے ملک میں پیراسیٹامول سب سے زیادہ استعمال ہونے والی دوا ہے، اکثر بغیر کسی ڈاکٹر کے مشورے کے۔ عام لوگ اسے بالکل محفوظ سمجھتے ہیں اور حمل کے دوران بھی خواتین روزانہ کئی دن تک استعمال کرتی ہیں۔ اس پس منظر میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا ہم بھی وہی غلطی دہرا رہے ہیں جو امریکی حکام اب تسلیم کر رہے ہیں؟

ذمے دارانہ رویہ یہ ہے کہ ہم گھبراہٹ پھیلانے کے بجائے سائنسی حقائق کو سامنے رکھیں۔ پہلی بات یہ کہ پیراسیٹامول اب بھی درد اور بخار کے لیے ایک مؤثر اور نسبتاً محفوظ دوا ہے، مگر حمل کے دوران اس کا استعمال صرف انتہائی ضرورت کے وقت اور ڈاکٹر کے مشورے سے مشروط کریں۔ دوسری بات یہ کہ حکومت، ریگولیٹری اتھارٹی اور میڈیکل کالجز کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر آگاہی مہم چلائیں، تاکہ عوام کو سمجھایا جا سکے کہ ’’محفوظ‘‘ دوا بھی بعض اوقات احتیاط مانگتی ہے۔

یہ وقت ہمارے لیے ایک امتحان ہے۔ اگر دنیا کی بڑی ایجنسی احتیاط برت رہی ہے، تو ہمیں بھی چاہیے کہ پاکستانی مریضوں کے حق میں احتیاط کو اپنائیں۔ دوا ساز کمپنیوں، فارماسسٹوں اور ڈاکٹروں کی ذمے داری ہے کہ وہ مریض کو صحیح مشورہ دیں، اور ریاست کی ذمے داری ہے کہ وہ عوام کو حقائق بتائے۔

ایک بات ہمیں یاد رکھنی چاہیے کہ عوام کا اعتماد صحت کے نظام پر اسی وقت قائم رہتا ہے جب ہم سچائی اور احتیاط کو سامنے رکھتے ہیں۔ پیراسیٹامول کی یہ مثال ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ علاج کے ساتھ ساتھ شفافیت اور ذمے داری بھی اتنی ہی ضروری ہیں۔ یہ ایک اور الارم ہے اگر ہم آج احتیاط اور سچائی کو اپنانے کا حوصلہ نہیں کر پاتے تو کل یہ اور اس طرح کے پر بولتے طوفان بے قابو ہوں گے۔
 

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: دوا ہے کے لیے

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف